قومی خبریں

وی ایچ پی کا دعویٰ ،2400 سے زیادہ خواتین کوہندو مذہب میں داخل کیاگیا

نئی دہلی 15فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم نے نام نہاد لو جہاد کا شکار ہونے والی 2400 خواتین کو واپس ہندو مذہب میں تبدیل کر دیا ہے۔ وی ایچ پی لیڈر ملند پراندے نے آسام کے سلچر میں وی ایچ پی کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ہندوستان میں ہر سال 10,000 سے زیادہ ہندو خواتین کو اسلام یا عیسائی بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاہے کہ لو جہاد ایک سازشی تھیوری ہے جس کے تحت مسلمان مرد ہندو خواتین کو مختلف طریقوں سے شادی کا لالچ دے کر اسلام قبول کراتے ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ مغربی بنگال، تلنگانہ اور کیرالہ میں ہزاروں ہندو خواتین کو زبردستی تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ان خواتین کی بڑی تعداد لو جہاد کا شکار ہے۔پراندے نے وی ایچ پی کی سلچر ضلع یونٹ کے زیر اہتمام ایک پروگرام میں کہا کہ تقریباً سبھی کے پاس معلومات ہیں لیکن ہم نے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جب ہماری خواتین کو فریب میں لے کر باوقار زندگی سے دور کیا جا رہا ہو۔یہ الزام لگاتے ہوئے کہ ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد کے قریب کے علاقوں میں ہر سال ہزاروں گائیں ماری جاتی ہیں، انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ وی ایچ پی ہندوستان میں گایوں کو بچانے والی سب سے بڑی تنظیم ہے۔

پراندے نے کہا کہ کچھ سروے کے مطابق ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد پر ہر سال ایک ہزار سے زیادہ گائیں ذبح کی جاتی ہیں۔

یوں تو حکومت نے کچھ قوانین نافذ کر کے پابندی لگا دی ہے لیکن ایک مخصوص مذہب کے لوگ چھپ کر کر رہے ہیں۔ وی ایچ پی کے کارکنان ان گایوں کو مارے جانے سے بچا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button