متھراشاہی عیدگاہ مسجد کے سروے پر پابندی لگانے سے عدالت ِ عظمیٰ کا انکار
سپریم کورٹ نے متھرا شاہی عیدگاہ مسجد میں سروے پر پابندی لگانے سے صاف انکار کر دیا
نئی دہلی، 15دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے متھرا شاہی عیدگاہ مسجد میں سروے پر پابندی لگانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت 9 جنوری کو ہونے والی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ بدھ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے متھرا عیدگاہ مسجد میں سروے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔آج ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے کہا ہے کہ درخواست گزار تعطیلات کے دوران بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر سکتے ہیں۔درحقیقت متھرا شاہی عیدگاہ مسجد ٹرسٹ کی جانب سے جمعرات کو سی جے آئی کے سامنے یہ سوال اٹھایا گیا کہ آج الٰہ آباد ہائی کورٹ نے متھرا میں شری کرشن جنم بھومی شاہی عیدگاہ مسجد کے سروے کے لیے کورٹ کمشنر کی تقرری کا حکم دیا ہے۔
اگر سپریم کورٹ جلد ہی شاہی عیدگاہ مسجد ٹرسٹ اور یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کی عرضی پر سماعت نہیں کرتی ہے تو الہ آباد ہائی کورٹ اس معاملے میں سماعت جاری رکھے گی۔شاہی عیدگاہ مسجد ٹرسٹ اور یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں اس تنازعہ سے متعلق تمام 18 عرضیوں کو سماعت کے لیے منتقل کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے 26 مئی کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ خیال رہے کہ متھرا کے شری کرشنا جنم بھومی اور شاہی عیدگاہ مسجد تنازعہ کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازعہ جگہ کا سروے ایڈوکیٹ کمشنر کے ذریعے کرانے کی مانگ کو قبول کر لیا ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو شاہی مسجد عیدگاہ کے اے ایس آئی کے سروے کو منظوری دی ہے۔ جسٹس مینک کمار جین کی سنگل بنچ نے یہ فیصلہ دیا۔ گیانواپی تنازعہ کے خطوط پر ایڈوکیٹ کمشنر سے متنازعہ جگہ کے سروے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک درخواست دائر کی گئی تھی۔



