سرزمین قبلۂ اول تاریخِ مسجد اقصیٰ✍️ صابر علی بابر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان جب تک مکہ میں تھے مسجد اقصیٰ کی طرف ہی منہ کرکے نماز پڑھتے تھے۔
بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ مسجد اقصی حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک مسلسل آباد رہی، اور حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں آنے والے طوفان کی وجہ سے وہ بھی منہدم ہوگئی۔
مسجد اقصی کی تعمیرنو
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے تین ہزار سال پہلے اس شہر کو کنعان کے لوگوں (یبوسیوں) نے جو عرب سے آکر یہاں آباد ہوگئے تھے، انہوں نے آباد کیا۔اس سرزمین کا نام (فلسطین) کنعان کے لوگوں سے شروع ہوا، اور یہی وہ لوگ ہیں جو صدیوں سے فلسطین میں رہتے آرہے ہیں۔بعض مورخین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان ہی یبوسیوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آنے سے پہلے مسجد اقصیٰ کی تعمیر نو بھی کی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ خانہ کعبہ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ مسجد الاقصیٰ کی تعمیر نو کی۔حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد بعد میں یہودی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد آگے جا کر مسلمان کہلائے۔
حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنی زندگی میں مسجد اقصیٰ کا خوب خیال رکھا، آپ سے ایک بیٹا پیدا ہوا جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے نام سے جانے جاتے ہیں اور پیغمبر بھی تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے تیرہ بیٹے تھے، جن میں سے ایک حضرت یوسف علیہ السلام تھے، جنہیں اللہ نے بہت سے فضائل بخشے اور وہ بہت ہی خوب صورت نوجوان تھے۔
اللہ تعالی نے قرآن میں ان کا قصہ کافی تفصیل سے ذکر کیا ہے کیوں کہ اس میں ہمارے لئے بہت سی سبق آموز چیزیں ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کے ہی زمانے میں حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد (بنی اسرائیل) مصر آ کر آباد ہوئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے چند سو سالوں بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مصر میں بھیجا، آپ کو حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو بچانے، اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا تھا۔
بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ساتھ مصر سے واپس فلسطین جانے کے لئے نکلے اور یہ سفر حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں مکمل ہوا۔حضرت داؤد علیہ السلام نے پھر سے مسجد اقصیٰ کی تعمیر کو شروع کرایا، جو کھنڈرات میں تھی۔ حضرت داؤد علیہ السلام اپنی وفات سے قبل یہ کام مکمل نہیں کرپائے اور وفات پاگئے۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام جو کہ خود بھی اللہ کے پیغمبر تھے، انھوں نے مسجد اقصیٰ کی تعمیرکو جاری رکھا اور اس تعمیر کو آپ ہی نے مکمل فرمایا۔
عراق کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم پر حملہ کیا
عراق کے بادشاہ بخت نصر نے ۵۸۷ قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کیا اور اس تعمیر کی اینٹ سے اینٹ بجادی، وہ یہودیوں کی عورتوں اور بچوں کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ بابل لے گیا، اور یہودیوں کے مذہبی صحیفے نذر آتش کرکے ایک لاکھ یہودیوں کو قیدی بھی بنالیا۔
