مفتی محمد طفیل قادری القاسمی (صدر جمعیت علماء دیانہ آؤٹر مالیگاؤں)
ظہور اسلام سے قبل کے حالات سے تقریبا ہر کوئی واقف ہے جسے عہد جاہلیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاریخ کے اوراق اس دور کی انسانی پستی اور سیاہ کرتوتوں کے قصوں سے بھرے پڑے ہیں۔
چنانچہ ان کے حقوق غصب کر لیے جاتے انہیں حیوانوں اور جانوروں کی طرح خرید و فروخت کیا جاتا تھا وراثت سے محروم کر دیا جاتا تھا،لڑکیوں کی پیدائش ذلت و رسوائی کا سبب اور بڑی شرمناک بات سمجھی جاتی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی معصوم بچیاں انتہائی بے رحمی سے زندہ درگور کردی جاتی تھیں لڑکی کے پیدا ہونے سے بسا اوقات اپنا گھر و مسکن بدل دیتے تھے اور اگر لڑکے کی ولادت ہوتی تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے ” جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا اور وہ غم سے گھٹنے لگتا ہے (النحل آیت ۵۸)
غرضیکہ ان کے اندر صنف نازک کےلئے رحم وکرم کے نام پر کوئی چیز باقی نہ تھی چنانچہ سراپا محبت کے اوپر ظلم و ستم اور نفرت کے وہ پہاڑ توڑے جاتے جنہیں پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے چنانچہ اس سلسلے کا ایک واقعہ عرض ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم ﷺ کے پاس آکر اپنے دور جہالت کا واقعہ یوں بیان کیا کہ میری ایک لڑکی تھی جو مجھ سے بہت زیادہ مانوس تھی۔
جب کبھی میں اسے آواز دیتا وہ بڑی فرحت کے ساتھ میرے پاس آجاتی۔ چنانچہ میں نے اسے ایک دن اپنے ہمراہ جنگل کی طرف لے گیا اور ایک گڑھے میں دفن کر دیا۔ وہ اس حال میں بھی ابا جان ابا جان کہتی رہی۔ (سنن دارمی باب ما کان علیہ الناس قبل بعثت النبیﷺ) یہ سزا محض جرم انسانیت کی پاداش میں دی گئی تھی یہ داستان یہیں تمام نہیں ہوتی بلکہ دیگر قوموں نے بھی صنف نازک پر ہر طرح کے ظلم و ستم کو روا رکھا تھا ۔
آئیے اس پر سرسری نگاہ ڈالیں چانکیہ برہمن عورت کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتاہے کہ دریا،سپاہی،پنجے اور سینگ والے جانور،بادشاہ اور عورت پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے جھوٹ بولنا،بغیر سوچے سمجھے کام کرنا،فریب،حماقت،بے رحمی یہ سب عورتوں کے جبلی عیوب ہیں شہزادوں سے تہذیب و اخلاق عالموں سے شیریں کلامی،قمار بازوں سے دروغ گوئی اور عورتوں سے مکاری سیکھنی چاہیے۔
پادری ٹرٹلین کہتا ہے کہ نفس انسانی تک پہنچنے کے لئے شیطانی دروازہ ہے اس سے خدائی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اہل یونان کا قول ہے کہ آگ سے جل جانے اور سانپ کے ڈسنے کا علاج تو ممکن ہے لیکن عورت کے شر کا مداوا محال ہے۔
روسیوں کا کہنا ہے کہ عورت مرد کی خوشی کےلئے پیدا کی گئی ہے۔ سقراط کا قول ہے کہ عورت کنیر درخت ہے جو بظاہر خوبصورت معلوم ہوتا ہے لیکن اگر چڑیا اس کو کھا لیتی ہے تو مر جاتی ہے(رسالہ الاسلام )لیکن اسلام نے ان نظریات کے برخلاف صنف نازک کو مقام عزت و وقار سے نوازہ چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ انما النساء شقائق الرجال(ابوداؤد ) عورتیں مردوں کی ہی جنس سے ہے۔
اتنا ہی نہیں بلکہ ایک مرتبہ دوران سفر اونٹوں پر ازدواج مطہرات آپؐ کے ساتھ تھیں تو آپ نے شتربان سے فرمایا شیشوں کو سنبھال کر لے چلو(صحیح مسلم کتاب الفضائل) آپؐ نے صنف نازک کو آبگینوں سے تعبیر فرمایا جو ذرا جھٹکا لگنے سے چکنا چور ہو جاتے ہیں۔
اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے” وللرجال نصیب مما اکتسبوا وللنساء نصیب ما اکتسبن ” مردوں کے لئے اپنے عمل کا حصہ اور عورتیں اپنی کمائی کا حصہ ضرور پائیں گی(النساء ۳۲)دنیا نے عورت کو متبع معصیت سمجھ رکھا تھا لیکن آپؐ نے فرمایا خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحہ(مسلم ) دنیا کی تمام چیزوں میں سب سے بہتر چیز نیک عورت ہے۔
