کابل 25اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جاری رہنے والی طویل لڑائی چند مہینوں میں ختم ہو سکتی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2001میں طالبان #ہتھیار پھینکنے کیلئے تیار تھے۔ مگر اس وقت امریکہ کو معاملہ کے فوری حل میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ نومبر 2001میں طالبان نے حامد #کرزئی سے رابطہ کیا۔ وہ انکے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے تھے۔
#طالبان کو پوری طرح #شکست ہو چکی تھی اور وہ اس وقت صرف عام معافی چاہتے تھے۔ اس کے سوا انکے کوئی مطالبات نہیں تھے۔ اس وقت افغانستان میں سیاسی ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے برونیٹ روبن کے مطابق اس موقع پر پیغام رسانی کرنے والے رابطہ کار حامد کرزئی اور طالبان لیڈر ملا عمر کے ہیڈ کوارٹرز قندھار کے مابین سرگرم ہونے لگے۔
جن کا یہ خیال تھا کہ طالبان سرنڈر کر دینگے اور وہ بھی اس طرح سے کہ ملکی مستقبل میں کبھی ان کا کوئی کردار نہ ہو گا۔ مگر #واشنگٹن کا خیال تھا کہ طالبان ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیں گے، اس لئے وہ ان سے کوئی ڈیل نہ کرنے کے موڈ میں تھا۔ آج 20 برس بعد امریکہ نے انہی طالبان سے ڈیل کی تاکہ جنگ ختم ہو جائے مگر آج طاقت کا توازن بالکل مختلف اور طالبان کے حق میں ہے۔



