
امریکی وزیر خارجہ و دفاع کا دورۂ خلیج افغانستان سمیت خطے کی صورتحال ایجنڈے میں شامل
نیویارک، 6ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن اور وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن اتحادی ممالک کے ساتھ افغانستان کی صورت حال پر بات چیت کے لیے خلیج فارس اور یورپ کے الگ الگ دوروں پر اتوار کو روانہ ہو رہے ہیں۔ وزیرِ خارجہ بلنکن، جو قطر اور جرمنی میں حکام سے ملاقاتیں کریں گے، نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ قطر نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور ہزاروں افغان مہاجرین کے دیگر ممالک جانے کے لیے ایک مرکز کی حیثیت سے کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے لیے وہ قطر کا شکریہ ادا کریں گے۔
اینٹنی بلنکن قطر کے بعد جرمنی کے جنوب مغرب میں قائم رمسٹائن ایئربیس جائیں گے جہاں وہ امریکی فوجیوں کا شکریہ ادا کریں گے اور افغان مہاجرین سے بھی ملاقات کریں گے۔خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق دونوں وزرا ان دوروں میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ افغان جنگ کا خاتمہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے درمیان تعلقات پر کیسے اثر انداز ہو رہا ہے۔
امریکی وزرا حلیف ممالک کے رہنماؤں سے افغانستان میں انتہا پسندی کے خطرات کے پھر سے ابھرنے کی روک تھام پر بات کریں گے۔وہ امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو اس بات کا یقین دلائیں گے کہ صدر جو بائیڈن کے افغان جنگ کو ختم کرنے کے فیصلہ کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ امریکہ اپنے شراکت داروں کو مشرق وسطیٰ میں تہنا چھوڑ رہا ہے بلکہ اس فیصلہ کا مقصد چین اور روس کی جانب سے سلامتی کے چیلنجز پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلنکن نے کہا کہ وہ دورے کے دوران اپنے جرمن ہم منصب ہیکو ماس کے ساتھ بیس ممالک کے وزرا کی ایک ورچوئل یعنی آن لائن کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ان کے بقول، اس کانفرنس میں شامل تمام 20 ممالک کا مفاد اس بات میں ہے کہ وہ افغان مہاجرین کی بحالی میں مدد کریں اور افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے والے طالبان کو ان کے وعدوں پر عمل درآمد کرانے پر زور دیتے رہیں۔



