قومی خبریں

ای وی ایم پر سوال اٹھانے والی عرضی سپریم کورٹ نے خارج کردی

نئی دہلی، 30ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے ای وی ایم مشینوں پر سوال اٹھانے والی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ عدالت نے 50,000 روپے کا جرمانہ بھی لگایا ہے۔مدھیہ پردیش جن وکاس پارٹی کو پھٹکار لگاتے ہوئے جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ نے کہا کہ جو پارٹی ووٹروں کے ذریعہ پہچان حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے ،وہ واضح طور پر ایک پارٹی ہے۔ایک پٹیشن دائر کر کے شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عدالت ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی بھی آ کر تشہیر حاصل کر سکے۔

سپریم کورٹ نے اس درخواست کو خارج کر دیا،جس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو ای وی ایم میں خامیوں کو دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی درخواست کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ انتخابی عمل کی کئی دہائیوں سے الیکشن کمیشن نگرانی کرتا ہے۔ یہ مسئلہ وقتاً فوقتاً اٹھایا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جس پارٹی کو ووٹروں نے پہچان نہیں دیا وہ اس طرح کی درخواستوں کے ذریعے پہچان حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے دلائل دیئے تھے کہ صرف کمپنی کے انجینئروں کو اس تک رسائی حاصل ہے۔اگر ای وی ایم میں کوئی مسئلہ ہے تو اس سے نمٹنے والی کمپنی کے انجینئر ہیں، کمیشن کے انجینئر نہیں۔ اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا امکان ہے۔ ہمیں صرف چند چیک کی اجازت ہے۔ ہم انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال کے خلاف نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button