صحت اور سائنس کی دنیا

اسباب وتدارک,سفید بالوں کی حقیقت✍️ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور

ہمارے یہاں عام طور پر سفید بالوں کو پسند نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر لوگوں کو عمر کی وجہ سے بڑھاپے کی حالت میں سفید بال آنے شروع ہوتے ہیں لیکن دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ بیشمار لوگ ایسے ہیں جن کے بال وقت سے پہلے ہی سفید ہونا شروع ہوجاتے ہیں

ہمارے یہاں عام طور پر سفید بالوں کو پسند نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر لوگوں کو عمر کی وجہ سے بڑھاپے کی حالت میں سفید بال آنے شروع ہوتے ہیں لیکن دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ بیشمار لوگ ایسے ہیں جن کے بال وقت سے پہلے ہی سفید ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو کہ یقینا تشویش کی بات ہے اور بیماری کی علامت ہوتی ہے ۔ چونکہ سفید بالوں کی وجہ سے انسان کی عمر زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس لئے سفید بالوں کو مصنوعی طریقوں سے رنگ لگا کر سیاہ کیا جاتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بال سفید کیوں ہوتے ہیں۔ بعض خواتین اور مرد کے بالوں میں یہ تبدیلی بہت آہستہ آہستہ واقع ہوتی ہے اور بعض لوگوں کے بالوں میں فوری اور بہت جلد واقع ہوجاتی ہے۔

قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ اگر بالوں میں سفیدی ادھیڑ عمر سے تجاوز کرنے کے بعد ہو تو بالوں کی رنگت میں یہ تبدیلی بالکل درست وقت پر ہے اور قانون فطرت بھی یہی ہے اس لئے کہ اس حالت میں قوت کا گھٹنا شروع ہوجاتا ہے اور اس میں بال بھی شامل ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ بال اپنی رنگت تبدیل کرنی شروع کردیتے ہیں۔

ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے اعصاب بہت حساس ہوتے ہیں معمولی سی پریشانی اور غم بھی ان کوبرداشت نہیں ہوتا ذرا ذرا اسی بات پر منفی انداز میں سوچتے رہتے ہیں اور ہر وقت رنج اور فکر کے دریا میں ڈوبے رہتے ہیں۔ یہ سوچیں او رپریشانیاں بھی بالوں پر منفی اثرات ڈالتی ہیں اور عمر سے پہلے ہی ان کے بال سفید ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اکثر چھوٹے چھوٹے بچوں کے بال بھی سفیدی دکھانا شروع کردیتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ بچے ہر وقت پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہوتی ہے۔

چونکہ بالوں کی جڑوں کے ساتھ جو مادوں والے خانے ہوتے ہیں ا ن میں ایک خانہ رنگت والا بھی ہوتا ہے جس کی خرابی کی وجہ سے ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے اور بروقت علاج کرکے اس مرض سے بچا جاسکتا ہے۔ بالوں میں رنگت کی تبدیلی یوں بھی ہوجاتی ہے کہ بالوں کی جڑوں کے قریب کی کھال سکڑ جاتی ہے جس سے رنگت والے خانوں کو ضرب پہنچتی ہے اس طرح رنگ کے ذرات بالوں کی جڑوں کے ذریعے اوپر تک نہیں پہنچتے جس سے رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ بال سفید ہوجاتے ہیں۔

پرانے وقتوں میں تو یہ بھی سنا اور دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگوں کے بال بڑھاپے کی حالت میں بھی سفید نہیں ہوتے تھے وہ اس لئے کہ اس وقت لوگ اعتدال اور سکون کی زندگی بسر کرتے تھے ان کے بال قبل از وقت تو کیا بڑھاپے کی حالت میں بھی کم ہی سفید ہوا کرتے تھے او رجب وہ واقعی بوڑھے اور عمر رسیدہ ہوجاتے تو اسی وقت ہی ان کے بالوں میں سفیدی جھلکتی تھی جب کہ آج کل صورت حال مختلف ہے جوانوں کے سر تو سفید ہوتے نظر آتے ہیں بچوں کے سر بھی محفوظ نہیں ہیں ان کے بالوں میں بھی سفیدی جھانکتی نظر آتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور ا فراتفری بے چینی اور نفسا نفسی کا دور ہے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے اور اس دوڑ میں کسی کو یہ بھی ہوش نہیں کہ کھانا بھی وقت پر کھانا ہے یا نہیں تو ایسی صورت میں جب جسم کو بروقت اور سکون کی حالت میں خوراک میسر نہیں آئے گی تو بالوں کی صحت مندی کیسے برقرار رہ سکتی ہے ۔ حالانکہ اگر جوانی کی حالت میں ہی بالوں میں سفیدی آنا شروع ہوجائے تو بلغمی امراض کا فوراً علاج کروانا چاہئے بلغم پیدا کرنے والی غذائوں سے پرہیز کرنا چاہئے بالوں کا سب سے بڑا دشمن نزلے کا مرض ہے اس کے مسلسل رہنے سے بالوں کا رنگ بدل جاتا ہے بال قبل از وقت سفید ہوجاتے ہیں۔

مردوں میں عام طور پر سب سے پہلے داڑھی کے بال سفید ہوتے ہیں۔ یعنی کنپٹی کے قریب جو بال ہوتے ہیں ان میں سفیدی آجاتی ہے اسی طرح عورتوں کے بال بھی کنپٹی اور سر کے اگلے حصے میں سے سب سے پہلے سفید ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ یہ سفیدی دیگر اطراف میں بھی پھیل جاتی ہے۔

بالوں میں سفیدی آجانے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اب بالوں میں کمزوری پیدا ہوگئی ہے بلکہ ان کی مضبوطی بالکل سیاہ بالوں کی طرح برقرار رہتی ہے۔ یہ سفیدی تو صرف اس لئے واقعی ہوتی ہے کہ جس خانہ سے بال کو رنگت پہنچتی ہے اس میں خرابی واقع ہوجاتی ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے مگر بال کے اصلی غدود میں کسی طرح کی خرابی پیدا نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ اس کی مضبوطی برقرار رہتی ہے۔

بالوں میں سفیدی آجانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس مرد یا عورت میں آئرن، وٹامن اے اور ڈی کی کمی واقع ہوجائے تو بالوں کی رنگت میں تبدیلی آجاتی ہے اس لئے کہ ان وٹامنز اور آئرن کے ذریعے بالوں کی غدود کے نزدیک جو رنگت والا خانہ ہے ان میں ایک قسم کا مادہ پیدا ہوتا ہے جو بالوں کی جڑوں کے ذریعے رنگ اوپر کو منتقل کرتا ہے ہر ایک بال کو اپنے اپنے خانے سے مطلوبہ خوراک مہیا ہوتی ہے اس لئے کہ اگر کسی ایک بھی بال کے ساتھ اس کے خانوں میں خلل واقع ہوجائے جو کہ وٹامن اے اورڈی کے ساتھ ساتھ آئرن کی کمی سے پیدا ہوتا ہے تو وہ بال سفیدی مائل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

قبل از وقت بالوں کو سفیدی سے بچانے کے لئے بالوں کی صفائی سب سے ضروری چیز ہے اس مقصد کے لئے بازاری قسم کے شیمپو استعمال کرنے کی بجائے بالوں کو آملے اور ریٹھوں کے ساتھ دھولیا جائے تو زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ہفتہ میں کم از کم تین بار سر میں سرسوں ،ناریل یا زیتون کے خالص تیل کی مالش کریں اور نہانے سے دو تین گھنٹے پہلے اگر بالوں میں تیل کی خوب اچھی طرح مالش کی جائے تو قبل از وقت بالوں میں سفیدی آنے سے بچا جاسکتا ہے ۔

بالوں کو قبل از وقت سفیدی سے بچانے کے لئے ایک بہت ہی مفید نسخہ ذیل میں دیا جاتا ہے وہ یہ کہ اخروٹ کے تازہ پھول پیس کر روغن کنجد میں ڈالیں اور خوب اچھی طرح ملا کر دھوپ میں سات یوم تک رکھیں اس کے بعد اس تیل کی بالوں میں مالش کریں یہ تیل بالوں کی سیاہی کو قائم رکھتا ہے انتہائی آزمودہ اور زود اثر نسخہ ہے ہفتہ میں دو تین دفعہ اس تیل کی مالش فائدہ دیتی ہے۔ رحیمی شفاخانہ نے بھی وقت سے پہلے ہوئے سفید بالو ںکو کالی رنگت واپس دینے کے لئے ’’ خاص روغن‘‘ تیار کیا ہے جس کا مسلسل استعمال وقت سے پہلے ہونے والے بالوں کی سفیدی کوروکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button