سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

غفلت کے شکار رسوائی کے منتظر

معرکہ حق و باطل جب سے حیات آدم میں رونما ہوئی و جاری ہے، ابلیس نے اللہ کے حکم کو نہ مانا دلیل یہ دی کے آدم مٹی کی تخلیق نیز ابلیس آگ کی تخلیق، اپنی انا کا خود شکار ہو کر رہ گیا، یہ وہی حق و باطل کی جنگ کرہ ارض تک رسائی کر گئی، ماسوائیے انسان کرہ ارض کے تمام مخلوقات محض زندہ رہنے کی جدو جہد میں اپنی حیات کے دن مکمل کر تے ہیں، چونکہ انسان أشرف المخلوقات ہے اللہ نے انسان کو عقل عطا کر کے اسے تمام ذی حیات پر سبقت بخشی، تاہم اس عطا کردہ عقل جو اللہ کی نعمت انسان پر ہے اسکا استعمال تخریب کاری، انتشار، دھوکا، فریب کو کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں پر مسلط کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

انسان نے عقل ہونے کے باوجود بشمار خدا بنا لئے، مشرکوں سے زمین بھر گئی، انسان ہر شے میں خدا دیکھنے لگا، اس کی پرستش بطور خدا کرنے لگا، عقل نے اسے صراط جحیم کا مسافر بنادیا رحمت الٰہی راہ نمائی بدستور کرتی رہی نبیوں کا انسانی ہدایت کیلئے بھیجا جانا مسلسل جاری رہا کوئیی قوم ایسی نہیں گذری جس میں اللہ نے انسانی فہم کو درست رکھنے کیلئے نبی و رسول کو نہ بھیجا ہو، نبیوں و رسولوں کے انکاری سرکش قومیں صفحہ ہستی سے مٹتی رہی، نئی قومیں ازسر نو آباد کی گئی، کہی نمرود ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے سپرد کر رہا ہے، تو کہی موسیٰ علیہ السلام فرعون سے زور آزما ہے، کہی عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی جارہی تھی۔

بہر کیف انسانی عقل اللہ کو نہ تسلیم کرنے پر آمادہ رہی غور و خوض کرنے کا معاملہ انسان نے پس پشت ڈال دیا، قران بارہا جگہ جگہ اپنی آیتوں سے انسان کی توجہ غور و فکر کرنے کی جانب مندمل کرتا ہے، تاہم انسان نے قرآن کی ہدایت کو ترک کر دیا ہمارے علماء وروساء قرآن کو مزہبی درس سے زیادہ کے درجہ میں نہیں رکھ پائیے، ہمارے تعلیمی نصاب میں قرآن کہی موجود نہیں، مدرسوں و درسگاہوں میں اسے قید کر دیا گیا، قوم کے یتیم و غربہ قران حافظ کی شکل میں قوم آگے لاتی رہی، قرآن کو نہ سمجھنا ہی نقصان کا باعث بنا اسی بناء پر قوم سب سے بڑا خسارہ اٹھا رہی ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں، سورہ البقرہ آیت نمبر ١٢١ مفہوم ہے قران ایسا پڑھے جیسا کہ اسکا حق ہے۔

کرہ ارض پر ہر مزہب کے پیروکاروں کا اپنا ہدایت نامہ موجود ہے، کوئیی وید پڑھ رہا ہے تو کوئیی گیتا کہی انجیل تو کہی توریت و زبور پڑھی جارہی ہے، قرآن تصدیق کرتا ہے توریت زبور و انجیل کی یہ ہدایات بھی اللہ کی نازل کردہ ہے، کلمہ گو ان‌ نازل کردہ اللہ کی ہدایات جو کتابوں کی شکل میں موجود ہے ایمان رکھتا ہے، تاہم نزول قرآن کے بعد یہ واضح ہو چکا قرآن سے قبل نازل ہونے والی ہر ہدایات اب منسوخ کردی گئی۔

اب یہ فرمان الٰہی مکمل دین کو ظاہر کرتے ہوئیے نازل کردیا گیا، ایک واضح ہدایات جو زندگی کے ہر شعبے میں راہ نمائیی کرتی ہے، یہی قرآن کھلے عام یہ کہ رہا ہے کہ زمین و آسمان حتیٰ کہ تمام کاینات کو اللہ نے بنایا، دنیا پوری کے کسی کتاب کے لکھنے والے نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہر شے ہم نے بنائیی یہی اس قرآن کو دوسری کتابوں سے جدا کرتا ہے، یہ کتابی شکل میں اللہ کی زباں اللہ خود انسان سے مخاطب ہے ایسے جس طرح والدین بچوں کو سمجھاتے ہے وہی انداز قرآن میں نظر آتا ہے، دنیا پوری پر بسنے والے تمام انسانوں نیز ان میں موجود تمام عقلوں کو قرآن کھلا پکار کر چیلینج کر رہا ہے۔

اللہ کہتا ہے بنا لاؤ ایک آیت اس قرآن جیسی نیز اللہ فرماتے ہیں، تم سب ایک دوسرے کے مددگار بن جاؤ تم اپنی کوشش میں ناکام ہو جاوگے تو پھر تیار رہو جہنم کی آگ میں داخل ہونے کیلئے، گذشتہ ١٤٤٣ سالوں سے قرآن کا چیلینج بنی نوع انسان کے لیے ہیں تاہم کسی نے آج تک اس چیلینج کو قبول کرنے کی جسارت نہیں کی، قرآن کی صداقت پکار کر کہہ رہی ہے آؤ گر تم سچے ہو تو قبول کرو اللہ کا دین اس میں فلاح ہے نجات ہے۔

انسانی عقل معذور، ذہین مفلوج سچ فہم و فراست کو تسلیم نہیں کررہا گمراہ راہوں پر شیطان کے ہمنوا کبھی قرآن کی کاپی کو نظر آتش کرتا ہے کہی پر مسجدوں کے سامنے جلوس نکال کر مساجد کی بے حرمتی کرتاہے، کہی پر مسجدوں کے نیچے دیوتاؤں کی تلاش کا متلاشی ہے، کہی پر اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئیے رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے ، نااہل جہالت کے پرستار غفلت کے شکار ہوچکے ایسے خواتین و مرد جو کھلی بے ادبی رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کیلئے کرتے جارہے ہیں، وہ مردہ ہو چکے ان کی حیات چوپایوں کی مانند نیز انہیں کے مشابہت رکھتی ہے۔

جس حیات انسانی میں ایمان نہیں وہ حیات بظاہر تو نظر آتے ہیں تاہم یہ تو مردہ اسی وقت ہوچکے ہیں جب انہوں نے اللہ اور رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کا انکار کردیا، اللہ اپنے حبیب رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے وقار کو کبھی کم نہیں ہونے دیگا، زمین و آسمان میں رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ رحمت العالمین ہیں، اللہ و ملائیکہ رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ پر سلام بھیج رہے ہیں۔

محمد مصطفیٰ ﷺ پر اللہ ازخود سلام بھیجتا ہو آپ محمد مصطفیٰ ﷺ کے مقام کا اندازہ کس کو ہے اور کس کو ہوگا ؟ اللہ نے رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذکر کو بلند کیا, محمد مصطفیٰ ﷺ پر سلامتی اللہ کی ہیں، تاہم جو بد بخت شیطان کی ایماء پر غفلت کا شکار ہو کر رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ پر لان تان نیز گستاخی کرنے لگے ان کا انجام انتہائیی عبرتناک طے ہے۔

وماعالینا الاالبلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button