نیویارک ،28اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ نے X کی صنفی پہچان کے ساتھ اپنا پہلا پاسپورٹ جاری کیا ہے، جو ان لوگوں کے حقوق کو تسلیم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جن کی شناخت مرد یا عورت نہیں ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ اگلے سال اس صنفی پہچان کے ساتھ بہت سے پاسپورٹ جاری ہوں گے۔
ایسے افراد جن کی صنفی شناخت مرد یا عورت کے طور پر نہیں ہوتی، انہیں بالعموم ’ایل جی بی ٹی کیو‘ کہا جاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں کے مساوی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔امریکہ میں ایل جی بی ٹی کیو کے حقوق کے لیے خصوصی سفارتی نمائندہ جیسکا اسٹرن نے اس اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جشن منانے کا لمحہ ہے، کیونکہ سرکاری دستاویزات میں انہیں ایک زندہ حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
اس اقدام سے صنفی شناخت میں توسیع ہوئی ہے اور اب عورت اور مرد کے ساتھ ساتھ انہیں بھی تسلیم شدہ پہچان مل گئی ہے۔اسٹرن کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص شناختی دستاویزات حاصل کرتا ہے جس سے اس کی حقیقی شناخت کی عکاسی ہوتی ہو تو وہ زیادہ عزت اور احترام کے ساتھ زندگی گذارتا ہے۔
’ایکس‘ کی شناخت کے ساتھ جاری ہونے والے پہلے پاسپورٹ کے متعلق یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ پاسپورٹ کس کو جاری کیا گیا ہے۔ محکمے کے ایک عہدے دار نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ آیا مذکورہ پاسپورٹ کولوراڈو کی ایک رہائشی ڈانا زیم کے لیے تھا جو اس کے حصول کے لیے 2015 سے محکمے کے ساتھ قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔
عہدے دار کا کہنا تھا کہ محکمہ شخصی رازداری کے خدشات کے پیش نظر پاسپورٹ کی انفرادی درخواستوں کے متعلق کچھ نہیں بتاتا۔
محکمے نے ڈانا زیم Dana Zzyym کو پاسپورٹ کی درخواست پر پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ انہوں نے صنفی شناخت کے خانوں پر، جو مرد کے لیے ’ایم‘ اور عورت کے لیے ’ایف‘ ہے، انٹرسیکس لکھا۔ اور ایک الگ خط میں محکمے سے درخواست کی کہ انہیں پاسپورٹ ایکس کی صنفی شناخت کے ساتھ جاری کیا جائے۔



