ایران کی پھر گیدڑ بھبکی: عسکری گروپ اسرائیل کیخلاف کسی بھی صورت حال کے لیے تیار
حزب اللہ غزہ کی جنگ میں شامل ہوگی یا نہیں
تہران؍دبئی، 4نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی تنظیمیں اور خطے کے مختلف گروپ اسرائیل کے خلاف کسی بھی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے اپنے شامی ہم منصب فیصل مقداد کے ساتھ ایک فون کال میں اشارہ کیا کہ اسرائیل اور امریکہ غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے نتائج کے ذمہ دار ہیں۔اسرائیل کے ساتھ لبنانی سرحد پراسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے اس بات پر زور دیا کہ ایران غزہ میں لڑائی سے اسرائیلی افواج کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوج اسرائیل کی شمالی سرحد پر ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی خطرے کا جواب دے گی۔جمعے کے روز حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد پہلی تقریر کی ہے۔ اس خطاب کا لبنانی تنازع سے تعلق رکھنے والے افراد انتظار کر رہے تھے۔
اس سے یہ واضح ہوگا کہ آیا حزب اللہ غزہ کی جنگ میں شامل ہوگی یا نہیں۔اسرائیل کی سرزمین پر حماس کے غیر مسبوق حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے پہلے دن سے ہی فلسطینی حزب اللہ نے اعلان کیا کہ وہ حماس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس نے جنوبی لبنان سے اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا، جس کے جواب میں لبنان کے سرحدی شہروں اور دیہاتوں پر بمباری کی گئی۔اسرائیلی فوج نے اسرائیل کی طرف گولہ باری کے جواب میں ایک عمارت کو تباہ کرنے کے علاوہ لبنان میں حزب اللہ کے ایک کمپاؤنڈ کے اندر دہشت گردوں کے سیل کو ختم کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔



