
نئی دہلی6 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اس ہفتے ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج نہ صرف یہ طے کریں گے کہ ان ریاستوں کا اگلا وزیر اعلیٰ کون ہوگا، بلکہ اس کا اثر اس سال کے آخر میں ہونے والے صدارتی انتخابات پر بھی پڑے گا۔
صدر رام ناتھ کووند کی میعاد 24 جولائی کو ختم ہوگی اور 10 مارچ کو اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا اسمبلیوں کے نتائج یہ طے کریں گے کہ صدارتی انتخاب میں کون سی پارٹی یا اتحاد فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔
اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ملک کے اعلیٰ عہدے کے لیے اپنے امیدوار کو آسانی سے منتخب کرنے کی پوزیشن میں ہے، لیکن اتر پردیش میں منفی نتائج اس صورتحال کو بدل سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے توبیجوجنتا دل (بی جے پی) ،تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی (وائی ایس آر سی پی) جیسی علاقائی پارٹیوں کا کردار اہم ہو جائے گا۔
صدارتی انتخاب میں اتر پردیش کے ایک ایم ایل اے کے ووٹ کی قیمت سب سے زیادہ یعنی 208 ہے، جب کہ سکم کے ایم ایل اے کے ووٹ کی قیمت سب سے کم یعنی سات ہے۔ جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں، وہاں پنجاب کے ایک ایم ایل اے کے ووٹ کی قیمت 116، اتراکھنڈ کے ایم ایل اے کے ووٹ کی قیمت 64، گوا کے ایم ایل اے کے ووٹ کی قیمت 20 اور ایک ووٹ کی قیمت ہے۔
اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج صدارتی انتخاب کے لیے اہم ہوں گے، کیونکہ ریاست کے 403 ایم ایل ایز میں سے ہر ایک کے ووٹ کی قیمت سب سے زیادہ 208 اترپردیش میں ہے۔ اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے ووٹوں کی کل قیمت 83,824، پنجاب 13,572، اتراکھنڈ 4,480، گوا 800 اور منی پور 1,080 ہے۔



