مرحوم عتیق احمد کے دونوں فرزند چلڈرن ہوم سے چھوٹے، والد کی قبر پر پہنچ کر فاتحہ پڑھی
مرحوم ایم پی عتیق احمد کے دونوں بیٹے 9 اکتوبر کو چلڈرن ہوم سے باہر نکلے، دونوں کو ان کی بوا پروین قریشی کے سپرد کیا گیا ہے
الٰہ آباد، 10اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مرحوم ایم پی عتیق احمد کے دونوں بیٹے 9 اکتوبر کو چلڈرن ہوم سے باہر نکلے، دونوں کو ان کی پھوپھی پروین قریشی کے سپرد کیا گیا ہے، پیر کی شب ہی دونوں راج روپ پور واقع چلڈرن ہوم میں 221 دن سے بند عتیق احمد کے دونوں بیٹے (اہزام اور آبان) پیر کے دن رہا کئے گئے۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے دونوں کو ان کی پھوپھی پروین قریشی کے حوالے کیا ہے۔ فی الحال دونوں کو ہٹوا واقع رشتہ دار کے گھر میں رکھا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں پیر 9 اکتوبر کو ہی چلڈرن ہوم سے باہر آ گئے تھے اور رات تقریباً 9 بجے دونوں کساری-مساری قبرستان پہنچ کر والد (عتیق) اور چچا (اشرف) کی قبر سے لپٹ کر زار و قطار روئے۔ اس دوران وہاں موجود لوگوں نے انھیں عتیق اور اشرف کے قتل کی ویڈیو بھی دکھائی، جس سے وہ نہایت ہی آبدیدہ ہوگئے،لیکن صبر و تحمل کے ساتھ والد اور چچا مرحومین کے مزار پر فاتحہ پڑھی۔
واضح رہے کہ 24 فروری کو امیش پال قتل واقعہ کے بعد 2 مارچ کو عتیق کے پانچ میں سے دو نابالغ بیٹوں کو چلڈرن ہوم میں داخل کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ انھیں پولیس کہاں لے گئی ہے، اس سلسلے میں کچھ بھی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔اس کے لیے عتیق کی بیوی شائستہ پروین نے ضلع عدالت سے دونوں بچوں کا پتہ لگانے اور ان کی سیکورٹی یقینی کرنے کی گزارش کی تھی، جواب میں دھومن گنج پولیس نے کورٹ کو بتایا تھا کہ دونوں چکیا میں لاوارث حالت میں گھومتے ملے تھے جنھیں چلڈرن ہوم میں رکھا گیا ہے۔



