
ہائی کورٹ کا انوکھا عدالتی فیصلہ بیوی گٹکھا، گوشت اور شراب کھاپی کر لڑتی ہے ،تو یہ خانگی تشدد ہے !
چھتیس گڑھ کی بلاس پور ہائی کورٹ نے طلاق سے متعلق اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ اگر کوئی بیوی (عورت) اپنے شوہر کو مردوں کی طرح پان مسالہ، گٹکھا اور شراب کے ساتھ گوشت کھا کر ہراساں کرتی ہے
بلاس پور ،27دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)چھتیس گڑھ کی بلاس پور ہائی کورٹ نے طلاق سے متعلق اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ اگر کوئی بیوی (عورت) اپنے شوہر کو مردوں کی طرح پان مسالہ، گٹکھا اور شراب کے ساتھ گوشت کھا کر ہراساں کرتی ہے تو یہ تشدد ہے۔ بلاس پور ہائی کورٹ کے جسٹس گوتم بھادوری اور جسٹس رادھا کشن اگروال کی ڈبل بنچ نے شوہر کو ان بنیادوں پر طلاق لینے کا حقدار قرار دیا ہے۔دراصل کوربا ضلع کے بنکی مونگرا کے ایک نوجوان کی شادی کٹگھوڑہ کی ایک لڑکی سے ہوئی تھی۔ شادی کے محض سات دن بعد 26 مئی 2015 کی صبح اس کی بیوی بستر پر بے ہوش پڑی تھی۔ شوہر اسے علاج کے لیے لے گیا تو پتہ چلا کہ وہ شراب پینے کے ساتھ نان ویج اور گٹکے کا بھی عادی ہے۔ رشتہ داروں نے اسے اس بارے میں سمجھایا۔
اس کے بعد بھی وہ نہ مانی اور بیوی نے اپنے سسرال والوں سے بدتمیزی شروع کر دی۔درخواست میں بتایا گیا کہ خاتون گٹکا کھانے کے بعد بیڈ روم میں کہیں بھی تھوک دیتی تھی اور منع کرنے پر لڑجاتی تھی۔خاتون نے 30 دسمبر 2015 کو خود کو آگ لگا کر خودکشی کی بھی کوشش کی تھی۔ حتیٰ کہ اس نے دو بار چھت سے چھلانگ لگا کر اور پھر دو بار کیڑے مار دوا پی کر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ بیوی کی حرکات سے پریشان شوہر نے کوربا کی فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کی تاہم فیملی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے شوہر کی درخواست مسترد کردی کہ یہ اس کی پرائیویسی ہے۔شوہر نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ ہائی کورٹ کے ڈبل بنچ نے فیملی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شوہر کی طلاق کی اپیل کو قبول کرتے ہوئے اسے بیوی کی طرف سے ہراساں کرنا قرار دیا ہے۔



