سرورققومی خبریں

وقف ایکٹ ترمیمی بل شور شرابے میں لوک سبھا میں پیش,جانیں مجوزہ ترمیمات سے آخر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

مرکزی وزیر کرن رجیجو کا دعویٰ:وقف ترمیمی بل سے کسی بھی مذہبی ادارے کی آزادی میں مداخلت نہیں ہوگی

نئی دہلی، 8اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) وقف ترمیمی بل پر پارلیمنٹ میں بحث جاری ہے۔ موجودہ حکومت بھی اس بل کو لے کر بہت سنجیدہ ہے اور اس میں بڑی ترمیم کرنا چاہتی ہے۔ اسی سلسلے میں آج بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کے لیے لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل 2024 پیش کر دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس بل کا مقصد ریاستی وقف بورڈ کے اختیارات، وقف املاک کے رجسٹریشن اور سروے اور تجاوزات کو ہٹانے سے متعلق مسائل کو مؤثرطریقے سے حل کرنا ہے۔ جب کہ اقلیتی رہنماؤں کا الزام ہے کہ حکومت اس بل کے ذریعہ وقف بورڈ کے اختیارات کو ختم کرنا چاہتی ہے اور اس کی مدد سے وہ اپنے بھگوا ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سماج وادی پارٹی پارلیمنٹ میں وقف بل کی مخالفت کرے گی۔ این ڈی اے حکومت نے وقف املاک (غیر مجاز قابضین کی بے دخلی) بل 2014 کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، جسے فروری 2014 میں راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا جب کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت برسراقتدار تھی۔آج حکومت وقف بورڈ کو دیے گئے اختیارات کو کم کرنے اور اس کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے بل میں ترمیم کرنے جا رہی ہے۔ اس میں مسلم سماج کے دیگر پسماندہ طبقات بشمول مسلم خواتین، شیعہ، سنی، بوہرہ اور آغاخانی جیسے طبقات کو بھی نمائندگی دینے کی بات کی گئی ہے۔مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو آج لوک سبھا میں وقف بورڈ ایکٹ میں ترمیم سے متعلق دو اہم بل پیش کرنے والے ہیں۔

لوک سبھا کے ایجنڈے کے مطابق، مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو وقف (ترمیمی) بل 2024 اور مسلم وقف (منسوخ) بل 2024 لوک سبھا میں پیش کریں گے۔پہلے بل کے ذریعے وقف ایکٹ 1955 میں اہم ترمیم کی جائیں گی جبکہ دوسرے بل کے ذریعے مسلم وقف ایکٹ جو کہ ہندوستان کی آزادی سے پہلے 1923 میں بنایا گیا تھا اس کو ختم کر دینے کا منصوبہ ہے۔ اس سے پہلے اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو وقف املاک سے متعلق قانون کو واپس لینے کے لیے راجیہ سبھا میں ایک بل پیش کریں گے، جسے منموہن سنگھ کی یو پی اے حکومت کے دور میں 18 فروری 2014 کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔اس بل میں غیر مسلم رہنما کو بھی شامل کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ لیڈران عوام کے ذریعہ منتخب ہوکر آتے ہیں اس لئے ان کا مذہب سے زیادہ عوام کی بھلائی کے لئے کام کرنا مقصد ہوتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ این ڈی اے حکومت چاہتی ہے کہ اس بل کو ایوان میں اتفاق رائے سے منظور کرایا جائے اور غریب مسلمان خاص کر مسلم خواتین اور یتیموں کو انصاف فراہم کیا جائے۔اگر ایوان میں اس بل پر اتفاق رائے نہیں ہوتا ہے تو حکومت اس بل کو مزید بحث کے لیے مشترکہ کمیٹی کو بھی بھیج سکتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وقف کے پاس زمین بہت ہے مگر اس پر کچھ خاص لوگوں کا قبضہ ہے۔ اس بل کا مقصد وقف املاک کو ناجائز قبضوں سے آزاد کرانا ہے۔ ملک میں ڈیفنس اور انڈین ریلوے کے بعد سب سے زیادہ اراضی وقف بورڈ کے پاس ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ دونوں اراضیات سرکاری ہیں جبکہ وقف بورڈ غیر سرکاری ہے۔وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کے لیے مرکزی حکومت کے بل پیش کرنے پر شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے کہا کہ جس طرح سے یہ بل لایا جا رہا ہے، میں پوچھوں گی کہ کیا ان کا اتحاد (این ڈی اے) اس کی حمایت کرے گا۔

میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی نے اس وقف بل کو دیکھا اور اپنی رضامندی دی ہے؟ اگر ایسا نہیں کیا گیا ہے تو یہ ضروری ہے کہ جب بھی ایسا کوئی بل آئے تو تمام اسٹیک ہولڈرز، اراکین پارلیمنٹ کی بات سنی جائے اور اگر ضرورت ہو تو اس میں ترامیم کی جائیں ورنہ کوئی ضرورت نہیں ہے۔


وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پھنس گیا،حکومت نے جے پی سی کے پاس بھیجنے کی رکھی تجویز،اسپیکر نے جلد کمیٹی بنانے کا کیا اعلان

وقف ترمیمی بل آج پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کے لیے وقف (ترمیمی) بل 2024 پیش کیا۔ کانگریس اور ایس پی ممبران پارلیمنٹ نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔ ایس پی ایم پی مولانا محب اللہ ندوی نے کہا ہے کہ یہ ہمارے مذہب میں مداخلت ہے۔وہیں ایم آئی ایم چیف اسد الدین اویسی نے بھی اس کو مسلم مخالف اور مسلمانوں سے کھل کر دشمنی سے تشبیہ کیا، بیشتر اپوزیشن پارٹیوں نے اس بل کو مسلم مخالف قرار دیا۔اپوزیشن کی جانب سے اس بل کو پاس کرنے کے بجائے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی یعنی جے پی سے کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا،جس کو حکومت نے قبول کرلیا۔

اس کے بعد مرکزی وزیربرائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے کہا کہ ہم تجویز کرتے ہیں کہ اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جائے۔ اس پر اسپیکر نے کہا کہ ہاں میں جلد کمیٹی بناؤں گا۔ اس پر اسد الدین اویسی نے ڈیویژن کا مطالبہ کیا۔ا سپیکر نے سوال کیا کہ اس پر ڈیویژن کیسے بنتی ہے؟ اویسی نے کہا کہ ہم شروع سے ہی ڈیویژن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔حالانکہ وقف (ترمیمی) بل، 2024 پر بات کرتے ہوئے، اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہاکہ ارکان پارلیمنٹ کو کسی مذہب سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو وقف بورڈ کا حصہ بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ایک رکن پارلیمنٹ کو (وقف بورڈ کا) ممبر ہونا چاہئے، اب اگر کوئی رکن پارلیمنٹ ہندو یا عیسائی ہے، تو کیا ہمیں ان کا اس کی بنیاد پر مذہب تبدیل کردینا چاہیے؟


مرکزی وزیر کرن رجیجو کا دعویٰ:وقف ترمیمی بل سے کسی بھی مذہبی ادارے کی آزادی میں مداخلت نہیں ہوگی

نئی دہلی، 8اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)وقف قوانین میں تبدیلی کے لیے آج وقف ترمیمی بل 2024 پارلیمنٹ میں پیش کر دیا گیا۔ انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمان نے ترمیمی بل کی سختی سے مخالفت کی۔ لوک سبھا میں بل کے پیش ہوتے ہی زبردست ہنگامہ ہوا۔ اس بل سے متعلق اپوزیشن جماعتوں نے پہلے ہی اپنا رخ صاف کر دیا تھا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے حکومت کے اس قدم کی سخت الفاظ میں مخالفت کی۔ بل کے ذریعے 1995 اور 2013 کے وقف قوانین میں ترمیم کی گئی ہے۔ اس بل میں 1995 کے وقف ایکٹ کا نام بدل کر یونیفائیڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1995 کر دیا گیا ہے۔ بل کے ذریعے پرانے قوانین میں تقریباً 40 تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔ بل میں کہا گیا ہے کہ 1995 اور 2013 کے قوانین کے باوجود ریاستی وقف بورڈ کے کام کاج میں کوئی خاص بہتری نہیں دیکھی گئی ہے اور وقف املاک کے نظم و نسق میں شفافیت کا فقدان ہے۔

