اپوزیشن کے ہنگامےکے سبب لوک سبھا کی کارروائی کل تک ملتوی-اسپیکرنے سخت کارروائی کاعندیہ دیا
نئی دہلی، 29 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پیگاسس #جاسوسی-اسکینڈل، مہنگائی اور نئے زراعتی قوانین پر حزب اختلاف کی پارٹیوں کے ہنگامہ کے سبب لوک سبھا جمعرات کے روز دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔دو مرتبہ التواء کے بعد، تیسری بار دوپہر دو بجے جیسے ہی ایوان زیریں کی کارروائی شروع ہوئی، #کانگریس، ترنمول کانگریس، بائیں بازو کی پارٹیوں سمیت متعدد اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر، نعرے لگائے اور چاہ ایوان کے قریب جمع ہوگئے۔
#ائیرپورٹ اکنامک ریگولیٹری اتھارٹی آف #انڈیا ترمیمی ایکٹ 2021 اور ان لینڈ ویسل بل -2021 کو لوک سبھا نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے ہنگامے کے درمیان بحث کے بغیر منظور کرلیا۔
دریں اثناء، مشتعل ارکان نے ایوان کے کام کاج میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ایوان میں ہنگامہ دیکھ کر #پریزائیڈنگ آفیسر نے ایوان کی کارروائی جمعہ کے صبح 11 بجے تک ملتوی کردی۔اس سے قبل، پریزائڈنگ آفیسر راجندر اگروال نے ہنگامہ کے دوران وقفہ سوالات شروع کیا اور ایوان کی میز پر مختلف وزارتوں کے کام کاج سے متعلق اہم کاغذات رکھوائے۔ بعد میں، ایوان میں بڑھتے ہوئے ہنگامے کو دیکھ کر کارروائی دوپہر 12.15 سے دو بجے تک ملتوی کردی گئی۔
آج صبح ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہیں، پیگاسس جاسوسی اسکینڈل، مہنگائی اور زراعتی قوانین کے مسائل پر ہنگامہ کے دوران، نشست صدر کی طرف کاغذات پھینکنے کے واقعے پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان نوک جھونک ہوئی۔اس واقعہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ اس طرح کا واقعہ پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہے۔
اراکین سے ایوان کا وقار بحال رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے مسٹر اوم برلا نے کہا کہ "نشست صدر کی توہین کرنا ہماری پارلیمانی روایات کے مطابق نہیں ہے، اگر ہم پارلیمنٹ کے وقار کا خیال نہیں رکھیں گے تو ہماری جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی۔ میری کوشش ہے کہ میں تمام ممبروں کو اپنی بات پیش کرنے کے لئے کافی وقت اور موقع دوں اور میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کا احترام کروں۔
کیا آپ کل کے واقعہ کو پارلیمانی وقار کے مطابق سمجھتے ہیں، کیا آپ اسے باجواز سمجھتے ہیں؟ ہم اسے جمہوریت کا مندر سمجھتے ہیں اور ہم سب کو یقین ہے کہ اسپیکر سب کے ساتھ انصاف کریں گے۔ اگر کبھی اسپیکر کے بارے میں کوئی سوال ہو، تو آپ حجرے میں آکر کہیں، میں کوشش کروں گا کہ اسپیکر کے وقار کو بڑھانے کے لئے آپ کے مشوروں کو قبول کروں۔ لیکن ہم سب کو اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم جمہوریت کے وقار کو کیسے بڑھا سکتے ہیں”۔
مسٹر برلا نے کہا کہ "آپ ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہیں اور لاکھوں لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ یہ مناسب سمجھتے ہیں تو آپ اس ایوان کی وقار کو کس طرح بڑھا سکتے ہیں اس کی خاطر اجتماعی کوشش کرنی چاہئے۔ بہت سارے ممبران واقعات کو مسلسل دوہرارہے ہیں۔ میں ایسے ممبروں سے گزارش کرتا ہوں کہ ایسے واقعات کو نہ دوہرائیں جو پارلیمنٹ کے وقار کے مطابق نہیں ہیں۔ اگر اس طرح کے واقعات دوہرائے جاتے ہیں تو ایسے ممبروں کے خلاف پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے سخت کارروائی کرنی پڑے گی۔
کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں اسپیکر کی عظمت برقرار رکھنے کے لئے شروع سے ہی تعاون کر رہی ہیں۔ اسی وجہ سے، پارلیمنٹ کے کام کی پیداوری شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہمیں ایوان میں اپنے خیالات ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔
دریں اثناء، پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے مداخلت کی اور کل کے واقعہ پر بات کی۔ کل کے واقعے پر معافی مانگنی چاہئے۔ کیا اسپیکر پر اور مجھ پر کاغذ پھینکنا ٹھیک ہے؟اس معاملے پر حزب اقتدار اور اپوزیشن کے مابین نوک جھونک شروع ہوگئی، جس کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔



