سرورققومی خبریں

اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے سبب لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لئے ملتوی

نئی دہلی ، 27 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پیگاسس #جاسوسی کیس ، مہنگائی اور کسانوں کے معاملات پر #اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی آج پورے دن متاثر رہی اور نو التواء کے بعد بالآخر کارروائی پورے دن کے لئے ملتوی کردی گئی کم از کم حالیہ چند برسوں میں ایوان کی کارروائی اتنی بار ایک دن میں ملتوی نہیں کی گئی تھی۔ کانگریس ، ترنمول کانگریس ، بائیں بازو ، عام آدمی #پارٹی ، شرومنی اکالی دل ، #نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں نے گذشتہ سال پارلیمنٹ کے منظور کردہ زرعی قوانین اور مہنگائی کے سلسلے میں مانسون سیشن کے پہلے دن سے ہی ایوان میں ہنگامہ کررہے ہیں۔

نو مرتبہ ایوان کی کارروائی کے التوا کے بعد شام ساڑھے چار بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی اپوزیشن ارکین نے ایک بار پھر ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ وہ اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر چیئرپرسن ڈائس کے قریب پہنچ گئے۔ پریذائیڈنگ چیئرمین راجیندر اگروال نے جنتا دل یونائیٹڈ کے کویتا سنگھ اور تیلگو دیشم پارٹی کے جے دیو گلا کو رول 377 کے تحت اپنا نقطہ نظر رکھنے کا موقع دیا۔

مسٹر اگروال نے نعرے بازی کرنے والے ممبروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس جائیں اور دوسرے ممبروں کو اپنی رائے رکھنے دیں۔ انہوں نے بار بار اپوزیشن اراکین کو راضی کرنے کی کوشش کی لیکن جب ان کی اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں نے بدھ کی صبح 11 بجے تک ایوان کو ملتوی کردیا۔
مونسون اجلاس کے دوران اپوزیشن ممبروں کی طرف سے مسلسل ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان میں ایک دن بھی ٹھیک سے کام نہیں ہوسکا۔

جو بھی چھوٹا سا کام ہوا ہے ، وہ بھی #شوروغل کے درمیان۔ لوک سبھا نے اب تک اس سیشن میں دو بل منظور کیے ہیں ، لیکن کسی پر بھی بحث نہیں کی جاسکی ہے۔ اب تک چھ اجلاسوں میں سے ایک بھی دن وقفہ سوال مکمل نہیں ہوا ہے .اور نہ ہی کسی مسئلے پر بحث ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button