سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

خلیل اللہ کی اطاعت-ذبیح اللہ سے وفاداری-محمد محفوظ قادری

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے وطن(عراق)سے ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ کے ساتھ آپ کی بیوی حضرت سارہ اور آپ کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام تھے

اللہ رب العزت کا کرم اور اس کا احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں ایک بار پھر ماہ ذی الحجہ عطا فرمایا،یہ مہینہ اسلامی سال (سن ہجری)کا آخری مہینہ ہے ۔یہ ماہ مقدس بہت ہی عظمت و برکت والا ہے ۔اسی مہینے میں اسلام کے پانچویں رکن حج کو ادا کیا جاتا ہے،یعنی حج کا بین الاقوامی اجتماع اسی مہینے میں منعقد ہوتاہے ۔ اسی مہینے میں دس ذی الحجہ کو عیدالاضحی جیسا مقدس تہوار بھی منایا جاتا ہے ۔عید الاضحی کے مقدس موقع پر مسلمان اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں ،اپنے اس عمل کے ذریعہ اپنے رب کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنے کی کو شش کرتے ہیں ،یہ مبارک عمل ایک عجیب وغریب واقعہ کی یاد دلاتا ہے اور ہماری قربانیاں اُسی واقعہ کی نقل ہیں ۔اس واقعہ کا تعلق دومقدس و محترم شخصیتوں سے ہے ایک حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور دوسرے حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہماالسلام سے ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت:

آپ اللہ کے بہت بر گزیدہ نبی ہیں کہ جنہوں نے اللہ کی محبت میں بہت زیادہ مصائب وآلام کا سامنا کیا اور صبر سے کام لیا ،اسی وجہ سے اللہ نے آپ کو بلند ترین مقام عطا فرمایا ۔ قرآن پاک میں آپ کی جگہ جگہ تعریف بیان فرمائی اور ہمارے نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ ملت ابراہیمی کی اتباع کریں اور آپ کو ساری دنیائے انسانیت کا امام بنایا گیا ۔حضر ت ابراہیم کی ہی شخصیت ہے کہ جنہوں نے کعبتہ اللہ کی اللہ کے حکم سے تعمیر کی ،حج کا اعلان کیا ،اور حج جیسی مقدس عبادت کی تعلیم دی۔ آپ ہی کی ذات مبارک ہے کہ جس نے کفر وشرک کے ماحول میں آنکھیں کھولیں ، کفر وشرک کی مخالفت کی وجہ سے آپ کو بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالا گیالیکن اللہ نے آپ کی مدد فرمائی ،اُس آگ کوٹھنڈک وسلامتی میں آپ کے واسطے تبدیل فرما دیا۔حضرت ابراہیم نے کفر وشرک کی آلود گی سے نہ صرف اپنے آپ کو بچایا بلکہ بے شمار لوگوں کو اس سے محفوظ بھی رکھا۔اور نعرئہ توحید بلند کرتے ہوئے پورے معاشرے کو چیلنج بھی کیا ۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادتــ:

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے وطن(عراق)سے ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ کے ساتھ آپ کی بیوی حضرت سارہ اور آپ کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام تھے ۔درمیانی منزل مصر میں قیام فرمایا تو وہاں کے باد شاہ نے بد نیتی سے حضرت سارہ کی طرف دست درازی کی تو اللہ نے اسی وقت اس کے ہاتھ شل کر دئے اور یہ واقعہ تین مرتبہ ہوا ۔حضرت سارہ کی یہ کرامت دیکھ کر باد شاہ بہت زیادہ متائثر ہوا،اور ہاجرہ نامی ایک باندی (جو اصل میں ایک قبطی النسل شاہزادی تھیں )حضرت سارہ کی خدمت کیلئے بطور ہدیہ پیش کیں ، حضرت سارہ نے وہ باندی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہبہ فرمادی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ سے نکاح کرلیا۔پھر ملک شام میں جاکر سکونت اختیار فرمائی ۔مگر ایک طویل زمانہ تک حضرت ابراہیم کے یہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