بل کو لوک سبھا میں پیش کیے جانے کے بعد سماجوادی پارٹی، ایم آئی ایم، این سی پی جیسی انڈیا اتحاد کی پارٹیوں نے حکومت کی نیت پر شک کا اظہار کیا۔ بل پر بحث مکمل ہونے کے بعد اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے جواب دیا۔کرن رجیجو نے بل کے حوالے سے اٹھائے گئے تمام مسائل کا ایک ایک کرکے جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ، مجھے یقین ہے کہ اس بل کے بارے میں سب کچھ جاننے کے بعد ہر کوئی اس کی حمایت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں آرٹیکل 25 سے 30 تک جو بھی دفعات ہیں، کسی بھی مذہبی ادارے کی آزادی میں مداخلت نہیں کی جا رہی ہے۔ نہ ہی اس میں آئین کی کسی بھی دفعہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔وقف (ترمیمی) بل، 2024 پر لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے، اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے دعویٰ کیا کہ وقف ترمیمی بل 2024 سچر کمیٹی کی رپورٹ پر مبنی ہے جو آپ نے (کانگریس) نے تشکیل دیی تھی۔کرن رجیجو نے کہا کہ، یہ بل پہلی بار پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔

آزادی کے بعد یہ سب سے پہلا بل ہے جو ان لوگوں کو حقوق دے گا جنہیں ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ انھوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ، اس کا ساتھ دیں اور آپ کو کروڑوں لوگوں کی دعا ملے گی۔ رجیجو نے مزید کہا کہ، یہ حقوق چھیننے والا بل نہیں؛ بلکہ حقوق دینے والا بل ہے، بل میں آئین کی کسی بھی دفعہ کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ، ایک طرح سے آپ (کانگریس) نے جو بھی قدم اٹھایا، آپ وہ نہیں کر سکے جو آپ چاہتے تھے اور اب ہم (مودی حکومت) اسی چیز کو کرنے کے لیے یہ ترمیم لائے ہیں۔ جب میں اس کی وضاحت کروں گا تو آپ مجھ سے پوری طرح اتفاق کریں گے۔مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ، یہ بل پہلی بار 1954 میں لایا گیا تھا اور اس کے بعد اس میں کئی ترامیم کی گئی ہیں۔

آج ہم جس ترمیم کو لانے جا رہے ہیں وہ وقف ایکٹ 1995 ہے جس میں 2013 میں ترمیم کی گئی تھی اور ایسی دفعہ ڈالی گئی تھی جس کی وجہ سے ہمیں یہ ترمیم لانی پڑی۔ 1995 کے وقف ترمیمی ایکٹ میں جو بھی شق لائی گئی تھی، بہت سے لوگوں نے مختلف طریقوں سے اس کا اندازہ لگایا ہے۔ کئی کمیٹیوں اور لوگوں نے اس کا تجزیہ کیا ہے لیکن پتہ چلا ہے کہ 1995 کا وقف ترمیمی ایکٹ مکمل طور پر غیر موثر ہے۔کرن رجیجو نے وقف ترمیمی بل 2024 کی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ، اگر مسلم بچوں اور خواتین کو وقف بل کے فوائد نہیں ملتے ہیں تو کیا حکومت کو خاموشی سے بیٹھنا چاہئے؟ اس ایوان کی ذمہ داری ہے کہ اگر کسی غریب عورت کو انصاف فراہم کرنے میں کوئی کمی ہو رہی ہے تو اسے پورا کیا جائے۔ آج ہم جو ترمیم لا رہے ہیں اس میں ہر چیز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button