
✍️ خیال اثر مالیگانوی
ہماری یہ دنیا عجیب و غریب واقعات سے بھری پڑی ہے. کل یوگ میں بھی آئے دن کل جگ کے نت نئے تماشے سانسیں روک دینے کا سبب بنا کرتے ہیں. بعض واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں دیکھ اور سن کر کبھی زبانیں گنگ ہو جایا کرتی ہیں تو کبھی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات کی بجائے آنکھیں خون کے آنسو روتی دکھائی دیتی ہیں. شاید اسی لئے کہا گیا ہو کہ "کہہ گئے رام سیا سے ایسا کل جگ آئے گا. ہنس چگے گا دانہ دنکا اور کوا موتی کھائے گا ” کل یوگ کی ایسی ہی ایک کہانی گزشتہ دنوں بریلی میں پیش آئی جب ایک لڑکی نے اپنی ہی ماں تایا تائی اور ماماؤں کے خلاف پولیس تھانے میں شکایت درج کروائی کہ اس کی ماں نے ہی خود اسے روپیہ کمانے کی مشین جان کر جسم فروشی کی دلدل میں پھینک دیا تھا.
لڑکی نے اپنی شکایت میں خود اس پر بیتی کہانی جب من و عن پولیس تھانے میں سنائی تو پولیس آفیسران کے بھی رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ کس طرح ایک ماں نے ہی اپنی کوکھ سے جنمی بیٹی کو روپیہ کمانے کی مشین جان کر قحبہ خانوں کی زینت بنا دیا تا کہ وہ زندہ گوشت کی تجارت کرتے ہوئے اپنی ماں کے لئے سامان تعیش فراہم کرنے کا سبب بن جائے. لڑکی نے جب اس کار فعل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تو اس کی ماں نے اپنے دو بھائیوں کی طرف روانہ کردیا جو کہ ممبئی میں رہائش پذیر تھے.
پہلے تو لڑکی کی ماں کے دونوں بھائیوں نے اپنی ہی بھانجی کے جوان جسم سے اپنے ابال کھاتے لہو کی جنسی پیاس بجھائی پھر اس کے بعد اسے ایک بیئر بار میں بے ہودہ نیم برہنہ رقص کرنے پر مجبور کرتے ہوئے بگڑے ہوئے امیر زادوں کی جنسی شہوت کو سرد کرنے پر مامور کردیا. 20 سالہ یہ نوجوان لڑکی نے اپنی ماں کے خلاف شکایت میں بتایا کہ 10 سال پہلے اس کی ماں خود بھی جسم فروشی کے کاروبار سے منسلک تھی لیکن ایک سال قبل اس 20 سالہ لڑکی کی ماں نے ایک عیاش اجنبی نوجوان سے پہلے تو ڈھیر سارے روپیے وصول کر لئے اور پھر زبردستی اسی کے ساتھ جسمانی رشتہ استوار کرنے پر مجبور کردیا. یہ اس اولین جنسی رشتے کی کارستانی تھی کہ اس کی ماں روز بروز نت نئے عیاش پسند گاہکوں کو لاتے ہوئے اپنی بیٹی کو مجبور کیا کہ وہ ان کی جسمانی پیاس بجھانے کا ذریعہ بن جائے.
یہ سلسلہ جب بڑھتا گیا تو ایک بار پھر اس 20 سالہ لڑکی نے روزانہ اپنے نرم گداز جسم کو بری طرح نوچنے کھسوٹنےسے نالاں و بیزار ہوئی تو اپنی ہی ماں کے سامنے سینہ تانے کھڑی ہو گئی تب ماں نے جواب دیا کہ جب روپیہ آسانی سے چل کر آرہا ہے تو یہ سلسلہ بند کرنا کیا معنی رکھتا ہے اور اس میں کوئی ہرج یا مضائقہ بھی نہیں کیونکہ میں برسوں خود اس کاروبار سے منسلک رہی ہوں اور تمہاری پیدائش کا سبب بھی یہی کاروبار رہا ہے.
ساتھ ہی تمہیں نومولودگی سے لے کر اس عمر تک پرورش و پرداخت میں لگنے والے تمام خرچ بھی اسی کاروبار سے دستیاب ہوئے ہیں. متاثرہ نے جب پولیس تھانہ میں ایک ایک کرکے اس پر بیتی داستان خونچکاں بیان کی تو تھانہ میں موجود تمام پولیس آفیسران بھی انگشت بدنداں رہ گئے. سگے رشتوں کی پامالی اور ہوس زدہ انسانوں کی تن آسانی نے نہ صرف انسانیت کو شرمسار کیا بلکہ سگے رشتوں میں بھی ایسی خلیج حائل کردی کہ جسے پاٹنا نا ممکنات میں شمار کیا جا سکتا ہے.
ہندوستانی تاریخ میں بھی انسانیت کو شرمسار کردینے والی یہ کہانی اس دور کی یادیں تازہ کر دیتی ہیں جب ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں جنگل راج نافذ العمل رہا تھا اور کسی رشتوں کے تقدس کا خیال رکھا نہیں جاتا تھا. آج چونکہ دنیا ایک ترقی یافتہ معاشرے کی شکل میں رشتوں کی ایک مقدس ڈور سے بندھی ہوئی ہے لیکن جب بھی یہ مقدس ڈور ٹوٹتی ہے اور اس میں پروئے گئے دانے بکھر جایا کرتے ہیں تو ایسی ہی نازیبا اور ہوسناک کہانیاں جنم لیا کرتی ہیں. شکایت کا اندراج ہوتے ہی پولیس والوں نے پہلے تو 20 سالہ متاثرہ کی ماں کو تفتیش کے لئے طلب کیا اور متاثرہ کی ماں سے ہی خطیر روپیے حاصل کرنے کے بعد شکایت کندہ بیٹی کو اس کی ہی ماں کے سپرد کرکے روانہ کردیا.
