گوشہ خواتین و اطفال

چوہا اور نادان چوزہ✍️عافیہ امینہ دہلی

شبو مرغی بڑے جتن سے اپنا ایک انڈا بچا پائی تھی کیونکہ اس کے سارے انڈے ناشتے میں کھالئے گئے تھے۔ بیچاری شبو اسے لے کر ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ بیس بائیس دن کی محنت کے بعد انڈے کا چھلکا توڑا تو چوزا باہر آگیا۔ شبو کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ چوزا بڑا چنچل اور شریر تھا۔ ایک روز شبو دانہ چگنے جب باہر جانے لگی تو اس نے چوزے کو نصیحت کی کہ یہاں سے کہیں نہیں جانا۔ ماں جب باہر چلی گئی تو چوزہ پورے گھر میں گھومنے پھرنے لگا۔ ایک کونے میں اسے چوہے کا بل دکائی دیا۔ چوہا بھی پورے گھر میں خوراک تلاش کرنے کے بعد بل میں واپس آیا تھا۔

اس نے چوزے کو دیکھا تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ دل ہی دل میں کہنے لگا: ’’ہائے اتنا پیارا چوزہ!‘‘ اس کے من میں کھوٹ آگیا وہ سوچنے لگا کاش! اس کے نرم وملائم اور ریشمی پر مل جائیں تو میں اپنا گدا بناکر سکون کی نیند سو سکوں۔ اس نے بل میں سے ہی آواز دے کر چوزے سے کہا: ’’پیارے سے ننھے منے چوزے مجھ سے دوستی کروگے؟ ہاں ہاں! کیوں نہیں، چوزہ نے خوش ہوکر کہا اور چوہے سے پوچھا ’’کیا تم واقعی مجھے اپنا دوست بناؤگے؟ کیوں نہیں! چوہے نے جھٹ سے جواب دیا اور کہا کہ میں تمہیں یہاں کے علاوہ محلے کے دوسرے گھروں کی سیر کراؤں گا، مالکن کے کچن روم میں لے جاکر اچھے اچھے کھانے کھلاؤں گا۔ سچ مچ چوزہ چہک اٹھا۔ اور چوہے کی چکنی چپڑی باتوں میں آگیا۔ چوہا ترکیب سوچنے لگا کہ کس طرح اس کے پر کترے جائیں۔ سو اس نے کہا دوست میرے گھر نہیں آؤگے؟

چوزے نے کہا کیوں نہیں؟ دوستی کی ہے تو اس کو نبھاؤں گا بھی۔’’ اتنا کہہ کر چوزہ چوہے کے بل میں گھسنے لگا، لیکن وہ اس چھوٹے سے سوراخ میں کہاں جاپاتا؟ اس کی گردن اس میں پھنس گئی۔ چوہا فوراً اس کے نرم وملائم اور ریشمی کپڑوں کو کترنے لگا۔ چوزہ بولا: میرے دوست مجھے بہت درد ہورہا ہے اور مجھے گھٹن محسوس ہورہی ہے کہیں میرا دم نہ نکل جائے۔ پیارے چوزے تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ بل کا سوراخ بڑا کررہا ہوں چوہے نے چالاکی سے کہا۔

جب چوہا چوزے کے پر کتر رہا تھا اس وقت مرغی دانہ چگ کر واپس آگئی۔ اس نے جو اپنے بچے کی گردن چوہے کی بل میں پھنسی دیکھی تو تڑپ اٹھی اور کوششوں کے بعد اسے بل سے باہر کھینچ لیا۔ جھٹکا لگنے سے چوزے کا پر کترنے میں مصروف چوہا بھی بل سے باہر آگیا۔ شبو اس کی چالاکی سمجھنے کے بعد غصہ سے بھرگئی۔ اس نے چوہے کے جسم پر اتنی قوت سے چونچ ماری کہ وہ درد سے بلبلا اٹھا اور روتا ہوا بل میں گھس گیا۔

دوسری طرف چوزا اپنی ماں کے ساتھ جب پانی کے برتن کے پاس گیا تو اس میں اپنا عکس دیکھا اور اپنی بگڑی ہوئی حالت دیکھ کر زور زور سے رونے لگا کیونکہ اس کی گردن کے پاس سے سارے پر صاف ہوگئے تھے۔ شبو نے اسے پیار کرتے ہوئے سمجھایا کہ کوئی بات نہیں میرے لعل یہ بچپن کے پر ہیں کچھ دنوں کے بعد تمہارے دوسرے پر آجائیں گے، پھر اسے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ میں نے تمہیں گھر سے جاتے ہوئے جو نصیحت کی تھی تم نے اس پر کوئی عمل نہیں کیا جس کے نتیجے میں نقصان اٹھایا۔ ہاں! امی جان اب میں آپ کی ہر بات مانا کروں گا، چوزے نے شرمندگی سے دوسری طرف چوزا اپنی ماں کے ساتھ جب پانی کے برتن کے پاس گیا تو اس میں اپنا عکس دیکھا اور اپنی بگڑی ہوئی حالت دیکھ کر زور زور سے رونے لگا کیونکہ اس کی گردن کے پاس سے سارے پر صاف ہوگئے تھے۔

شبو نے اسے پیار کرتے ہوئے سمجھایا کہ کوئی بات نہیں میرے لعل یہ بچپن کے پر ہیں کچھ دنوں کے بعد تمہارے دوسرے پر آجائیں گے، پھر اسے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ میں نے تمہیں گھر سے جاتے ہوئے جو نصیحت کی تھی تم نے اس پر کوئی عمل نہیں کیا جس کے نتیجے میں نقصان اٹھایا۔ ہاں! امی جان اب میں آپ کی ہر بات مانا کروں گا، چوزے نے شرمندگی سے جواب دیا اور اپنی ماں کا لایا ہوا دانہ چگنے میں مصروف ہوگیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button