بین الاقوامی خبریںسرورق

سویڈش عدالت نے قرآن جلانے پر پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

سویڈن میں ایک عدالت نے قرآن مجید نذرآتش کرنے کے دو مظاہروں پر پابندی عاید کرنے کا پولیس کا اقدام کالعدم قرار دے دیا

لندن ،4اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سویڈن میں ایک عدالت نے قرآن مجید نذرآتش کرنے کے دو مظاہروں پر پابندی عاید کرنے کا پولیس کا اقدام کالعدم قرار دے دیا ہے جبکہ اسی طرح کے مظاہرے پردہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کے الزام میں پانچ مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔جنوری میں اسٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانہ کے باہر اسلام کی مقدس کتاب کو نذر آتش کرنے کے واقعے پر اسلامی دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔اس کے ردعمل میں کئی ہفتے تک احتجاج کیا گیا تھا،سویڈش مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا اور سویڈن کی نیٹو رکنیت کی کوشش کو روک دیا گیا تھا۔سویڈش پولیس نے قرآن مجید کو نذرآتش کرنے کے اس واقعہ کے بعد فروری میں ایسے ہی ہونے والے دو اور مظاہروں پر پابندی عاید کردی تھی لیکن سویڈن کی سپریم انتظامی عدالت اس اقدام کو یہ کہتے ہوئے کالعدم قراردے دیا ہے کہ سکیورٹی خدشات مظاہرے کے حق کومحدود کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

جج ایوا لوٹا ہیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ پولیس اتھارٹی کے پاس اپنے فیصلوں کیحق میں مناسب حمایت نہیں تھی۔سویڈش پولیس نے فروری میں اسٹاک ہوم میں ترکیہ اور عراق کے سفارت خانوں کے باہر قرآن کو نذرآتش کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ جنوری کے احتجاج نے سویڈن کو’حملوں کا اعلیٰ ترجیحی ہدف‘بنادیا ہے۔ترکیہ نے خاص طور پر اس بات پر سخت برہمی اور ردعمل کا اظہار کیا تھا کہ پولیس نے مظاہرے کی اجازت دی تھی جبکہ اس نے سویڈن کی نیٹو میں رْکنیت کی کوشش کو روک دیا ہے اوراس کا کہنا ہے سویڈن اپنے ہاں کرد گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ترکیہ ان جلاوطن گروپوں کو ’’دہشت گرد‘‘ سمجھتا ہے۔دریں اثنا سویڈن کی سکیورٹی سروس نے کہاہے کہ منگل کی صبح تین وسطی قصبوں ایسکلسٹونا، لنکوپنگ اوراسٹرانگناس میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتارکیا گیا ہے۔سکیورٹی سروس کے انسداد دہشت گردی یونٹ کی نائب سربراہ سوزانا ٹریہورننگ نے کہا کہ ہائی پروفائل قرآن جلانے کے سلسلے میں موجودہ کیس ان متعدد میں سے ایک ہے جن پر سویڈش سکیورٹی سروس کام کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ مشتبہ افراد کا تعلق بین الاقوامی اسلامی انتہا پسندی سے ہے۔تاہم سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ اسے یقین نہیں کہ حملہ ہونے والا تھا۔اس نے ایک بیان میں کہا کہ سکیورٹی سروس کواکثر کسی خطرے سے بچنے کے لیے جلدکارروائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ہم کارروائی کرنے سے پہلے جرم کے ارتکاب تک انتظار نہیں کرسکتے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button