مسجد اقصیٰ دوبارہ تعمیر ہوئی
پھر کچھ عرصے بعد بخت نصر کی حکومت کو زوال آگیا، اور ایران کے بادشاہ خورس نے بابل کو فتح کرکے تمام بنی اسرائیل کو یروشلم واپس جانے کی اجازت دے دی۔حضرت زکریا علیہ السلام کے نام سے منسوب منبر آج بھی مسجد کے احاطے میں موجود ہے جس کی تصویر دی جا رہی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان سے متعلق بہت سے اہم مقامات بھی مسجد الاقصیٰ کے ساتھ ساتھ ہی موجود ہیں۔جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا تو اس کے ستر سال گذر جانے کے بعد مسجد اقصیٰ پر روم کے لوگوں نے حملہ کرکے بہت تباہی اور بربادی پھیلائی۔مسجد اقصیٰ کی صرف چار دیواری کھڑی رہ گئی اس کے علاوہ مکمل مسجد منہدم ہوگئی اور یہ بنی اسرائیل پر بہت سخت وقت تھا۔ مسجد اقصیٰ آخری نبی کے آنے تک اسی طرح رہی۔
واقعہ معراج
وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانۂ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے ۔ (سورہ بنی اسرائیل، آیت: ۱)
اللہ نے خانہ کعبہ کو قبلہ مقرر کردیا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان جب تک مکہ میں تھے مسجد اقصیٰ کی طرف ہی منہ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ یہ مدت کل بارہ سالوں پر مشتمل ہے اور جب مسلمان مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تب بھی سترہ ماہ تک مسلمان مسجد اقصیٰ ہی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اب اپنا منہ مسجد اقصیٰ کو چھوڑ کر خانہ کعبہ کی طرف جو کہ مکہ میں واقع ہے، کرکے نماز پڑہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے ۔ اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔
اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لئے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے۔ (اے محمدؐ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانۂ کعبہ) کی طرف پھیرلو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔
اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں۔
اگر تم ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئی خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے۔ (سورہ بقرہ، آیت: ۱۴۲تا۱۴۵)
یروشلم فتح ہوا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ سال بعد مسلمانوں کا لشکر مختلف ممالک فتح کرتا ہوا یروشلم تک پہنچ گیا۔ اس وقت وہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔ وہ قلعہ بند ہوگئے۔ اور صلح کے لئے یہ شرط رکھی کہ مسلمانوں کے خلیفہ خود آئیں تو وہ انہیں شہر کی چابی حوالے کریں گے۔ چناں چہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ خود یروشلم گئے اور اس وقت وہاں پر قابض عیسائیوں سے معاہدہ کرکے یروشلم کو اسلامی حکومت کے ماتحت لے آئے۔
عہد نامہ صلح
یہیں اہل قدس کے نمائندے خلیفۃ المسلمین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صلح کی درخواست کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ درخواست منظور کی اور حسب ذیل عہد نامہ اپنے دستخطوں سے لکھ کر ان کو عطا فرمایا۔’’اللہ کے بندہ عمر امیر المؤمنین کی طرف سے اہل ایلیا (بیت المقدس) کو یہ امان نامہ دیا جاتا ہے۔