آپ کی عمر تقریباً چھیاسی برس کی ہو گئی تھی،تو اللہ تعالیٰ سے آپ نے اولاد کیلئے دعا کی ’’رب ھبلی من الصالحین‘‘ (قرآن) اے میرے پرور دگار! مجھے صالحین میں سے عطا فرما۔اللہ رب العزت نے آپ کی یہ دعا قبو ل فرمائی اور آپ کو ایک بردبار بیٹے کی خوشخبری دی اور فرمایا’’فبشرناہ بغلام حلیم‘‘ہم نے انہیں بردبار بیٹے کی بشارت دی۔جب آپ نے یہ دعافرمائی توآپ کی عمر ایک روایت کے مطابق چھیاسی برس تھی،دوسری روایت کے مطابق آپ کی عمر پچیاسی برس تھی۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے اولاد کیلئے دعا کی تو یہ نذر بھی مانی کہ اگر اللہ نے مجھے بیٹا عطافرمایاتو میں اس کو اللہ کی بارگاہ میںقربان کروںگاجب حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے تو آپ کو اپنی نذر یاد نہ رہی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب

جب حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ہاجرہ علیہ السلام کے ساتھ مکہ مکرمہ کے بیابان جنگل میں زندگی بسر کر ہے تھے،آپ بڑھتے بڑھتے اس قابل ہو گئے کہ کچھ کام کرسکیں جیسا کہ قرآن نے بیان کیا’’فلما بلغ معہ السعی ‘‘(قرآن)اسماعیل علیہ السلام ایسی عمر کو پہنچے کہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے لگیں۔توحضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک شام میں (جہاں سکونت تھی)وہا ںخواب دیکھاکہ کہنے والا کہہ رہا ہے اے ابراہیم! اپنی نذر کو پورا کرو (یعنی اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کرو)یہ خواب آپنے ذی الحجہ کی آٹھ تاریخ کو دیکھا۔جب صبح نمودار ہوئی تو آپ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ میں نے یہ کیا خواب دیکھا ہے ؟یہ میرے رب کی طرف سے ہے یا شیطان کی جانب سے ہے ؟

اسی وجہ سے آٹھ ذی الحجہ کو یوم الترویہ (غورو فکر کا دن)کہا جا تا ہے ۔

اسی طرح آپ نے پھر نویں ذالحجہ کو خواب دیکھا ،جب صبح کو آپ بیدار ہوئے تو آپ سمجھ گئے کہ یہ خواب اب میرے رب کی جانب سے ہے ،اسی لئے نویں ذی الحجہ کو یوم عرفہ (پہچاننے کا دن )کہا جا تا ہے ۔اسی طرح دس ذی الحجہ کی را ت کو بھی آپ نے یہی خواب دیکھا ، دس ذی الحجہ کی صبح کو آپ نے ارادا کر لیا کہ اپنے لخت جگر اسماعیل کو اللہ کی بار گاہ میں قربان کروں اسی وجہ سے دس ذی الحجہ کو (یوم النحر)قربانی کا دن کہا جاتا ہے ۔حالت خواب میں قربانی کا حکم ملنا یہ اللہ کی طرف سے وحی تھی ۔جیسا کہ پیارے نبی نے ارشاد فرمایا کہ نبی کا خواب بھی وحی الٰہی ہوتا ہے ۔حضرت ابراہیم نے اس خواب کی تعبیر نکالتے ہوئے پہلی دو راتوں کی صبح کو کچھ اونٹ اپنے رب کی بار گاہ میں پیش کئے مگر جب تیسری رات آپ نے پھر یہی خواب دیکھا تو آپ سمجھ گئے کہ اللہ رب العزت مجھ سے میرے بیٹے اسماعیل کی قربانی لینا چاہتا ہے۔

آپ نے اپنے بیٹے اسماعیل سے فرمایا’’ یٰبنی انی اریٰ فی المنام انی اذبحک فانظر ماذاتریٰ‘‘(قرآن)اے میرے بیٹے (اسماعیل )میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں بتا تیری کیا رائے ہے ؟ یہ الفاظ سنتے ہی والد محترم کی زبان سے حضرت اسماعیل ذبیح اللہ نے فوراًارشاد فرمایا’’ قال یٰابت افعل ما تئومر ستجد نی ان شاء اللہ من الصابرین‘‘(قرآن)اسما عیل علیہ السلام نے ارشاد فرمایاکہ اے ابّاجان! جو آپ کو حکم ہوا ہے وہ آپ پوراکیجئے،انشا ء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والو ں میں پا ئیں گے۔

ذبح کی تیاری اور حضرت ہاجرہ سے رخصتی

حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے اللہ کے حکم کو پورا کرنے کی تیاری شروع کی ،جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام گھر سے نکلے تو شیطان کو بہت زیادہ فکر ہونے لگی اور اس پرو گرام کو ختم کرنے کی تیاری کرنے لگا،ایک روایت میں آتا ہے شیطان نے کہا کہ میں نے آج اگر اس موقع پر ان کے درمیان فتنہ پیدا نہیں کیا تو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔سب سے پہلے شیطان حضرت ہاجرہ کے پاس گیا یہ سوچ کر کہ عورت ناقص العقل ہوتی ہے بہت جلد بہکاوے میں آجاتی ہے کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ حضرت ابراہیم اسماعیل کو کہاں لیکر گئے ہیں ؟حضرت ہاجرہ نے فرمایا کہ کہیں اپنی ضرورت سے لیکر گئے ہونگیں،کہنے لگا نہیں وہ اپنے بچے کو ذبح کرنے کیلئے لیکر گئے ہیں،حضرت ہاجرہ نے جواب دیا کیا کوئی باپ اپنے بیٹے کو ذبح کرتا ہے؟شیطان کہنے لگا ان کو خدا کا یہی حکم ہے حضرت ہاجرہ نے فرمایا اگر خدا کا یہی حکم ہے تو میں راضی ہوں ،جب شیطان حضرت ہاجرہ کے پاس ناکام ہوگیا تو پھر حضرت ابراہیم کو بہکانے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ اپنے بیٹے کو کہا ں لیکر جا رہے ہو ؟

آپ نے فرمایا کہ کام سے جا رہا ہوں ،شیطان کہنے لگا نہیں آپ تو ذبح کرنے کیلئے جا رہے ہو بیٹے کو ۔حضرت ابراہیم نے (اسی کی زبان سے سچ نکلوانے کیلئے فرمایا کہ )میں اپنے بچے کو کیوں ذبح کرونگا؟شیطان کہنے لگا کہ اللہ کا آ پ کو یہی حکم ہے،حضرت ابراہیم نے شیطان کا یہ جواب سن کر فرمایا کہ مجھے خدا کا یہ حکم ہے تو مجھے یہ ضرور کرنا چاہئے۔جب حضرت ابراہیم کے پاس بھی شیطان ناکام ہو گیا تو اس نے آگے کی تیاری شروع کی اور حضرت اسماعیل کو بہکانے کی کوشش کرنے لگا جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل منیٰ کی وادی کے پاس پہنچے تو شیطان مردود حضرت اسماعیل کے پاس آیا اور کہنے لگا تم کو معلوم ہے تمہارے والد تم کو کہاں لیکر جا رہے ہیں ؟حضرت اسماعیل نے فرمایا اپنے رب کے حکم کو پورا کرنے کیلئے اللہ کی بار گاہ میں قربان کرنے کے واسطے لیکر جا رہے ہیں،شیطان نے کہا کہ وہ کسی جانور کی نہیں بلکہ وہ تمہاری ہی قربانی کریں گے،حضرت اسماعیل نے فرمایا جب ذبح کا حکم اللہ کی طرف سے ہے تو میں اس کام کی کیسے مخالفت کر سکتا ہوں؟یہ سن کر شیطا ن یہاں سے بھی ناکام ہو اور اس کے سارے ارمان پانی میں بہہ گئے۔ شیطان سمجھ گیا کہ اس گھر کا بچہ بچہ عشق الٰہی میں سر شار ہے اور یہ اپنی جانیں بھی اللہ کے نام پر قربان کرنے کو تیار ہیں ۔

حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی رمئی جمار

جب حضرت ابراہیم ؑ کو ذبح کا حکم دیا گیا تو شیطان سعی کے وقت حاضر ہوا اور حضرت ابراہیم سے آگے بڑھا پس حضرت ابراہیم ؑ اس سے آگے بڑھ گئے ۔پھر حضرت جبریل علیہ السلام آپ کو جمرتہ العقبہ کی طرف لے گئے تو شیطان وہا ں بھی حاضر ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو سات کنکریاں ماریں پس وہ چلا گیا،پھر جمرتہ الوسطیٰ کے پاس ظاہر ہوا توآپ نے پھر سات کنکریاںاس کو ماریںتو وہ پھر چلا گیا،اس کے بعد پھر وہ جمرتہ الاخریٰ کے پاس ظاہر ہوا تو آپ نے پھر سات کنکریاں اس کو ماریں وہ بھاگ گیا۔شیطان اللہ کا دشمن ہے اس کو دفع کرنے کیلئے تدبیر در اصل اللہ کی محبت و عظمت کا تقاضہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہماالسلام کی یہ ادا اس قدرپسند آئی کہ اس کو حاجیوں کیلئے مشروع کر دیا۔ اوران حضرات کا یہ عمل قیامت تک کیلئے زندئہ جاوید بنادیا گیا۔

باپ بیٹے کی گفتگو:

جب دونوں مقدس ہستیاں اللہ کے حکم کو پورا کرنے کی تیاری کرلگیں ،حضرت اسما عیل علیہ السلام نے اپنے والد سے عرض کی کہ میرے ہاتھ پیر مضبوطی سے باندھ دیں کہیں ذبح کے وقت میرے تڑپنے سے آپ کے کپڑوں پر خون کے چھینٹے نہ پڑ جائیں ، میرا منھ زمین کی طرف کردیں تاکہ آپ کی نظر مجھ پر اور میری نظر آپ پر نہ پڑے ۔ایک روایت میںیہ بھی آتا ہے کہ آپ اپنے کپڑوں کو بچاکر رکھنا کہ ان پر خون نہ لگ جائے میری والدہ اس کو دیکھ کر غمگین ہوجائیں گی،اور کہا کہ میری والدہ کو میرا سلام کہہ دینا۔

جب پوری طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام تیار ہو گئے جیسا کہ قرآن نے بیان کیا’’ فلما اسلما‘‘(قرآن)پھر وہ دونوں رضائے الٰہی کے سامنے جھک گئے(تیار ہوگئے)۔تو حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو پیشانی کے بل لٹایاجیسا کہ قرآن نے بیان کیا ’’وتلہ للجبین‘‘(قرآن)ان کو پیشانی کے بل لٹا دیا ۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام تیز دھار دارچھری حضرت اسماعیل علیہ السلا م کی گردن پر چلانے لگے،لیکن تعجب کے طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ جس چھری سے روزانہ میں اپنی ضرورت کی چیزیں کاٹتا ہوں آج وہی چھری کند(کھٹل)ہوگئی ہے اور کچھ کاٹنے کو تیار نہیں ہے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ یہ چھری خدا کے حکم کو پورا کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہے تو آپ کو غصہ آیا ،آپ نے چھری کو زمین پر پھینکا زور سے،اللہ نے چھری کو بولنے کی طاقت عطا فرمائی چھری نے عرض کی ’’اے ابراہیم !میں دو حکموں کے درمیان ہو ں ایک طرف خلیل کا حکم کہ میں کاٹوں اور دوسری طرف جلیل کا حکم ہے کہ میں ہر گز نہ کاٹوں ،میں جلیل کے حکم کی پیروی کروں گی نہ کہ خلیل کے حکم کی‘‘اسی وقت اِک دم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے غیبی آواز دی گئی جیسا کہ قرآن نے بیان کیا’’ونادیناہ ان یابراہیم‘‘(قرآن) اور ہم نے اسے ندادی کہ اے ابراہیم! ’قد صدقت الرء ویا‘‘(قرآن)واقعی تم نے خواب کو سچ کردکھایا۔اُسی وقت اللہ رب العزت نے حضرت جبریل علیہ السلام کو جنت سے ایک مینڈھا لیکر بھیجا اور حکم دیا کہ اسماعیل کی جگہ اس مینڈھے کو رکھدیں اور ہمارے خلیل ابراہیم سے کہیں کہ اس کو ذبح کریں جیسا کہ قرآ ن نے بیان کیا’’وفد یناہ بذ بح عظیم ‘‘(قرآن)ہم نے فدیہ دیا انکا ذبح عظیم سے۔

