سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

لاقانونیت کو مذہب و عقیدے کا نام دیتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں

✍️ حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئی

ملک میں مذہب کے نام پر قوانین سے کھلواڑ کرنا عام بات ہوگئی لاقانونیت کو مذہب سے جوڑتے ہوئے یا عقیدے کا نام دیتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ملک کی ترقی اور امن وامان پر توجہ دینے کی بجائے قانون کو بگاڑنے کا کام کیا جارہا ہے سماج میں نفرت پیدا کی جارہی ہے سماج کے دو بڑے طبقات کے مابین دوریاں اور خلیج پیدا کی جارہی ہے انہیں ایک دوسرے سے متنفر کیا جارہا ہےایک دوسرے کا دشمن بنایا جا رہا ہےمذہبی مقامات اور عبادت گاہوں پر دعوے کرتے ہوئے ماحول کو پراگندہ کیا جارہا ہے بابری مسجد مسئلہ کو عدالت کے ذریعہ آستھا یا عقیدہ کے نام پر مسلمانوں سے لے لینے کے بعد فرقہ پرست عناصر کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور اب وہ دوسری مساجد کو نشانہ بنانے پر تل گئے ہیں۔اس کیلئے عدالت کا سہارا لیا جارہا ہے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں کسی بھی عبادت گاہ کے تعلق سے دعوی کرنا خود ملک کے قانون کے خلاف ہے۔ ہندوستان میں ایک قانون بنایا گیا تھا جس کے تحت 15 اگست 1947 کو جس کسی عبادت گاہ کا جوبھی موقف تھا اسے برقرار رکھا جائے گا تاہم اب اس قانون سے کھلواڑ کیا جارہا ہے اور گیان واپی مسجد پر دعوی کرتے ہوئے مقامی عدالت کے ذریعہ احکام جاری کردیے گئے ہیں۔ یہاں عقیدہ یا آستھا کوہی ایک بار پھر بنیاد بنایا جارہا ہے۔

حالانکہ جو قانون ملک میں 1991 میں بنایا گیا تھا اس کے تحت کسی بھی عبادت گاہ کےموقف کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا فریقین کے نمائندے بھی عدالتوں میں اس قانون کے تحت پیروی نہیں کررہے ہیں اور جو مخالف وکلاء ہیں وہ صرف الٹ پھیر اور نت نئے دعوؤں کے ذریعہ عدالتوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں اب دوسری مساجد کونشانہ بناتے ہوئے مہم شروع کردی گئی ہے اور اس کے ذریعہ قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہےاس قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور پھر جو احکام جاری کئے جارہے ہیں اسے بھی قانون کا ہی نام دیا جارہا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ قانون کے رکھوالے ہی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں سارا ملک جانتا ہے کہ ملک میں اس طرح کا قانون موجود ہے اسکے باوجوداپنے بے بنیاد دعووں کومنطقی موقف دلانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس میں یہ لوگ کامیاب بھی ہورہے ہیں آج ملک میں جو حالات ہیں وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ سبھی گوشے ملک کی ترقی اور بہتری کیلئے کام کر یں۔ نزاعی اور اختلافی مسائل کو فراموش کردیا جائے مذہب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کا موقع نہ دیا جائے معیشت کے استحکام کیلئے کام کیا جائے بیروزگاری کو دور کرنے کیلئے حکمت عملی اختیار کیجائے ۔

مہنگائی کو کم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جائیں ۔ عوام پر جو مسلسل بوجھ عائد کیا جارہا ہے اس کو کم کرتے ہوئے انہیں راحت پہونچانے کی سمت کوششیں کی جائیں ۔ تاہم ان تمام اہم مسائل کو نہیں پس پشت ڈالتے ہوئے مذہبی کو سہارا بناتے ہوئے آئندہ انتخابات کی تیاریاں کر لی گئی ہیں بابری مسجد مسئلہ کوئی برسوں سے سیاسی ترقی کیلئے بی جے پی نے استعمال کیا کچھ عناصر نے اس میں بی جے پی کی ممکنہ حد تک بالواسطہ مدد بھی کیا اب جبکہ بابری مسجد مسئلہ کو عدالت کے ذریعہ آستھا کے نام پر لے لیا گیا ہے تو پھر دوسری مساجد کونشانہ بنایا جارہا ہے حالانکہ ان مساجد کا موقف برقرار رکھنے سے متعلق ملک میں قانون موجود ہے حکومتوں کو اسے قانون کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے لیکن ایسا کیا نہیں جارہا ہے۔

مسلمانوں کے جو نمائندے ایسے مسائل میں فریق ہیں انہیں اس قانون کو بنیاد بناتے ہوئے عدالتوں میں اپنا موقف پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔صرف بیان بازیاں کرنے اور مذہبی جذبات کا استحصال کرنے کی بجائےحقیقی معنوں میں عدالتوں میں پیروی کرتے ہوئے اپنے موقف کو موثر اور مدلل انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے اس پر سیاست کرنے کا جوسلسلہ شروع کیا جارہا ہے اس کو یہیں پر روکا جانا چاہئے ملک کے ماحول کو مزید پراگندہ ہونے سے بچانے کیلئے سبھی گوشوں کو سنجیدہ کوششیں کرنے اور عبادت گاہوں اور مساجد کا تحفظ کرنے اور ان کا موقف جو آزادی کے وقت تھا اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button