اہل ایلیا کی جان، مال، گرجوں، صلیبوں سب کو امان دی جاتی ہے۔ بیماروں، تندرستوں اور سب مذہب کے لوگوں کو یہ امان شامل ہے۔ وعدہ کیا جاتا ہے کہ نہ ان کے عبادت خانوں پر قبضہ کیا جائے گا نہ انہیں گرایا جائے گا۔ ان کے دینی معاملات میں کوئی مداخلت نہ کی جائے گی اور یوں بھی کسی کو کوئی تکلیف نہ دی جائے گی۔
البتہ ان کے پاس یہودی نہ رہنے پائیں گے۔ اہل ایلیا کا فرض ہے کہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں اور متحارب رومیوں کو اپنے شہر سے خارج کردیں۔ جو رومی شہر سے نکلے گا اس کی جان و مال سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ وہ اپنے وطن سلامتی کے ساتھ پہنچ جائے۔
اگر اہل ایلیامیں سے کوئی رومیوں کے ساتھ جانا چاہے تو وہ بھی جاسکتا ہے۔ لیکن اگر رومی بھی امن پسندانہ طور پر رہنا چاہیں تو انہیں بھی ان ہی شرائط کے ساتھ رہنے کی اجازت ہے۔ اس امان نامہ کی اللہ اور اس کا رسول اور آپ کے خلفاء اور جملہ مومنین ذمہ داری لیتے ہیں۔
قبۃ الصخرۃ کی تعمیر
بنو امیہ کے ایک خلیفہ جن کا نام عبد الملک بن مروان تھا، انہوں نے اسی مسجد (جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بنوائی تھی) اس کے اوپر ایک بڑی مسجد تعمیر کروائی، اس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بنائی ہوئی مسجد مکمل اس مسجد کے اندر ہی آگئی جو عبد الملک بن مروان نے تعمیر کروائی تھی۔ ابھی بھی یہی تعمیر قائم ہے، بعد میں مختلف اسلامی بادشاہوں نے اس کی مرمت کا کام جاری رکھا۔
اس کے علاوہ انہوں نے ایک اور نہایت وسیع اور عالی شان عمارت تعمیر کی جس کا نام قبۃ الصخرۃ ہے، جو ابھی بھی انہی بنیادوں پر قائم ہے۔ قبۃ الصخرۃ کا گنبد سنہری رنگ کا ہے، اور اس کی چار دیواری نیلے اور خوب صورت پتھروں سے منقش ہے۔
سنہ 1099ء میں صلیبی افواج نے یروشلم پر حملہ کیا
سنہ 1099ء میں عیسائیوں کی مشترکہ فوج جنہیں صلیبی افواج کہا جاتا ہے، انھوں نے یروشلم پر حملہ کیا اور پانچ ہفتوں کی مسلسل جنگ کے بعد یروشلم پر قبضہ کرلیا، اس دوران انہوں نے یروشلم میں کافی خون خرابا کیا اور ستر ہزار مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا
صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو آزاد کروایا
جب یروشلم پر صلیبی افواج قابض تھیں، مسلمان ہمیشہ متفکر رہتے تھے کہ کس طرح سے یروشلم کو صلیبیوں کے جابرانہ تسلط سے آزاد کرایا جائے، اور پھر سے اسے اپنی تحویل میں واپس لایا جائے، اسی فکر کے ساتھ مسلمان بادشاہ نور الدین رحمۃ اللہ علیہ نے اقصیٰ کے لئے ایک بہترین منبر بھی بنوایا تھا، تاکہ یروشلم کی آزادی کے موقع پر اسے اقصیٰ میں نصب کیا جائے، تاہم نور الدین بادشاہ اپنے اس مبارک ارادے کی تکمیل سے پہلے اپنی نوعمری میں ہی وفات پاگئے اور یروشلم کو صلیبیوں سے آزاد نہ کراسکے۔
اس کے بعد صلاح الدین ایوبی مسلمانوں کے بادشاہ ہوئے، جو بہت ہی بہادر بادشاہ تھے، انھوں نے پھر سے مسلمانوں کو جمع کیا، اور صلیبی افواج کے خلاف جنگ کی قیادت سنبھالی، سنہ 1187 عیسوی کے سال صلاح الدین نے صلیبی افواج کو شکست دی، اور یروشلم کو ایک بارپھر سے آزاد کروالیا۔ اور اس کے بعد صلاح الدین نے وہ خوب صورت منبر بھی مسجد اقصیٰ میں نصب کروادیا جو نور الدین بادشاہ نے مسجد اقصیٰ کے لئے بنوایا تھا۔ بدقسمتی سے یہ منبر ایک یہودی کے ہاتھوں سنہ 1969 عیسوی میں نذر آتش ہوگیا۔
تاریخ ملت سے کچھ اقتباسات
