نیپال کے راستے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخلہ کی کوشش ناکام
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بعض اوقات محبت کرنے والے یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ نور نامی نوجوان لڑکی پاکستان کے شہر فیصل آباد میں رہتی ہے۔ اس کی ملاقات احمد نامی شخص سے آن لائن ہوئی تھی۔احمد ایک حیدرآبادی ہے جو سعودی عرب میں ایک ہوٹل میں کام کرتا ہے۔ احمد اور نور دونوں آن لائین محبت میں گرفتار ہو گئے لیکن بزرگ ان کی شادی کیلئے راضی نہ ہوئے تو نور نے حیدرآباد جانے کا منصوبہ بنایا۔ اس بات کا علم ہونے پر احمد نے اپنے ساتھ کام کرنے والے اپنے نیپالی دوستوں کی مدد سے اسے غیر قانونی طریقہ سے ہندوستان لانے کا منصوبہ بنایا۔
منصوبے کے مطابق دبئی سے نیپال آنے والی نور کی وہاں جیون نامی شخص اور احمد کے بھائی محمود سے ملاقات ہوئی وہ ہندوستان کی سرحد میں داخل ہورہے تھے کہ انڈو نیپال بارڈر پولیس کو اس پر اس وقت شک ہوا جب نور کے پاس موجود سرٹیفکیٹ جعلی پائے گئے۔ نور کے ساتھ ساتھ جیون اور احمد کو بھی حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی۔ تفتیش کے دوران انھوں نے بتایا کہ نور نے اپنی محبت کے لیے اتنا بڑاخطرہ مول لیا تھا ۔
غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنا جرم ہے اس لیے تینوں کو مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔قبل ازیں وہ خاتون کو جاسوس سمجھ کر اس پر شک کر رہے تھے۔ تینوں کو بہار میں سرسنڈ کے قریب ہند نیپال سرحد کے قریب سے پکڑا گیا اور بعد میں منگل کو مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔



