قومی خبریں

نائب صدرجمہوریہ اور وزیر قانون کے معزولی پر مبنی عرضی خارج

۔قابل ذکر یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے پہلے بامبے ہائی کورٹ نے بھی یہ عرضی خارج کر دی تھی

نئی دہلی ، 15مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ Jagdeep Dhankhar اور مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو Union Law Minister Kiren Rijiju کو ان کے عہدہ سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کو آج خارج کر دیا۔ بامبے لایرس ایسوسی ایشن نامی ادارہ نے یہ عرضی داخل کی تھی جس میں کہا تھا کہ دونوں (نائب صدر اور مرکزی وزیر قانون) نے سپریم کورٹ کے وقار کے خلاف بیانات دیئے ہیں اس لیے وہ آئینی عہدہ پر رہنے کے اہل نہیں ہیں۔قابل ذکر یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے پہلے بامبے ہائی کورٹ نے بھی یہ عرضی خارج کر دی تھی۔ 9 فروری کو بامبے ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس سنجے گنگاپوروالا اور جسٹس سنجیو مارنے کی بنچ نے اس عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے تئیں لوگوں کے اعتماد کو کچھ بیانات سے کم نہیں کیا جا سکتا۔

اس معاملہ میں کسی آئینی عہدہ پر بیٹھے شخص کو ہٹانے کا مطالبہ بھی غلط ہے۔ انھیں اس طرح کورٹ میں عرضی داخل کر ہٹایا نہیں جا سکتا۔ اس معاملے میں اب سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ نے صحیح فیصلہ کیا تھا، آپ کو یہاں اپیل داخل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔بامبے لایرس ایسو سی ایشن کی طرف سے اس کے سربراہ احمد عابدی کی عرضی میں نائب صدرجمہوریہ دھن کھڑ اور وزیر قانون رجیجو کے کچھ بیانات کا حوالہ دیا گیا تھا۔ عرضی دہندہ کا کہنا تھا کہ رجیجو نے ججوں کی تقرری کرنے کے کالجیم سسٹم کے خلاف لگاتار بیان دیئے ہیں۔

کالجیم کے رکن سپریم کورٹ کے سینئر جج ہوتے ہیں۔ ان پر عدم اعتماد ظاہر کر وزیر قانون نے سپریم کورٹ کا وقار لوگوں کی نظر میں گرانے کی کوشش کی ہے۔عرضی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ نائب صدر اور راجیہ سبھا چیئرمین نے ’نیشنل جیوڈیشیل اپوائنٹمنٹ کمیشن‘ (این جے اے سی) معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط بتایا۔ پارلیمنٹ سے پاس قانون کو رد کرنے کو پارلیمنٹ کی خود مختاری کی خلاف ورزی بتایا۔ انھوں نے 1973 کے تاریخی ’کیشوانند بھارتی‘ فیصلے کے ذریعہ قائم ’بیسک اسٹرکچر ڈاکٹرن‘ یعنی ’بنیادی ڈھانچہ اصول‘ کو بھی غلط کہا۔ اس طرح کا بیان دے کر انھوں نے آئین پر عمل کرنے کے حلف کے خلاف کام کیا۔؎

متعلقہ خبریں

Back to top button