حروب صلیبیہ: سلطان نے حارم پر قبضہ کرنے کے بعد فرنگیوں سے معرکہ آرائی شروع کردی۔ 579ھ میں فوجیں جمع کرکے فرنگی علاقہ پر حملہ کردیا۔ متواتر چودہ سال تک نصاری سے جہاد کیا۔ شام کے تمام علاقے نصاری سے بہ قوت لے لئے۔ بیت المقدس فتح کیا۔ اسلام کے دشمن ریجی نالڈ کو قتل کیا۔
دوسرے عیسائی حکمران گامی، بالڈون، والڈ، کورنتی، جوسکن وغیرہ جو گرفتار تھے ان کی جان بخشی کی۔ اس معرکہ کے حالات ’’تاریخ ملت‘‘ کی جلد ششم میں بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس زمانہ میں موصل پر حملہ کیا۔ عزیز الدین نے اطاعت قبول کرلی۔
لین پول نے لکھا ہے: ’’جنگ مقدس خاتمہ کو پہنچی، پانچ برس کی مسلسل لڑائیاں ختم ہوئیں، جولائی 1187ء میں مطیق پر مسلمانوں کی فتح سے قبل دریائے اردن کے مغرب میں مسلمانوں کے پاس ایک انچ زمین نہ تھی۔ ستمبر 1192ء میں جب رملہ پر صلح ہوئی تو صور سے لے کر یافہ کے ساحل تک بجز ایک پتلی سی پٹی کے سارا ملک مسلمانوں کے قبضہ میں تھا۔‘‘
رواداری: صلیبیوں نے اپنی فتوحات کے موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کئے تھے۔ بیت المقدس جب نصرانیوں نے لیا ہے تو صرف مسجد صخرا میں ستر ہزار مسلمان قتل کئے تھے۔
مگر جب بیت المقدس کو صلاح الدینؒ نے فتح کیا تو عیسائیوں کو معمولی فدیہ لے کر بعزت و احترام نکلنے کا حکم دیا اور ان کے لئے زیارت کی عام اجازت مرحمت کی۔غرض یہ کہ سلطان نے اپنی فوج کو آرام کرنے کے لئے ان کے وطن واپس کردیا۔ چند ماہ بیت المقدس میں قیام کیا۔ شہر پناہ کی مرمت کرائی۔ خندق کھدوائی، شفاخانہ تعمیر کرایا۔
انتظام شہر امیر عزیز الدین جردیک کے سپرد کرکے شوال 588ھ میں حج کے ارادہ سے دمشق چلا گیا۔سلطان کے اہل و عیال دمشق میں موجود تھے وہیں اس کے بھائی ملک عادل کرک سے آگئے تھے۔ سارا خاندان نہایت امن و آرام کے ساتھ رہنے سہنے لگا۔ سلطان کو دمشق اس قدر پسند تھا کہ مصر جانے کا خیال بھی نہ کیا۔
وفات: کئی سال سے سلطان کی صحت بگڑ گئی تھی، جہاد کی مساعی میں اس نے کچھ خیال نہ کیا۔ رمضان کے روزے قضا ہوگئے تھے ان کو پورا کرنے لگا جو مزاج کے موافق نہ پڑے۔ طبیب نے روکا کہ صحت کے لئے اس وقت ملتوی کردیجیے۔ سلطان نے کہا: معلوم نہیں آئندہ کیا پیش آئے؟ اور کل روزے پورے کئے۔ جس سے صحت جواب دے گئی۔ وسط صفر 589ھ میں حالت بگڑنے لگی، مرض بڑھ گیا، غشی طاری ہوگئی۔ شیخ ابو جعفر نے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ 27 تاریخ دو شنبہ کے دن فجر کے وقت مجاہد اعظم نے جاں بحق تسلیم کی۔
برطانوی انگریزوں نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرلیا
1918عیسوی میں سب کچھ تبدیل ہوگیا جب کہ برطانوی حکومت نے یروشلم کو اسلامی حکومت سے چھین کر اپنے قبضے میں لے لیا، اور مکمل فلسطین کو اپنے زیر قبضہ لینا شروع کردیا۔
یہودیوں نے آزاد اسرائیلی ریاست کا اعلان کردیا
برطانوی قبضے کے بعد یہودی لوگ دنیا بھر سے یروشلم میں آکر رہائش پذیر ہونا شروع ہوگئے کیوں کہ دنیا بھر میں انہیں ظلم واذیت کاسامنا تھا۔ چند سالوں بعد ہزاروں کی تعداد میں یہودی لوگ فلسطین میں داخل ہوئے اور فلسطین میں انہوں نے اپنے لئے جگہیں خریدنا شروع کی، جب کہ فلسطینی مسلمان جوں کہ اس سرزمین سے پرانا تعلق رکھتے تھے، اور سینکڑوں سالوں سے اس جگہ بسے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے اپنی سر زمین کو چھوڑنے سے انکار کردیا۔
چناں چہ اس معاملے میں لڑائیاں شروع ہو گئیں کہ فلسطینی حضرات اپنی زمین کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھے جب کہ یہودی ان کی زمین کو زور زبردستی ہتھیانا چاہتے تھے، چوں کہ یہودیوں کی فوج مسلمانوں سے بہت زیادہ طاقتور تھی اس لئے فلسطین کی زیادہ تر زمین پر ان یہودیوں نے قبضہ کرلیا۔
مسجد اقصیٰ پر بھی یہودیوں نے قبضہ کرلیا
1967ء میں مزید لڑائیاں ہوئیں اور اس طرح یہودیوں نے مسجد اقصیٰ پر بھی قبضہ کرلیا، اور مکمل یروشلم کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔یہودیوں کا مسجد اقصیٰ سے متعلق دعوی ہے کہ اس پر ان ہی کا حق ہے۔ یہودیوں کا اس بات پر اصرار ہے کہ تاریخی تناظر میں یروشلم اور مسجد اقصیٰ پر ان ہی کا حق ہے، اور مسلمانوں کا اس پر کوئی حق نہیں۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ یروشلم سے مسجد اقصیٰ کو منہدم کرکے وہاں اپنا عبادت خانہ ہیکل سلیمانی (سولومن ٹیمپل) تعمیر کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے نبی داؤد اور سلیمان علیہ السلام نے یہاں یہودی عبادت خانہ تعمیر کیا تھا، لہٰذا آج بھی ہم ہی اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ اس جگہ اپنا عبادت خانہ تعمیر کریں، موجودہ عہد میں یہ اپنی عبادات دیوار براق کے پاس کھڑے ہوکر کرتے ہیں۔
یہودیوں کا دعوی غلط ہے، مسجد اقصیٰ پر مسلم کا حق ہے
لیکن ان کی یہ بات تاریخی لحاظ سے بھی غلط ہے۔ فلسطین پر عربوں کا حق ثابت کرنے کے لئے درج ذیل نکات تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نکات اس تقریر کا حصہ ہیں جو عالم اسلام کے بہترین حکمران سعودی عرب کے فرماں رواں شاہ فیصل مرحوم نے ایک بین الاقوامی سیمینار میں کی تھی: یہودی فلسطین کے اصل باشندے نہیں ہیں۔ یہودی یروشلم کے باہر سے آکر یروشلم پر قابض ہوئے تھے جو فلسطین پر طاقت سے مسلط ہونے کے بعد کچھ عرصہ فلسطین میں رہے اور اس کے بعد نکال دیے گئے۔
فلسطین میں ان کی موجودگی کا عرصہ نہایت مختصر رہا ہے۔ فلسطین میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے سے لے کر اب تک کبھی خالص یہودی حکومت قائم نہیں ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کوئی یہودی عبادت خانہ یروشلم میں تعمیر نہیں فرمایا تھا، بلکہ آپ اور آپ کے والد حضرت داؤد علیہ السلام نے مل کر اسی مسجد کی تعمیر کی تھی جو حضرت آدم علیہ السلام کے دور میں وہاں تعمیر ہوچکی تھی، جسے بعد ازاں ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی واپس اس کی بنیادوں پر استوار کیا تھا۔ تو یہ کوئی نئی تعمیر نہیں تھی بلکہ پرانی تعمیر کو دوبارہ کھڑا کیا تھا۔
فلسطین میں یہودیوں کی کبھی اکثریت نہیں رہی
جب فلسطین سے یہودیوں کو نکال دیا گیا تو اس میں صرف اس کے اصل باشندے ہی رہ گئے جو شروع سے لے کر آج تک وہیں رہ رہے ہیں۔ سولہ سو سال کی طویل مدت کے دوران فلسطین میں کبھی کوئی یہودی آباد نہیں رہا۔ عربوں کی حکومت تقریبا ساتویں صدی سے فلسطین میں رہی۔آج وہاں سیکڑوں تاریخی عمارات موجود ہیں جو عرب طرز تعمیر کا نمونہ ہیں۔
اس لئے تاریخی حقائق سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یروشلم یعنی فلسطین پر مسلمانوں ہی کا حق ہے، یہودی لوگ اس پر اپنا حق جو جتلاتے ہیں وہ سراسر دھوکا اور فریب ہے۔ کیوں کہ یروشلم میں حضرت آدم علیہ السلام نے جو مسجد صرف اللہ کی عبادت کے لئے تعمیر کی تھی، وہ مسجد آج بھی اسی جگہ موجود ہے اور وہاں صرف اللہ ہی کی عبادت ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مختلف زمانوں میں یہ مسجد گرتی رہی اور اس کی تعمیر نو ہوتی رہی۔٭



