قومی خبریں

پلیس آف ورشپ قانون کی آئینی حیثیت پر اگلی سماعت جولائی میں

سول پٹیشن داخل کرکے عدالت سے پلیس آف ورشپ قانو ن کے تحفظ کی درخواست کی ہے

نئی دہلی ،5اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پلیس آف ورشپ ایکٹ Places of Worship  یعنی عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کو ختم کرنے والی عرضداشتوں پرآج سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کو ایک مرتبہ پھر جواب داخل کرنے کا حکم دیااور کہا کہ اس مقدمہ کی اگلی سماعت جولائی کے مہینے میں تین رکنی بینچ کریگی یہ اطلاع جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ایک ریلیز میں دی گئی ہے ریلیز کے مطابق آج معاملے کی سماعت چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس جے بی پاردی والا کے روبرو ہوئی چونکہ عدالت یہ فیصلہ پہلے ہی دے چکی ہے کہ اس مقدمہ کی سماعت تین رکنی بینچ ہی کرے گی، لہٰذا آج سماعت نہیں ہوسکی۔

اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند نے ایک جانب جہاں پلیس آف ورشپ قانو ن کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضداشت کی مخالفت کرنے کے لیئے مداخلت کار کی درخواست داخل کی ہے وہیں سول پٹیشن داخل کرکے عدالت سے پلیس آف ورشپ قانو ن کے تحفظ کی درخواست کی ہے۔سپریم کورٹ میں ہونے والی آج کی سماعت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ ورندا گروور، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ سیف ضیاء، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر موجود تھے۔

صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل سول رٹ پٹیشن کا ڈائری نمبر 28081/2022 ہے جسے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے داخل کیا ہے۔ عدالت نے جمعیۃ علماء کی رٹ پٹیشن اور مداخلت کار کی درخواست کو گذشتہ سماعت پر ہی سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھالیکن ابتک اس پر مرکزی حکومت نے جواب داخل نہیں کیا ہے ۔جس پر آج عدالت نے ایک بار پھر مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔

ڈاکٹر سبرامنیم سوامی، اشونی کمار اپادھیائے اور دیگر لوگوں نے پلیس آف ورشپ ایکٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیاہے اور عدالت سے ان کا مطالبہ ہے کہ اس قانون کی وجہ سے وہ کاشی متھرا، گیان واپی اور دیگر دو ہزار ایسی مسلم عبادت گاہوں کو ہندو عباد ت گاہوں میں تبدیل نہیں کرا پارہے ہیں کیونکہ یہ قانونی عبادت گاہوں کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button