تکبرات تشریق کی ابتدا

یہ سارا واقعہ دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام کی زبان سے نکلا’’اللہ اکبر اللہ اکبر‘‘یہ سن کر حضرت اسماعیل ذبیح اللہ نے فرمایا’’لا الہ الااللہ واللہ اکبر‘‘اور حضرت ابراہیم نے فرمایا ’’اللہ اکبر وللہ الحمد‘‘یہ تکبیرات تشریق ہیںجو ایام تشریق میں سنت قرار پائیں،اور آج تک باقی ہیں۔یہ واقعہ قربانی محبت خداوندی کا مظاہرہ ہے ،لہٰذا قربانی کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ جذئبہ ابراہیمی اور محبت خداوندی کے ساتھ اپنی قربانیاں اپنے رب کی بارگاہ پیش کریں۔ قرآن نے جس خوبصورت ا نداز سے اس واقعہ کوبیان کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت قر بانی تو جان کی ہی تھی مگر اللہ رب العزت نے جان سے ٹال کر مال کی طرف منتقل فرمادی ،اور مال کی طرف منتقل فرماکر اللہ نے مال کو صدقہ کرنے کا حکم نہیں دیا اگر مال کو صدقہ کرنے کا حکم ہوتا تو انسان کے دل سے جانی قربانی کی قدر و منزلت نکل جاتی ،اس وجہ سے ایسی قربانی مقرر کی گئی کہ جس میں عزیز اور خوبصورت جانور کو قربان کیا جائے تاکہ مالی قربانی میں بھی جانی قربانی کی مشابہت موجود رہے ۔اور ہر قربانی کرنے والے انسان کے دل میں یہ احساس موجود ہو کہ اس بے زبان و جاندار جانور کا میں خون کیوں بہا رہا ہوں،جب یہ احساس اس کے دل میں پیدا ہوگا تو وہ اس فلسفہ قربانی کو بخوبی سمجھ لے گا کہ حقیقت میں یہ میری جان کی قربانی تھی جس کو اللہ نے میرے مال کی صوت میں قبول فرما لیا۔اور اس کو اپنا مقصد اصلی بھی یاد رہیگااور نفس کی قربانی کیلئے تیار بھی رہیگا اور اللہ رب العزت کے دربار میں شکر گزاری کا جذبہ بھی بڑہیگا،اللہ رب العزت جانی قربانی کا احساس پیش نظر رکھتے ہوئے خلیل اللہ کی اطاعت اور ذبیح اللہ سے وفاداری امت مسلمہ کو نصیب فرمائے۔آمین

نعت

جو شفیعِ بروز محشر ہے
شکر ہے وہ ہمارا رہبر ہے
میرے ہونٹوں پہ نعتِ سرور ہے
کتنا اعلٰی مرا مقدر ہے
جس نےخوشبو مدینے کی پائی
نازاں اس پہ گلاب وہ عنبر ہے
اس میں ہوتا ہے ذکرِ آلِ نبی
کیا یونہی میرا گھر معطر ہے
یہ مدینہ ہے میرے آقا کا
خلد جیسا یہاں کا منظرہے
آقا آئے ہیں بخشوانے کو
مجھ سا عاصی جو پیشِ داور ہے
درس دیتا ہے دین کا جو بھی
ہم سبھی میں وہ سب سے بہترہے
مال و زر اور یہ زندگی "زاہد”
ان کی عظمت پہ سب نچھاور ہے
محمد زاہد رضا بنارسی

متعلقہ خبریں

Back to top button