ماں نے لاٹری میں 75 لاکھ کا انعام جیت لیا، ماں کا کیا قتل بیٹا لالچ میں شیطان بن گیا –
مغربی بنگال کے ضلع نادیہ کے نودویپ میں ماں نے 75 لاکھ کا لاٹری ٹکٹ جیتا لیکن پیسے کے لالچ نے بیٹے کو شیطان بنا دیا اور اس نے اپنی گرل فرینڈ سے مل کر اسے قتل کردیا
کولکتہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مغربی بنگال کے نادیہ ضلع کے نودویپ Nabadwip میں ماں نے لاٹری ٹکٹ سے 75 لاکھ جیتے تھے۔ لیکن پیسے کے لالچ نے بیٹے کو شیطان بنا دیا اور اس نے اپنی گرل فرینڈ سے مل کر اسے قتل کر دیا۔ نودویپ تھانے کی پولیس افسر سپریہ ساہا کے قتل کے معاملے میں ایک خاتون سمیت تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ گرفتار ہونے والوں میں کنال ہلدار، نین ملاکر اور شکلا بسواس شامل ہیں۔ پولیس نے کہا کہ شکلا اس پورے منصوبے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔پولیس کے مطابق سپریا کو قتل کرنے کے بعد گرفتار کیے گئےملزمین میں سے (kunal)کنال نے ایک بار اپنی سم مقتولہ کے فون میں ڈال کر استعمال کیا۔ اسی ذرائع کی بنیاد پر پولیس کو کامیابی ملی۔پولیس نے تین افراد کو گرفتار کرلیا۔
جمعہ کی شام پولیس نے سب سے پہلے کنال ہلدر کو جال بچھا کر گرفتار کیا۔ اس سے پوچھ گچھ میں مزید دو افراد کے نام سامنے آئے۔ اسے گرفتار بھی کر لیا گیا۔جئے ساہا نے انٹرم ضمانت ہائی کورٹ سے لی تھی اور جئے ساہا نے پولیس سے دعویٰ کیا کہ وہ گھر میں داخل ہوا او ر اس کی ماں کی نعش کمبل میں لپٹی ہوئی ملی، لیکن متوفی کی بیوی سبیتا ساہا کے بیان پر جئے کو گرفتار کرلیا گیا۔ وہ اب پولیس کی حراست میں ہے۔
بیٹا پیسے کے لیے ماں پر دباؤ ڈالتا رہا، نہ ملنے پر سازش رچی
پولیس کے مطابق جئے ساہا کا شکلا سے رشتہ دو سال پرانا ہے۔ جئے اپنی ماں پر پیسوں کے لیے دباؤ ڈالتا رہا۔ بالآخر ناکام ہو کر، وہ شکلا سے کہتا ہے کہ وہ کسی طرح سپریا سے رقم وصول کرے۔ پھر شکلا نے سپریا کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ کنال نے جرح کے دوران پولس کو بتایا کہ تین ماہ قبل شکلا نے اسے بتایا کہ جئے کے گھر کی الماری میں 50 لاکھ روپے اور سونے کے زیورات ہیں۔ اگر وہ جئے کی ماں کو قتل کرنے کے بعد رقم لے کر آتا ہے تو اسے دس لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ کنال 14 ستمبر کی رات تقریباً 9 بجے ایک دوست نین ملاکر کے ساتھ سپریا کے گھر گیا۔
پہلے سے واقف ہونے کی وجہ سے وہ باآسانی اندر داخل ہوسکتا تھا لیکن اس نے گھر کی کھڑکی سے داخل ہوگیا۔ الماری توڑنے پر وہاں سے رقم یا زیورات نہ ملنے پروہ فرار ہوگیا۔شبہ کیا جارہا ہے کے مقتولہ کی موت گلا گھونٹا گیا۔وہ سپریا کا فون اپنے ساتھ لے گیا۔
کنال نے ایک بار اس فون میں اپنا سم کارڈ لگاکر استعمال کیا۔ کنال نے اس واقعہ کے ایک دن بعد 16 ستمبر کو نودویپ شہرچھوڑ دیا۔ سپریا کے وکیل وکاس منڈل شروع سے ہی کہہ رہے ہیں کہ ان کی موکل سپریا کی موت کے پیچھے جائیداد یا پیسہ ایک وجہ ہے۔ نودویپ پولس اسٹیشن کے آئی سی ابھیجیت چٹوپادھیائے نے کہا گرفتار کیے گئے تمام لوگوں نے قبول کیا ہے کہ وہ قتل میں ملوث تھے۔جمعہ کو جب جئے ساہا کو عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے چھ دن کی پولیس تحویل میں دے دیا۔