ہمارے یہاں وہ عورتیں سب سے زیادہ ظلم و ستم کا شکار تھیں جنہیں بیوہ کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا ان کے دو ہی راستے تھے یا تو اپنے شوہر کے ساتھ جل کر خاک ہو جائیں یا بے بسی کی ذلت آمیز زندگی بسرکریں انہیں دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن اسلام نے جہاں دیگر برائیوں کو ختم کیا۔
اس وحشیانہ رسم سے بھی نجات دلائی۔ بیوہ کے متعلق سرور کائناتؐ نے فرمایا کہ جب اس کا جوڑا مل جائے تو دیر نہ کرو اسلام سے قبل باپ اپنی لڑکیوں کی جہاں چاہتا بیاہ دیتا اور بعض اوقات نکاح کو توڑ دیتا تھا۔
اس کی مرضی کی کچھ پرواہ تک نہیں کرتا تھا لیکن اسلام نے عورت کو شوہر کے انتخاب کرنے میں پورا حق دیا ہے بلکہ اس کی رضامندی کے بغیر کوئی اس کا نکاح نہیں کر سکتا وہ جب راضی ہو تو اولیاء اس کا نکاح کر سکتےہیں۔اور شوہر کو بیوی کے بارے میں ہدایت دی کہ وہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔
اسلام نے ایک طرف مرد و زن شکر رنجی و اختلاف کے وقت اگرچہ عنان طلاق مردوں کے ہاتھ میں دیا ہے مگر تنبیہ کردی ہےکہ ابغض الحلال الی اللہ عزوجل الطلاق(ابوداؤد،کتاب الطلاق،باب فی کراہیت الطلاق) حلال چیزوں میں سب سے نا پسندیدہ چیز طلاق ہے پھر عورتوں کو مردوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ دیا گیا کہ چاروناچار ہر حالت میں مرد کے دامن میں بندھ کر رہیں بلکہ عورت کو بھی ناگزیر حالت میں خلع کرنے کے وسیع تر اختیارات دیے گئے ہیں۔
تمام اقوام نے عورت کو معاشی طور پر حد درجہ کمزور قرار دیا تھا نیز اس کے تمام حقوق کو ختم کر دیا تھالیکن اسلام کا نظام عدل دیکھئے کہ عورت کو وراثت کے نہایت وسیع تر حقوق حاصل ہیں اور اسے شوہر سے مہر اور نفقہ کا مستحق قرار دیا گیا اور صرف شوہر ہی نہیں بلکہ شوہر نہ ہونے کی صورت میں اس کے بھائی بیٹے اور دوسرے اولیاء پر اس کی کفالت واجب قرار پائی اسے اپنے مال میں تصرف کا پورا اختیار دیا گیا۔
اس میں کسی کو مداخلت کرنے کا اختیار نہیں عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں اسلام نے عدل و اعتدال کا پورا لحاظ رکھا اور عورت کو وہ تمام مواقع فراہم کئے جن سے وہ اسلامی حدود میں رہ کر اپنی فطری صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنا کردار ادا کر سکے۔
اسلام کا یہ انتہائی روشن پہلو ہےکہ بہ حیثیت عورت مرد کے مساوی حقوق و مراتب دئیے ہیں۔اسلام عورت کو عورت اور مرد کو مرد رکھ کر دونوں سے الگ الگ کام لیتا ہے جس کےلئے قدرت نے اسے بنایا مرد کے لئے عزت اور ترقی اس میں ہےکہ وہ مرد رہ کر مردانہ کام کرے،
عورت کےلئے ترقی اور عزت اسی میں ہے کہ وہ دائرہ نسوانیت میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے۔اسلام نے صنف نازک پر مظالم ڈھائے جانے کے خلاف روک لگائی اور بتایا کہ زندگی میں مرد و عورت دونوں ہی ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔
اللہ تعالی نے عورت کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ اسے دھتکارا جائے اور شاہ راہ حیات سے کانٹے کی طرح ہٹا دیا جائے۔ کیونکہ جس طرح مرد اپنے وجود کا مقصد رکھتا ہے۔اسی طرح عورت کی تخلیق کا بھی ایک مقصد ہے جس کی بنا پر اسلام نے اسے عزت و شرافت عطا کی اور اسے دین و ایمان مکمل کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔؎
جیسا کہ بیہقی کی روایت ہے رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ جب بندہ بیاہ کرتا ہے تو اپنے نصف دیں کو پورا کر لیتا ہے پس چاہئے کہ وہ بقیہ نصف میں اللہ سے ڈرے( البیہقی فی شعب الایمان ) اسلام نے عورتوں کو دینی اور دنیوی علم سیکھنے کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ ان کی تعلیم کو اتنا ہی ضروری قرار دیا ہے ۔
جس قدر مرد کو نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم اس میں مرد و عورت دونوں مراد ہیں الغرض عورت کو جو اعلی مقام اسلام نے عطا کیا ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ آج دنیا میں کسی بھی عورت کو جو کچھ عزت حاصل ہے وہ اسلام ہی کی مرہون منت ہے۔



