یواے پی اے کے مبینہ جرائم سے شخص کو بری کرنے کامعاملہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کردیا
نئی دہلی3نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو ردکردیا ہے جس میں غداری سمیت انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ایک شخص کومبینہ طور پر ماؤنوازوں سے تعلق رکھنے کے الزام میں بری کردیاگیاتھا۔
کیرالہ حکومت اور دیگر کی اپیلوں کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیاہے کہ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے ستمبر 2019 کے حکم کے بارے میں کہاجاسکتاہے کہ یہ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) ایکٹ اور پہلے سے موجود قانون کے بالکل خلاف ہے۔
عدالت عظمیٰ کی طرف سے مقرر کردہ آئینی شق کے مکمل خلاف ہے۔ جسٹس ایم آر شاہ اور اے ایس بوپناکی بنچ کے سامنے ریاست کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ منیندر سنگھ نے کہاہے کہ ملزم روپیش کی نظرثانی کی درخواستوں پر خصوصی عدالت کے حکم کے خلاف ملزم کو الزامات سے بری کرنے سے انکار کرنے پر این آئی اے ایکٹ کی دفعہ کے تحت 21 کی ذیلی دفعہ (2) کے تحت لازمی طور پر ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ کو سننا چاہیے تھا۔



