غزہ کی جنگ ختم کرنے کیلئے نیا امریکی منصوبہ 90 فیصد منظور ہو چکا ہے
جنگ بندی مذاکرات کے لیے نئی تجاویزکی ضرورت نہیں: حماس
واشنگٹن، 5ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکی انتظامیہ کے ایک اعلی عہدے دار کے مطابق غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے لیے امریکا کا نیا منصوبہ واقعتا 90% منظور ہو چکا ہے۔مذکورہ عہدے دار نے انٹرنیٹ کے ذریعے ایک خصوصی پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ سمجھوتا صرف 18 پیراگراف پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 14 پیراگراف پر کام مکمل کر لیا گیا ہے اور یہ سابقہ تجاویز سے مطابقت رکھتے ہیں۔عہدیدار نے واضح کیا کہ بقئی چار میں سے ایک پیراگراف میں خالصتا تکنیکی ترمیم ہے اور دیگر تین کا تعلق قیدیوں کے تبادلے سے ہے۔ حماس کے 2 جولائی کے بیان کی روشنی میں انھیں اب بھی زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔امریکی انتظامیہ کے عہدے دار کے مطابق اس سمجھوتے میں فلاڈلفیا راہ داری کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس میں تمام گنجان علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلا کو فرض کیا گیا ہے۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کے حوالے سے نئی امریکی تجاویز پر عمل درآمد کے نتیجے میں وہاں جاری جنگ مکمل طور پر رک جائے گی۔ جیل میں موجود قیدی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے علاقے یہ دو امور سمجھوتے تک پہنچنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ غزہ کے حوالے سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اسرائیل کی سلامتی زیادہ بڑے خطرے میں ہو گی۔یاد رہے کہ با خبر امریکی ذمے داران نے یہ اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن غزہ کی بات چیت سے دست بردار نہیں ہو گا کیوں کہ وہ 11 ماہ سے جاری جنگ ختم کرانا چاہتا ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ذمے داران نے مزید کہا کہ اسرائیل نے کئی رعائتیں پیش کیں، تا کہ کسی سمجھوتے تک پہنچ کر حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے اور فائر بندی کو ممکن بنایا جا سکے۔
امریکی ذمہ داران کے مطابق مذاکرات کی میز پر پیش کردہ سمجھوتے میں حماس کی زیادہ تر مانگیں پوری ہو رہی ہیں۔ تاہم تنظیم خلیج کم کرنے کے لیے پیش کردہ سمجھوتے پر آمادگی کے لیے نسبتاً کم تیار ہے۔البتہ ذمے داران نے باور کرایا کہ معاہدے کے مسودے کی زیادہ تر شقوں پر اتفاق ہو چکا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے فلاڈلفیا راہ داری کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان پر ناراضی کا اظہار کیا۔ اسی طرح فلاڈلفیا راہ داری میں فوج برقرار رکھنے پر قائم رہنے کے بیان نے مصر کو بھی چراغ پا کر دیا۔گذشتہ اتوار سے اسرائیل میں مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔ ان کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈال کر اسے فائر بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے پر آمادگی کے لیے مجبور کرنا ہے۔اسرائیلی فوج کے اندازوں کے مطابق غزہ کی پٹی کے اندر 100 کے قریب اسرائیلی قیدی ہیں جن میں 64 ابھی زندہ ہیں۔
جنگ بندی مذاکرات کے لیے نئی تجاویزکی ضرورت نہیں: حماس
فلسطینی تحریک مزاحمت اور گیارہ ماہ سے اسرائیلی جنگ کا مقابلہ کرنے والی حماس نے کہا ہے کہ اب مذاکرات کے نام پر نئی نئی تجاویز سننے اور جنگ بندی کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ جو چل رہا ہے اسے چلنے دیا جائے تاکہ اسرائیل پر دباؤ جائے۔حماس کی طرف سے یہ بات اسرائیل کی طرف سے مذاکرات میں سامنے آنے والی بار بار کی کہہ مکرنیوں اور مذاکرات کی آڑ میں فلسطینیوں پر بمباری جاری رکھنے کے علاوہ جنگی دائرہ وسیع تر کرتے جانے کی حکمت عملی کے دوران جمعرات کے روز کہی گئی ہے۔
حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسرائیل کو امریکی صدر جوبائیڈن کے جنگ بندی منصوبے پر لانے کے لیے اب نئی نئی تجاویز نہ دی جائیں بلکہ اسرائیل کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جائے۔ کہا جارہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایک نئی جنگ بندی تجویز پیش کرنے کی تیاری جاری ہے۔جمعرات کے روز حماس نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک بار پھر جنگ بندی مذاکرات کا سلسلہ توڑ کر ایسا ماحول چاہتے ہیں کہ اسرائیلی فوج کو اسرائیل اور مصر کے درمیان فلاڈلفیا راہداری سے اپنی فوج نہ نکالنی پڑے۔
اس تناظر میں حماس کے اس بیان میں کہا گیا ہے، ہم اسرائیل کے جال میں پھنسنے سے بچ جانے کے لیے خبر دار کرتے ہیں،اسرائیل کے سارے حربے اس لیے ہیں کہ وہ ہمارے لوگوں کے خلاف اپنی جنگی جارحیت جاری رکھ سکے۔اس لیے اسرائیلی چالوں کو ناکام بناتے ہوئے جنگ بندی کرنے اور یرغمالیوں کی زندہ رہائی کیلیے حماس نے اپنے پرانے موقف پر ہی زور دیا ہے کہ دو جولائی کوجن نکات پر اتفاق کر لیا گیا تھا، انہیں سے بات آگے بڑھنی چاہیے’ نہ کہ نئی نئی تجاویز پیش کر کے اسرائیلی خواہشات کے سامنے جھکتے چلے جایا جائے۔



