
نیویارک،8اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ماسک کو کووڈ19 کے خلاف سب سے مؤثر حفاظتی اقدامات میں سے ایک سمجھا جاتاہے لیکن ایک #امریکی ماہر کا کہنا ہے کہ کپڑے سے بننے والے #ماسک یا #کپڑے سے بُنا چہرے کا غلاف وائرس سے بچاؤ میں کوئی اتنا زیادہ مؤثر نہیں ہے۔یونیورسٹی آف مِنیسوٹا میں مرکز برائے تحقیق اور پالیسی وبائی امراض کے #ڈائریکٹر مائیکل اوسٹرہولم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو چہرے کے غلاف اور کپڑے کے ماسک کواین 95 جیسے زیادہ مؤثر ماسک میں تبدیل کرنا چاہیے۔
#امریکہ کے مرکز برائے انسداد وبائی امراض (سی ڈی سی) نے اگرچہ یہ تجویز کیا ہے کہ #کپڑے کے ماسک اب بھی کچھ حد تک وائرس سے بچاؤ میں تحفظ مہیا کرتے ہیں لیکن کپڑے کی قسم، پرتوں کی تعداد اور چہرے کو ڈھانپنے کی بنیاد پر یہ مختلف درجوں کی سطح پر مؤثر ہوسکتے ہیں۔سی ڈی سی کے مطابق تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اعلیٰ دھاگے کی بُنت والے کپڑے کی متعدد پرتیں ماسک سے زیادہ مؤثرثابت ہوسکتی ہیں۔
زیادہ تر ماسک ایک پرت والے کپڑوں کے ہوتے ہیں اور ان میں 50 فی صد تک باریک ذرّات کو فلٹر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔اوسٹرہولم کے مطابق ماسک کے تصور پر زیادہ بڑے پیمانے پرغورکرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں این 95 ماسک کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ یہ ماسک ان لوگوں کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے،جنھیں ابھی تک ویکسین نہیں لگائی گئی ہے یا جواس سے پہلے وائرس سے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔
سی ڈی سی نے ’کے این 95‘ اور این 95 ماسک کو سب سے مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اس انداز میں #ڈیزائن اور ٹیسٹ کیا گیا ہے کہ وہ کووڈ19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مستقل طور پر #کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔



