بین الاقوامی خبریں

امریکہ افغان مہاجرین کو طیاروں کے ذریعے لے جا سکتا ہے، ترکی مزید بوجھ نہیں اٹھائے گا

انقرہ ،04؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترکی نے کہا ہے کہ امریکہ کاامریکہ کے لئے کام کرنے والے افغان #شہریوں اور ان کے کنبوں کو بطور مہاجر قبول کرنے کا پروگرام ناقابل قبول ہے۔ترکی وزارت خارجہ کے #ترجمان تانجو بلگچ نے امریکہ کے اعلان کردہ امریکہ کے لئے کام کرنے والے #افغانوں اور ان کے کنبوں کو بطور #مہاجر قبول کرنے کے پروگرام کے بارے میں سوال کا تحریری جواب دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بحیثیت ترکی ہم، امریکہ کے غیر ذمہ دارانہ اور ترکی کے ساتھ مشاورت کے بغیر کئے گئے فیصلے کو رد کرتے ہیں۔ امریکہ اگر ان افراد کو قبول کرنا چاہتا ہے تو طیارے کے ذریعے براہ راست انہیں اپنے ملک منتقل کر سکتا ہے۔بلگچ نے کہا ہے کہ #امریکہ وزارت خارجہ نے کل جاری کردہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ، امریکی سول سوسائٹیوں اور امریکی ذرائع ابلاغ کے لئے کام کرنے والے افغانوں اور ان کے کنبوں کو بطور مہاجر قبول کرنے کے پروگرام کے ساتھ افغانوں کی امریکہ نقل مکانی کی درخواستیں ان کے متعلقہ ادارے کے اور تیسرے ملک کے واسطے سے وصول کرے گا۔

بلگچ نے درخواستوں کے لئے تیسرے ممالک کی فہرست میں ترکی کی بھی موجودگی کی یاد دہانی کروائی اور کہا ہے کہ سب سے پہلے تو یہ کہ امریکہ کا بیان ہمارے علاقے میں ایک بڑے پیمانے کے مہاجر بحران کا سبب بنے گا اور ہجرت کے دوران افغانوں کے مصائب میں اضافہ ہو گا۔ دوسرا یہ کہ مسئلے کا حل علاقائی ممالک کے درمیان تلاش کرنے کی بجائے ہمارے ملک کی مرضی کے بغیر مسئلے کا حل ہمارے ملک میں تلاش کرنے کی خواہش ناقابل قبول ہے۔.

انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ 7 سالوں سے ترکی دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دئیے ہوئے ہے۔ اب ملک میں بحیثیت تیسرے ملک کے کسی نئے مہاجر بحران کی ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔تانجو بلگچ نے کہا ہے کہ بحیثیت ترکی ہم امریکہ کے غیر ذمہ دارانہ اور ترکی کے ساتھ مشورے کے بغیر کئے گئے فیصلے کو مسترد کرتیہیں۔ امریکہ اگر ان افراد کو قبول کرنا چاہتا ہے تو براہ راست طیاروں کے ذریعے بھی اپنے ملک لے جا سکتا ہے۔

ہمارا ملک کسی بھی صورت میں نہ تو تیسرے #ممالک کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا بیڑہ اٹھائے گا اور نہ ہی اپنے قوانین کو تیسرے ممالک کی طرف سے اپنے مقاصد کے تحت اور غلط شکل میں استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ کسی کو یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ ترک ملت، علاقے کے تیسرے ممالک کے فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہاجر بحران کا بوجھ اٹھائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button