بین الاقوامی خبریں

انخلا کا کام مکمل ہونے تک مشن جاری رہے گا،جو بائیڈن

نیویارک ، 21اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صدر جو #بائیڈن نے کہا ہے کہ جولائی سے اب تک 18000 سے زائد افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے، جن میں امریکی شہری، اور 20 سال تک امریکی #فوج کے ساتھ کام کرنے والے #افغان باشندے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ #انخلا کا کام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ مشن مکمل نہیں ہو جاتا۔جمعہ کے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی صدر نے کہا کہ طالبان سے رابطے کے دوران ان پر یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ جن حضرات کے پاس #پاسپورٹ اور #قانونی کاغذات ہیں انھیں کابل ہوائی اڈے تک پہنچنے سے نہ روکا جائے۔

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں #طالبان اب تک تعاون کر رہے ہیں، اور امریکہ نے ان پر واضح کر دیا ہے کہ کسی رکاوٹ کی صورت میں سخت رد عمل کے لیے تیار رہیں۔صدر نے کہا کہ ان تمام افراد کو افغانستان سے باہر نکالا جا رہاہے جن کی جان کو خطرہ لاحق ہے، ان میں خواتین راہنما اور #صحافی بھی شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ نیویارک ٹائمز، #واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کی انتظامیہ سے قریبی رابطہ ہے اور افغانستان سے ان اخباری اداروں سے وابستہ 204 ملازمین کے انخلا کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں، صدر نے کہا کہ افغانستان میں داعش طالبان کی سخت دشمن ہے۔صدر بائیڈن نے کہا کہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا انخلا ہے اور واحد ملک جو دنیا کے اس پار سے اتنی قوت اور انتہائی درست طریقے سے اس سطح کی کارروائی کر سکتا ہے وہ امریکہ ہے۔ 14 اگست کے بعد سے ہم 18,000 لوگوں کو افغانستان سے نکال چکے ہیں اور جولائی کے بعد سے یہ تعداد لگ بھگ 30,000 ہے اور ایک ہزار سے زیادہ امریکی حکومت کی مدد سے نجی اور خصوصی پروازوں کے ذریعے نکالے گئے ہیں۔

اس تعداد میں امریکی شہری، افغان شہری اور اسپیشل امیگریشن ویزا (ایس آئی وی) کے ذریعے درخواست دینے والے اور ان کے اہلِ خانہ شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہونا چاہئے کہ انخلا کا یہ مشن خطرناک ہے اور اس سے ہماری مسلح فورسز کو بھی خطرہ ہے۔ اور یہ مشکل حالات میں جاری ہے۔ میں یہ یقین نہیں دلا سکتا کہ حتمی نتیجہ کیا ہوگا مگر ‘کمانڈر ان چیف’ کی حیثیت سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں تمام ضروری وسائل استعمال کروں گا۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے ہفتے افغانستان کے مسئلے پر غور کے لیے جی-7 کا اجلاس ہو رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ کابل ائیر پورٹ سے پروازوں کی آمد و رفت کو زیادہ منظم بنا کر ہم نے لوگوں کو افغانستان سے نکالنے کی رفتار میں اضافہ کیا ہے۔صدربائیڈن نے کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں اور رفقا کو بھی پروازیں مہیا کر رہے ہیں اور ہمارے آپریشنز نیٹو کے ساتھ بھی مربوط ہیں۔

مثال کے طور پر ہم نے 3فرانسیسی سفارت خانے سے لوگوں کو ایئرپورٹ تک لانے میں مدد دی۔ ہماری کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہمارا مشن پورا نہیں ہو جاتا۔ایک دفاعی اہلکار نے بتایا ہے کہ اب تک امریکی فوج کے سی 17 کے ٹرانسپورٹ #طیاروں کی 16پروازوں کے ذریعے کابل سے تقریباً 5700 افراد کا انخلا عمل میں لایا گیا ہے، جن میں لگ بھگ 250 امریکی شہری شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button