بین الاقوامی خبریںسرورق

حوثیوں کیخلاف تازہ امریکی حملہ، صنعا میں ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا گیا

یمنی حوثیوں کا امریکہ اور برطانیہ کے فضائی حملوں کا بدلہ لینے کا عہد ِ شدید

صنعاء ؍ریاض، 13جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکی فوج اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے سرکاری میڈیا نے سنیچر کو اعلان کیا کہ امریکی افواج نے یمن میں حوثی ریڈار سائٹ پر تازہ حملہ کیا ہے۔ نیوز کے مطابق ایک بیان میں یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ اس حملے میں ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ملیشیا کی سمندری جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔سینٹکام نے سنیچر کو ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ حملہ یو ایس ایس کارنی (ڈی ڈی جی 64) نے ٹام ہاک لینڈ اٹیک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے کیا تھا اور یہ 12 جنوری کو کیے گئے حملوں سے وابستہ ایک مخصوص فوجی ہدف پر فالو آن ایکشن تھا، جسے حوثیوں کی سمندری جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

حوثی تحریک کے ٹیلی وژن چینل المسیرہ نے بھی اطلاع دی ہے کہ اس حملے میں یمن کے باغیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا میں الدیلمی بیس کو نشانہ بنایا گیا۔المسیرہ ٹی وی نے صنعاء میں اپنے نمائندے کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر پوسٹ کی کہ امریکی برطانوی دشمن دارالحکومت صنعا کو متعدد حملوں کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے۔اس میں مزید کہا گیا کہ امریکی برطانوی جارحیت نے دارالحکومت صنعا میں الدیلمی اڈے کو نشانہ بنایا۔یہ تازہ حملہ امریکی اور برطانوی جنگی طیاروں، بحری جہازوں اور آبدوزوں کے جمعے کو کیے گئے فضائی حملوں کے ایک دن بعد ہوا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے حوثی فورسز کے خلاف کئی مہینوں سے بحیرہ احمر کی جہاز رانی پر حملوں کے جواب میں یمن بھر میں راتوں رات درجنوں فضائی حملے کیے تھے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ دنیا کی اقتصادی طور پر اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک میں تجارتی اور فوجی جہازوں پر حملے بند نہیں کرتے تو وہ مزید حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔بائیڈن نے جمعے کو پنسلوانیا میں ایک سٹاپ کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اگر حوثیوں نے یہ اشتعال انگیز رویہ جاری رکھا تو ہم انہیں جواب دیں گے۔

امریکی حملے کا نشانہ بننے والے حوثیوں کے مراکز کی تباہی فوٹو منظر عام پر

دبئی، 13جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)کل جمعہ کی صبح امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے یمن میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر کیے گئے دسیوں حملوں کے بعد ان سے ہونے والی تباہی کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔سیٹ لائٹ کی مدد سے لی گئی تصاویر میں حوثیوں کے مراکز میں ہونے والی تباہی کو دیکھا جا سکتا ہے۔امریکی مسلح افواج کی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے یمن میں حوثیوں کے ایک ریڈار اسٹیشن پر حملہ کر کے اسے تباہ کیا ہے۔سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے جنگی جہاز ’یو ایس ایس کارنی‘ سے داغے گئے ٹوما ہاک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے حوثی ریڈار کی تنصیب کو نشانہ بنایا۔ جب کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے حوثیوں کے حملے جاری رہنے کی صورت میں مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔یہ بیان یمن کے قلب میں حوثی باغیوں کے مختلف اہداف پر کئی فضائی حملوں کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

دریں اثنا MAXAR Technologies نے کئی سیٹلائٹ تصاویر شائع کیں جن میں حوثی فوجی اڈوں پر بمباری کی وجہ سے ہونے والی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔ تصویروں میں حملوں سے پہلے اور بعد میں ان مقامات کو دکھایا گیا ہے جو حملوں کے بعد مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔کل جمعہ کو امریکی فضائیہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے حوثیوں کے 16 مقامات پر 60 اہداف کے خلاف حملے کیے، جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، گولہ بارود کے گوداموں، لانچنگ سسٹمز، مینوفیکچرنگ سہولیات اور فضائی دفاعی ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں پر حملوں میں 100 سے زیادہ گائیڈڈ میزائل داغے گئے اور جہازوں اور آبدوزوں سے داغے گئے ہوائی جہاز اور ٹوماہاک میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ہتھیاروں، گولہ بارود اور میزائل لانچنگ سائٹس پر مشتمل مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔یہ حملے طیاروں، بحری جہازوں اور آبدوزوں کا استعمال کرتے ہوئے یمن کے متعدد شہروں ذمار، صنعا، صعدہ، تعز اور حدیدہ میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر کیے گئے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ یمن پر حملہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کے جواب میں کیا گیا اور یہ دفاعی تھا۔صدر بائیڈن نے پنسلوانیا میں اپنے دورے کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب میں حوثی مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بارے میں کہا کہ یہ حملے حوثیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔


