مفتی محمد منصور عالم رحمانی
آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے ایک نکاح نامہ ترتیب دیا تھا جو لائبریری اور آفس ریکارڈ کی زینت کے سوا کچھ نہیں ہے۔مسلم پرسنل لاءبورڈ کی جانب سے تیار شدہ نکاح نامہ کے بارے میں اہل علم اور قضاة کرام کا تبصرہ ہے کہ : فالتو نکاح نامہ ہے وہ ، کسی بھی کام کا نہیں ہے۔
اس لئے ؛نکاح نامہ کی ترتیب جدید میں قضاة کرام، وکلاءاور مفتیان کرام کی ایک مستقل کمیٹی تشکیل دی جائے جن کی مشترکہ محنت و توجہ اور نظر ثانی سے جدید نسخہ کی ترتیب عمل میں آئے۔آج کے حالات میں (جب کہ تین طلاق کیا،سبھی طرح کی طلاقیں نشانے پرہے،طلاق حسن اورطلاق بائن بھی عدالت میں ہے،یعنی کل ملاکرطلاق ہی قبول نہیں ہے،بلکہ کچھ عناصرچاہتے ہیں کہ مسلمان ان کی طرح کورٹ کے چکرکاٹیں اوردس بیس سال کی مدت ان کونکاح ختم کرنے میں لگ جائے،انہیں پریشانی یہ ہے کہ نباہ نہ ہونے کی صورت میں مسلمانوں کے یہاں نکاح سے نکلنے کی گنجائش اتنی آسان کیوں ہے۔وہ ان کی طرح برسہا برس پریشان کیوں نھیں ہوتے ہیں،نفرتی عناصر کی پریشانی کی وجہ یہی ہے)ضروری ہے کہ بورڈتمام پس منظرکوذہن میں رکھتے ہوئے شریعت میں دی گئی گنجائش کے ساتھ ماڈرن نکاح نامہ نہ صرف تیارکرے بلکہ اسے عام کرے۔
مرتب نکاح نامہ میں موجودہ حالات اور مستقبل کے اندیشوں کو سامنے رکھتے ہوئے مزید کچھ اضافے کئے جائیں :
معاہدہ نامہ یا زوجین کے مابین شرائط کے عنوان سے طلاق اور خلع کی تفصیلات بطور شرط و معاہدہ درج کئے جائیں۔
معاہدہ نامہ میں یہ بھی درج کیا جاسکتا ہے : شرعاً جن الفاظ یا وجوہات سے نکاح متاثر ہوتا ہے اگر شوہر کی جانب سے سرزد ہوئے تو شرعاً جو بھی حکم لگے گا میں اسے مانوں گی اور شرعی فیصلہ مجھے منظور ہوگا۔
اس شق پر معاہدہ ہونے سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ شرعی ثالثی میں آسانی ہوگی اور شرعی ثالثی کو چیلنج دینے کا جواز زوجین کے پاس نہیں رہے گا۔
معاہدہ نامہ میں یہ بھی ذکر ہو کہ :
طلاق دینے کی شرعی حدود و طریقوں کو درج کیا جائے۔شوہر بیک وقت تین طلاق ہرگز نہ دے گا، طلاق دینے کی نوبت جب بھی آئے شرعی ثالثی کے بغیر ہرگز نہ دے۔
نظر ثانی کے بعد نکاح نامہ کی طباعت و اشاعت کے حقوق آزاد رکھے جائیں۔
ملک کے مختلف مطابع اور ناشرین کو اس کی طباعت اور اشاعت کے لئے آمادہ کیا جائے۔
ابتدائی مراحل میں اسے رائج کرنے کے لئے ملک کے مختلف حصوں میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں تقسیم کیا جائے۔
مسلم پرسنل لاءبورڈ کے سوشل میڈیا اکاونٹس جیسے فیس بک ، واٹس ایپ، یوٹیوب اور ٹیلی گرام اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے مطبوعہ نکاح نامہ اور ملنے کے پتے کی خوب تشہیر کی جائے۔
علماء، وکلاءاور دانشوروں کے ذریعے اس نکاح نامہ کو استعمال کرنے کی خاص طور پر ترغیب دی جائے۔



