پٹنہ ،13مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے سبرت رائے سہارا کے وارنٹ گرفتاری پر عبوری روک لگا دی ہے۔ آج پٹنہ ہائی کورٹ نے سبرت رائے سہارا کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ خیال رہے کہ پٹنہ ہائی کورٹ نے کل ہی سبرت رائے کو عدالت میں جسمانی طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔ لیکن سبرت رائے سہارا آج پٹنہ ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہوئے جس کے بعد ہائی کورٹ نے سبرت رائے سہارا کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس اے ایم کھانولکر کی بنچ نے اس پر روک لگا دی ہے۔ اب سپریم کورٹ میں اگلی سماعت 19 مئی کو ہوگی۔
خیال رہے کہ منگل کو سہارا انڈیا کے سربراہ سبرت رائے سہارا نے پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سبرت رائے نے اپنی اپیل میں کہا تھا کہ متنازعہ واجبات کی ادائیگی کے لیے پیشگی ضمانت کی درخواست کا استعمال ممکن نہیں ہے۔ سبرت سہارا نے کہا کہ پٹنہ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے سی آر پی سی کی دفعہ 438 کی غلط تشریح کی ہے۔ پٹنہ ہائی کورٹ میں دائر مقدمہ پرمود کمار سینی کی درخواست سے متعلق ہے، جس میں دو نجی فنڈ کمپنیوں کے منیجر نے پیشگی ضمانت کی درخواست کی تھی۔ اس معاملہ میں پٹنہ ہائی کورٹ نے حکم دے کر سہارا میں رقم جمع کرنے والوں کوشامل کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے وارنٹ گرفتاری پر اگلے احکامات تک روک لگا دی ہے۔ کپل سبل نے سہارا سربراہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل پیش کیے۔ سبل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ سبرت رائے سہارا کو بغیر کسی وجہ کے کیس میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ جسٹس کھانولکر نے جاننا چاہا کہ کیا سہارا شری پیشگی ضمانت کے لیے گئے تھے ، جس پر کپل سبل نے کہا کہ ہم اس معاملہ میں کسی بھی طرح سے شامل نہیں ہیں۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سبرت رائے کی گرفتاری اور جسمانی پیشی پر عبوری روک لگانے کا حکم دے دیا۔



