اسرائیل فلسطین تنازع کا واحد حل ’دو ریاستیں‘ ہیں: صدر بائیڈن
دو ریاستی حل ہی اسرائیل فلسطین تنازع کا واحد راستہ ہے
واشنگٹن ، 17نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر واضح کر دیا ہے کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیل فلسطین تنازع کا واحد راستہ ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کیلیفورنیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کو یہ بتایا ہے کہ غزہ پر قبضہ ’بڑی غلطی‘ ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ حماس کی جانب سے یرغمال اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاہم اس کا مطلب امریکی فوج کو بھیجنا نہیں تھا۔منگل کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر نے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق ایک بیان دیا تھا کہ ’حوصلہ رکھیے، ہم آ رہے ہیں‘ لیکن اس بیان کے بارے میں سوال اٹھے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔بیان کی وضاحت سے متعلق جب ان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا مطلب تھا کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور ان کا مطلب وہاں فوج بھیجنے کا نہیں تھا۔بائیڈن نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے پر مسلسل کام کر رہے ہیں اور اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک تین برس کے بچے سمیت یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔قطر جہاں حماس کا سیاسی دفتر کام کر رہا ہے، عسکریت پسند تنظیم اور اسرائیلی عہدیداروں کے درمیان 240 سے زیادہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کر رہا ہے۔
بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے اس بیان کو دہرایا کہ ایک ہسپتال کے نیچے حماس کا ہیڈکوارٹر ہے اور اِس نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفا میں فوجیوں کی محدود تعداد اور اسلحے کے ساتھ گیا تھا اور انہوں نے وہاں بمباری نہیں کی۔بدھ کو اسرائیل نے کہا تھا کہ اس کی فوج کو الشفا ہستال میں تلاشی کے دوران حماس کے ہتھیار ملے ہیں۔ حماس نے اس اعلان کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
اب بھی چینی ہم منصب کو آمر سمجھتا ہوں، صدر جو بائیڈن کا عندیہ
واشنگٹن، 17نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے کچھ گھنٹوں بعد کہا ہے کہ وہ اب بھی ان کو ’آمر‘ سمجھتے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں برس جون میں بھی صدر جو بائیڈن نے چینی صدر شی جن پنگ کا موازنہ ’آمر‘ سے کیا تھا جس پر بیجنگ نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔بدھ کو نیوز کانفرس کے اختتام پر ایک صحافی نے امریکی صدر جو بائیڈن سے سوال کیا کہ آیا وہ اب بھی اپنے چینی ہم منصب کے لیے وہ اصطلاح استعمال کریں گے؟ جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’دیکھیں میرا مطلب ہے کہ وہ اس لحاظ سے ایک آمر ہیں جو ایسے ملک کو چلا رہے ہیں جو ایک کمیونسٹ ملک ہے، اور اس ملک کی بنیاد ایک ایسی نظام حکومت پر مبنی ہے جو ہم سے بالکل مختلف ہے۔2017 کے بعد چینی صدر امریکہ کے دورے پر ہیں۔
دونوں صدور کے درمیان سانس فرانسسکو میں تقریباً چار گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے چینی ہم منصب دونوں ممالک کے درمیان بحران کے وقت ایک دوسرے سے براہ راست بات چیت کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک سفارتی رابطے برقرار رکھنے پر بھی متفق ہوئے ہیں۔’چینی صدر نے اور میں نے اتفاق کیا ہے کہ ہم فون اٹھا سکتے ہیں اور براہ راست فون کریں گے اور اس کو فوراً سنا جائے گا۔دونوں ممالک نے فوجی رابطے بھی بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ جو چین نے اُس وقت کی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کے بعد اگست 2022 میں منقطع کر دیئے تھے۔
دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو تائیوان کو مسلح کرنے سے متعلق خبردار کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک اعلٰی سطحی عسکری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر بھی رضامند ہو گئے ہیں۔چین کی وزارت خارجہ کے مطابق ’امریکہ کو چاہیے کہ تائیوان کو مسلح کرنا بند کر دے اور چین کی پُرامن اتحاد کی حمایت کرنی چاہیے۔صدر شی جن پنگ نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ بیجنگ اپنی کمپنیوںکے خلاف امریکی پابندیوں اور دیگر اقدامات سے بھی مطمئن نہیں۔