یمنی حوثیوں کا امریکہ اور برطانیہ کے فضائی حملوں کا بدلہ لینے کا عہد ِ شدید

صنعاء؍ریاض، 13جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)یمن کی حوثی ملیشیا نے بحیرہ احمر میں ان کے حملوں کے ردعمل میں ان کے زیر کنٹرول علاقوں پر امریکہ اور برطانیہ کے فضائی حملوں کے خلاف انتقامی کارروائی کا عہد کیا ہے۔خبر کے مطابق سینکڑوں حوثی ہمدرد صنعا اور دیگر شمالی یمنی صوبوں کی سڑکوں پر نکل کر حملوں کی مذمت اور غزہ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ نے جمعے کی صبح صنعاء، حدیدہ، تعز، حجہ اور صعدہ میں مختلف مقامات پر 73 فضائی حملے کیے، جن میں ان کے پانچ فوجی ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔انہوں نے بحیرہ احمر میں یا زمین پر امریکہ اور برطانیہ کے اہداف پر جوابی حملہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمارے یمنی عوام پر غیر قانونی حملے کی پوری ذمہ داری امریکہ اور برطانیہ پر عائد ہوتی ہے، اور ایسا نہیں کہ اس جواب نہیں دیا جائے گا یا سزا نہیں دی جائے گی۔ یمن کی فوجی قوتیں یمن، اس کی خودمختاری اور اس کی آزادی کے دفاع کے لیے زمینی اور سمندر میں دشمن اہداف پر حملہ کرنے سے دریغ نہیں کریں گی۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ اس نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں 60 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں، جن میں کمانڈ سینٹرز، اسلحہ ڈپو، لانچنگ سسٹم، صنعتی تنصیبات اور فضائی دفاعی ریڈار سسٹم شامل ہیں۔

صنعاء، حدیدہ اور تعز میں لوگوں نے حوثی فوجی تنصیبات سے بڑے دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی جب امریکہ اور برطانیہ نے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 2.45 بجے ان پر حملہ کرنا شروع کیا۔یہ کارروائیاں بحیرہ احمر میں تجارتی اور بحری جہازوں پر 20 سے زیادہ حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئیں۔حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ اسرائیل کو غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

گروپ کی سپریم انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے فضائی حملوں کو ’وحشیانہ اور دہشت گرد‘ قرار دیا اور کہا کہ ملیشیا دونوں ممالک کے خلاف ردعمل ظاہر کرے گی اور بحیرہ احمر کو اسرائیل جانے والے تمام بحری جہازوں کے سامنے روکنا جاری رکھے گی۔الحوثی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’امریکی اور برطانوی حملے وحشیانہ، دہشت گردانہ اور بلاجواز ہیں جو ایک ظالمانہ نفسیات کو ظاہر کرتے ہیں۔حوثیوں کے مذاکرات کار محمد عبدالسلام نے برطانیہ اور امریکی بمباری کی مذمت کا اعادہ کیا اور ملیشیا کے اس دعوے کی تصدیق کی کہ وہ صرف اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور بحیرہ احمر کی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے اس جارحیت کے ساتھ حماقت کا ارتکاب کیا، اور اگر وہ سمجھتے تھے کہ یہ یمن کو فلسطین اور غزہ کی پشت پناہی کرنے سے روک لیں گے تو وہ غلطی پر تھے۔ یمن اپنی مذہبی اور انسانی حیثیت کو برقرار رکھتا ہے اور غزہ کی حمایت کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ان فضائی حملوں نے یمن میں ایک بحث کو جنم دیا ہے۔ بنیادی طور پر حوثی مخالفین نے فضائی حملوں کی بھرپور حمایت کی اور یمن میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے حوثیوں کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر نے فضائی حملوں کو جارحیت کے طور پر دیکھا اور کہا کہ یہ یمن میں عدم استحکام کو ہوا دیں گے۔


ہر ایک امریکی حملے کا مسکت اور شافی جواب دیا جائے گا: عبد الملک الحوثی

حوثی گروپ کے رہنما عبدالملک الحوثی نے جمعرات کو ایک ٹیلی وژن تقریر میں کہاکہ یمن کے حوثی باغیوں پر کسی بھی امریکی حملے کا جواب دیئے بغیر نہیں رہ سکتے ، بلکہ ہر ایک حملے کا مسکت اور شافی جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی ردِعمل حالیہ حملے سے بڑا ہو گا جس میں گروپ کے ڈرونز اور میزائلوں نے بحیرۂ احمر میں ایک امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔انہوں نے کہاکہ کوئی بھی امریکی حملہ بے جواب نہیں جائے گا۔

جواب اس حملے سے بڑا ہو گا جو بیس ڈرونز اور متعدد میزائلوں سے کیا گیا تھا۔یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی مزاحمت کاروں نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف احتجاج کے طور پر بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔ نقل و حمل کی مختلف کمپنیوں نے افریقہ کے گرد طویل سفر کرنے کے بجائے تجارتی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔الحوثی نے کہا کہ ہم اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے زیادہ پرعزم ہیں اور ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button