ماں کے حوالے جب اس کی کماؤ بیٹی کو کیا گیا تو اس نے ایک بار پھر اپنی بیٹی کو اپنے بھائیوں کی جانب ممبئی روانہ کردیا. پھر یوں ہوا کہ پچھلے ماہ کی تاریخ 16 مئی کو جب یہ ممبئی میں موجود ایک ڈانس بار سے خود پر روپیوں کی بارش ہونے کے بعد واپس لوٹی تو رقص کی تھکن اپنے بدن سے نوچ پھیکنے سے قبل یکے بعد دیگرے اپنے دونوں ماماؤں سے کہا کہ اب اس کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے اور وہ نہ تو اب ناچنے گانے کی کوشش کرے گی نہ ہی اپنے جسم کی تجارت میں ملوث ہوناچاہے گی. لڑکی کے دونوں ماما نے اس پر زبردست پابندیاں عائد کرتے ہوئے اسے تقریباً قید کر رکھا تھا لیکن کسی نہ کسی طرح یہ 20 سالہ جوان لڑکی اپنی ماں کے سگے بھائیوں کا جال توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئی اپنے شہر بریلی پہنچ کر اپنی ماں اور دونوں ماما کے ساتھ ساتھ اس پولیس آفیسر کے خلاف بھی شکایت درج کروائی جس نے اپنی شکایت درج کروانے کے باوجود اس کی ماں سے خطیر روپیے وصول کرتے ہوئے اسی بد چلن ماں حوالے کردیا تھا جس کے خلاف اس نے شکایت درج کروائی تھی کہ یہی وہ ماں ہے جس نے اسے روپیہ کمانے کی مشین جان کر زبردستی جسم فروشی کے کارخانوں کی زینت بنا دیا تھا.
ممبئی میں جب یہ 20 سالہ جوان لڑکی روز بروز اپنے جسم کی توڑ مروڑ سے عاجز آئی اور ڈانس بار میں رقص کرنے کی سکت نہ رہی تو ایک بار پھر اس نے اپنی رہی سہی قوتوں کو مجتمع کرنے کے بعد وہاں سے بھاگ نکلی. ایک بار پھر وہ بریلی پہنچی اور اس بار اس نے ماضی کی غلطیاں نہ دہراتے ہوئے برائے راست ایس ایس پی سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی درد ناک آب بیتی سنا ڈالی کہ اس پر کیا کچھ بیت رہی ہے. ایس ایس پی کو یہ بھی بتایا کہ اس کی ماں تایا تائی اور دونوں ماماؤں نے دبئی میں موجود کسی امیر و کبیر شخص سے خطیر رقم کے عوض اس کا سودا کر لیا ہے اور اب بہت ہو گیا ہے.
اس کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے اس لئے اسے خود اس کے سگے رشتوں سے بچایا جائے. تا حال ایس ایس پی کے ذریعے تفیش کچھوے کی رفتار سے جاری ہے اور ابھی تک خاطی افراد قانون و عدلیہ کی دست و برد سے دور ہیں لیکن یہ طے ہے کہ "بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی. ایک نہ ایک دن تو اسے قصاب کی چھری کی نیچے آنا ہی ہوگا "گناہ کم ہو یا زیادہ یا پھر انتہائی گھٹیا طور پر تنزلی کا شکار ہو. گناہ تو پھر گناہ ہی ہوا کرتا ہے اور جب ایسا کوئی ہوس پرستانہ گناہ منظر عام پر آتا ہے تو کل جگ کی کارفرمائیاں اسے انجام دینے والے خطاکار افراد پر اپنا شکنجہ کچھ اس طرح کس لیا کرتی ہیں کہ ان کا بچ نکلنا نا ممکنات میں شمار کیا جاتا ہے. آج نہیں تو کل اس گناہ عظیم کے تمام خطا کاران جب قانون و عدلیہ کی دسترس میں ہوں گے تو اگر یہ چاہیں گے بھی کہ کسی طرح ان کے اس گناہ عظیم کا کفارہ ادا ہو جائے تو وہ نہ کر پائیں کیونکہ تمام خطا کاران بلکہ ایک ماں نے ہی اپنی کوکھ سے جنمی اپنی جوان بیٹی کو زبردستی ایسے غلیظ و رذیل فعل میں مبتلا کرکے اس کے جسم کا سودا کرتی رہی جو دنیا کی کوئی بھی ماں سوچ بھی نہیں سکتی.
آج کی ہماری یہ ترقی یافتہ دنیا روپیہ کمانے کی ایک ایسی مشین میں تبدیل ہو گئی ہے جہاں اکثر رشتوں کا تقدس کوئی معنی نہیں رکھتا. اگرچہ برسوں پہلے ساحر نے کہا تھا کہ "عورت نے جنم دیا مردوں کو. مردوں نے اسے بازار دیا "لیکن اس کے برعکس یہاں یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ایک عورت ذات نے اپنی ہی کوکھ سے ایک عورت ذات کو جنم دیا اور جب وہ بلوغیت کی حدوں تک پہنچنے لگی تو اسے ہی جنس بازار بنا دیا تاکہ وہ ایک ہوس پرست ماں کے لئے تن آسانی اور سامان تعیش مہیا کرنے کا سبب بن جائے.



