تلنگانہ کی خبریں

سپریم کورٹ نے حسین ساگر جھیل میں مورتی وسرجن کی دی منظوری ، کہا یہ آخری بار

تلنگانہ، 16 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حیدرآباد کی حسین ساگر جھیل میں پلاسٹر آف پیرس سے بنی بھگوان گنیش کی مورتیوں کے آخری بار وسرجن کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو اجازت دی۔ چیف جسٹس این وی رامن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہما کوہلی کی بنچ نے کہا کہ یہ حیدرآباد شہر میں بار بار آنے والا مسئلہ ہے۔ کئی ہدایات کے باوجود ریاستی حکومت نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات پرعمل نہیں کیا تاکہ وہاں مورتیوں کا وسرجن بند کیا جائے اور آلودگی پرلگام لگایاجائے۔

عدالت نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل پر غور کرنے کے بعد یہ حکم دیا۔ مہتا نے کہا کہ جھیل میں آلودگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں اور وسرجن کے فورا بعد کرینوں کی مدد سے بتوں کو باہر نکالا جائے گا اور ٹھوس کچرے کو ٹھکانے لگانے کے مقامات پر لے جایا جائے گا۔ اگلے سال کے لیے حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے بنچ نے کہاکہ گذارشات پر غور کرتے ہوئے ہم اس بار آخری بار اس جھیل کومورتیوں کے وسرجن کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

تلنگانہ ہائی کورٹ نے 13 ستمبر کو حسین ساگر جھیل اور شہر میں اس طرح کے دیگر آبی ذخائر میں پلاسٹر آف پیرس سے بنے گنیش مورتیوں کے وسرجن پر پابندی سے متعلق اپنے حکم میں ترمیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button