تربیت کا لغوی معنی پالنا ،پوسنا ہے۔لیکن اصطلاح میں سیرت وشخصیت کو سنوارنا تربیت کہلاتا ہے۔تربیت کا مقصود در اصل بچوں کو بتدریج ان اوصاف کا حامل بنانے میں مدد دینا ہے جو دونوں جہان میں ان کی فلاح وکامرانی کے لئے ضروری ہیں۔
چنانچہ اللہ رب العزت قرآن مجید کے سورہ تحریم میں یوں ارشاد فرماتا ہے: "اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ "اور بخاری شریف کی حدیث میں ہے:یاد رکھو!!تم سب ذمہ دار ہو اور سب سے اس کے رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی۔بچوں کے بناؤ بگاڑ میں سب سے زیادہ اثر انداز والدین ہی ہوتے ہیں کیوں کہ بچوں کی شخصیت میں وہی رنگ وروغن بھرتے ہیں۔
شکل وصورت کی طرح ان کے اخلاق وعادات ،خیالات ومعتقدات ،جذباتوں میلانات تک والدین ہی کا پرتو پڑتا ہے۔ بچے جو کچھ والدین خصوصا ماں کی گود میں سیکھ لیتے ہیں ساری زندگی اس کی گہری چھاپ برقرار رہتی ہے۔اسی لئے تربیت کی اصل ذمہ داری انہیں پر ڈالی گئی ہے اور اس ضمن میں براہ راست اور سب سے زیادہ انہی سے باز پرس ہوگی۔
ماں باپ کو چاہیئے کہ:ولادت کے بعد نو مولود بچہ کو صاف ستھرا کرکے کانوں میں اذان دیں اور اچھا سا نام رکھیں ،کیوں کہ نام کا بھی اچھا برا اثر ہوتا ہے۔ساتویں روز شریعت مطہرہ کے کہنے کے مطابق بشرط استطاعت اس کا عقیقہ کریں۔شفقت اور انتہائی کشادہ دلی کے ساتھ اس کو پالیں پوسیں ۔
حلال اور طیب روزی سے اس کی پرورش کریں ۔کھیلنے اور خوش رہنے کے اچھے مواقع فراہم کریں ۔پیار ومحبت سے آداب وسلیقہ سکھائیں ۔پانچ /چھ سال کا ہو جائے تو اسے کسی شفیق اور صاحب کردار معلم کے حوالے کریں ۔
کھانے کھیلنے ،نہانے دھونے ،کام اور آرام کرنے کا ایسا پروگرام بنائیں جو صحت وبالیدگی میں معاون ہو رفتہ رفتہ اس پروگرام کا خوگر اور پابند بنائیں۔سات برس کا ہو تو اسے نماز پر اکسائیں ۔دسویں سال اس کا بستر الگ کردیں۔ بارہویں سال سے اس کی حرکات وسکنات پر پوری توجہ دیں ،غلطیوں اور کوتاہیوں کے صحیح اسباب کا پتہ لگا کر ازالے کی فکر کریں ۔
عام طور ہر اپنا رویہ نرم اور مشفقانہ رکھیں حتی الامکان عفو درگزر سے کام لیں۔ناگزیر ہو تو سزا سے بھی گریز نہ کریں لیکن جلد ہی حسن سلوک سے اس کی تلافی کردیا کریں ۔بڑا ہو تو بہادری، پامردی اور مقابلے کے فنون سکھائیں۔لڑکے کو کسی جائز باعزت پیشے اور لڑکی کو امور خانہ داری کی ٹریننگ دیں۔بالغ ہونے پر شادی میں جلدی کریں۔
بچوں کی تربیت :گھریلو ماحول کو پاکیزہ بنائیں،حتی الامکان اسے کشیدگی،بے اطمینانی،اور کش مکش سے پاک رکھیے۔
اسی علم کی وجہ سے آپ کا اپنا معاشرہ ترقی کرتا ہے۔اور جہالت کے سائے اور اس کی تاریکی چھٹتی ہے۔نور کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔انسان نے کتنے بھی علوم وفنون حاصل کئے ہوں ،سائنس ،وٹیکنالوجی میں کتنا ہی ماہر اور مایہ ناز کیوں نہ ہو اگر اس نے دینی علم نہ حاصل کیا تو جاہل کا جاہل ہے۔
ان کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ قضائے حاجات کے اصول وآداب کیا کیا ہیں۔اس لئے ہم سب پر لازم ہے کہ اگر ہم اپنی اولاد کو نیک دیکھنا چاہتے ہیں توپھر ہمیں ان کو دینی تعلیم سے آشنا کرنا چاہئیے۔انہیں قرآن وحدیث کی تعلیم دینی چاہئیے اور انہیں مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک سے واقف کرانا چاہئیے۔اور اس کام کے لئے جہاں تک ہو سکے دینی مدارس میں داخلہ کروانا ۔
یہ مدارس ہی ہمارے دین کا اصل سرمایہ ہیں ورنہ اسکول اور کالج تو مغربی اور یورپی نوکر اور خدام پیدا کر رہے ہیں،جن کے تعلیم کا اہم مقصد فقط چند سکوں کی نوکری اور غلامی کرنا ہے۔میرا یہ مقصد نہیں کہ اسکول کالج میں پڑھناجرم ہے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم ناجائز ہے۔بلاشبہ ان سب علوم وفنون کو پڑھنا چاہئیے لیکن ساتھ ہی دینی تعلیم بھی لازمی ہے۔
حقیقت یہ کہ ہم دنیا کی تعلیم پر تو خوب محنت کرتے ہیں اعلی سے اعلی سکول کالج میں داخلہ کرواتے ہیں، لیکن دینی تعلیم سے اپنے بچوں کو محروم رکھتے ہیں۔ہوتا یہ ہے کہ ہمارےبچے قرآن پاک کو ناظرہ پڑھنے تک سے ناواقف ہوتے ہیں۔
اس کے ترجمہ سے ناواقف ہوتے ہیں حدیث کا علم تو انہیں ہی نہیں ہوتا ۔سیرت مصطفی سے ناواقف ہوتے ہیں اور ہم خود اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے محروم کھ کر یہود ونصاری کے راستے پر چلنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
میرے عزیزو!!تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں سوال ہوگا،ان کی تعلیم وتربیت کے متعلق سوال ہوگا،دنیا کی تعلیم تو زندگی تک ہی محدود ہے اور یہ بعد موت دنیا ہی میں رہ جائے گی اور آخرت کی دینی تعلیم آخرت میں بھی کام آئے گی۔جس نے دینی تعلیم حاصل کیا اور اس پر مکمل عمل کیا اس کی آخرت درست ہوگی ،اور جس نے صرف دنیاوی تعلیم ہی پر اکتفا کیا اس کی آخرت تاریک ہوگی۔اس لئے ہم سب کو اپنی اولاد کے دینی تعلیم وتربیت کے لئے اہتمام کرنا چاہئیے۔ انہیں دینی ماحول میں شروع ہی ڈھالنا چاہیئے۔



