بین ریاستی خبریںسرورق

مہاراشٹر : لشکر کے مشتبہ افراد کیخلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کے وجہ سے پونے سیشن کورٹ نے کیا بری

لڈھانہ ضلع کے کھم گاؤں کا رہنے والا جنید پونے میں کباڑ کا کام کرتا تھا۔ اے ٹی ایس نے انعام الحق، یوپی کے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا،

پونہ ،10دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مہاراشٹر میں پونے سیشن کورٹ نے ثبوت کی کمی کی وجہ سے لشکر کے دو مشتبہ افراد کو رہا کر دیا ہے۔ چند ماہ قبل مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مبینہ طور پر دو لوگوں کو دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا حصہ گمان کیا تھا اور ان پر اس دہشت گرد تنظیم میں لوگوں کو بھرتی کرنے کا الزام لگایاتھا۔ ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم کا حصہ ہیں۔مہاراشٹر اے ٹی ایس نے جموں و کشمیر کے رہنے والے آفتاب حسین عبدالجبار شاہ اور محمد یوسف اٹو کو مئی اور جون کے مہینوں میں مرکزی حکومت کیخلاف جنگ سازش کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔اے ٹی ایس نے اس معاملہ میں یو اے پی اے کی درخواست نہیں کی، اس کے بجائے اس کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 124 اے ( غداری) اور 153 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

اے ٹی ایس حکام نے محمد جنید کو مئی میں پونے سے تحویل میں لینے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ بلڈھانہ ضلع کے کھم گاؤں کا رہنے والا جنید پونے میں کباڑ کا کام کرتا تھا۔ اے ٹی ایس نے انعام الحق، یوپی کے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا، جو پہلے ہی لشکر طیبہ سے روابط کی وجہ سے جیل میں تھا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ جہاں تک آفتاب اور یوسف کا تعلق ہے ان کا جنید سے رشتہ ہے۔ اس نے آفتاب سے رابطہ کیا تھا اور مفرور ملزم عمر کا ذکر ہے۔ تاہم گفتگو سے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ آفتاب دہشت گردانہ سرگرمیوں یا دہشت گرد تنظیم میں بھرتیوں میں ملوث تھا۔ اسی طرح یوسف اٹو نے دور دراز علاقوں سے جنید کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجی تھی۔ رقم منتقل کرنے سے پہلے یا اس کے بعد بھی یوسف اٹو اور جنید کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

عدالت نے مزید کہا کہ اس امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ یوسف نے جنید کے اکاؤنٹ میں 10 ہزار روپے کسی اور کے کہنے پر منتقل کیے تھے۔ بلاشبہ یوسف کے کسی دہشت گردانہ سرگرمی یا کسی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اسی طرح اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ آفتاب کسی دہشت گرد یا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھا۔اے ٹی ایس کے مطابق جنید جموں و کشمیر میں حمید اللہ زرگر (معاملے کا ایک مفرور ملزم) سے رابطے میں تھا اور وہ انصار غزوۃ الہند یا توحید کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ چلا رہا تھا۔ زرگر اس واٹس ایپ گروپ میں ملک مخالف اور دہشت گردی سے متعلق پوسٹس بھیجتا تھا اور اس کی ہدایت پر جنید نے مبینہ طور پر ہندوستان میں لوگوں کو بھرتی کیا تھا،تاہم سیشن کورٹ نے اے ٹی ایس کے الزاما ت کو ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے خارج کرتے ہوئے ملزم کور ہا کرنے کا حکم دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button