سرورققومی خبریں

نوابین اودھ کے شہر لکھنؤ کا نام بھی ہوسکتا ہے تبدیل ، رپورٹ طلب

نوابوں کے لیے خوابوں کا شہر لکھنؤ کا نام بدلنے کی بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے

لکھنؤ،7مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)نوابوں کے لیے خوابوں کا شہر لکھنؤ کا نام بدلنے کی بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے، ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے بعد اب لکھنؤ کا نام بدل کر لکشمن پور یا لکھن پور کرنے کی بات اٹھنے لگی ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں محکمہ ریونیو سے رپورٹ طلب کی ہے۔لکھنؤ کے ایم پی اور مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے دفتر کے انچارج ڈاکٹر راگھویندر شکلا نے ایک خط لکھا ہے جس میں لکھنؤ کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کا حوالہ دیتے ہوئے ڈپٹی سکریٹری راکیش کمار یادو نے کمشنر اور شعبہ ریونیو سے رپورٹ طلب کی ہے۔دراصل ایم پی کے دفتر سے یہ خط رام مندر کی افتتاحی تقریب کے دو دن بعد 24 جنوری کو لکھا گیا تھا، جس میں راگھویندر شکلا نے مطالبہ کیا تھا کہ رام مندر کی تعمیر کے بعدلکھنؤ کا نام بھی بھگوان رام کے چھوٹے بھائی لکشمن کے نام پر رکھا جائے۔

اس خط میں انہوں نے دلیل دی کہ اب جب کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ہوہی چکی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا افتتاح کرہی دیا ہے، تو اب لگے ہاتھوں لکھنؤشہر کا نام بھی شری رام کے چھوٹے بھائی لکشمن کے نام پر رکھ دیناچاہیے۔ یہ خط کئی محکموں سے گزر کر محکمہ ریونیو تک پہنچ چکا ہے، جس پر حکومت نے 22 فروری کو ہی رپورٹ طلب کی ہے۔ لکھنؤ کا نام بدل کر لکشمن پور کرنے کا مطالبہ کافی دنوں سے ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ بھی لکھنؤ کو اپنے طور پر لکشمن پور کہہ چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button