مقبوضہ بیت المقدس:(اردودنیا/ایجنسیاں)عبرانی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے تل ابیب کو فوجی کارگو طیاروں کی فراہمی کی تاریخ کو آگے بڑھانے کی اسرائیلی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جو ایران میں کسی بھی اسرائیلی حملے کی کامیابی میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اخبار نے صحافی ’یوسی یھوشوا‘ کی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز کے دورہ امریکہ اور اسرائیل اور امریکیوں کے درمیان مبینہ آپریشنل تعاون کے بارے میں رپورٹس کے پس منظر میں اسرائیلی فوج نے حال ہی میں امریکی فوج سے ملاقات کا وقت فراہم کرنے کے لیے کہا تھا کہ ایران کے لیے تیاری کے ضمن میں اسرائیل کو دو سے چار کارگو طیارے فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی ردعمل منفی تھا۔وزارتی کمیٹی برائے اسلحہ سازی کے امور نے ایندھن کے ساتھ چار (KC-46) کارگو طیاروں کی خریداری کی منظوری دی، جن کی رینج 11 ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ، ہوائی جہاز 11 سے 12 گھنٹے تک خلا میں رہنے کے قابل ہیں۔
عبرانی اخبار نے نشاندہی کی کہ اس قسم کا طیارہ بحیرہ روم میں، یا کسی اور جگہ ایندھن کا کارگو باکس کھول سکتا ہے اور اپنی شپنگ ٹیوب کے ذریعے درجنوں جنگی طیاروں کو سامان فراہم کرسکتا ہے۔
ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ- اسرائیل کے درمیان اختلافات کا انکشاف
واشنگٹن میں ایک امریکی سرکاری ذمہ دار نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز اور موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کے واشنگٹن کے دورے میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں سے متعلق تجاویز کے حوالے سے شدید اختلافات سامنے آئے۔ امریکی ذمے دار کے مطابق اختلافات کا محور واشنگٹن کا ان منظرناموں کو مسترد کرنا تھا جو ملاقاتوں کے دوران میں پیش کیے گئے۔
ساتھ ہی اس بات پر توجہ مرکوز رہی کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو جلد از جلد نشانہ بنانے کے لیے واشنگٹن کی جانب سے ایک سنجیدہ عسکری منصوبہ وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ذمہ دار کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی وفد نے ویانا مذاکرات میں شریک امریکی ٹیم پر الزام عائد کیا کہ اس نے بنا کسی عوض کے ایرانی جانب کو رعائتیں پیش کر دیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس امریکی ذمہ دار نے واضح کیا کہ امریکی اور اسرائیلی مواقف میں عدم موافقت کا یہ مطلب نہیں کہ واشنگٹن اسرائیل کی سیکورٹی کا پابند نہیں۔ البتہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی انتطامیہ کے ذریعے اسرائیل کو یہ سخت پیغام پہنچا دیا ہے کہ تل ابیب کی جانب سے تہران کے خلاف کوئی بھی یک طرفہ فوجی کارروائی خطرناک ہو گی۔بینی گینٹز اور ڈیوڈ بارنیا نے گذشتہ ہفتے امریکی وزارت دفاع (پنٹاگان) ، سی آئی اے اور امریکی وزارت خارجہ میں ذمہ داران کے ساتھ ایرانی جوہری معاملے پر بات چیت کی۔واضح رہے کہ ایران اس وقت ویانا میں اپنے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے۔



