شوہر کو بیگم کی کون سی عادت پریشان کرتی ہے ‘‘
کوئی ایسی عادت بیوی میں ہو جو شوہر کو دل و جان سے پسند ہو تو واہ ورنہ بصورت دیگر آہ ۔
لوگ کہتے ہیں اپنوں سے پریشانی کہہ دینے سے بو جھ ہلکا ہو جا تا ہے اور اگر یہ پریشانی اُن کی جا نب سے جو بہت اپنی ہو ں تو اسے بیان کرنا بعض مر دوں کے لئے مسئلہ ہو تا ہے اس لئے وہ دید دہ دانشتہ اپنے انکشافات سے گریز کر تے ہیں لیکن جو جی دار اور حقیقت پسند ہیں وہ بڑے مز ے سے حال دل کہہ گزرتے ہیں ۔ کہیں پڑھا تھا کہ ’’ عادتیں بے شک آپ کی اپنی ہو تی ہیں لیکن آپ دوسروں کے لئے ہو تے ہیں ‘‘ اور اگر یہ آپ ’’بیوی‘‘ اور دوسرا ’’شوہر‘‘ ہو تو بلا شبہہ بیوی کی اچھی بُری عادت سب سے زیادہ اس کے شوہر پر ہی اثر انداز ہوتی ہے ۔
کوئی ایسی عادت بیوی میں ہو جو شوہر کو دل و جان سے پسند ہو تو واہ ورنہ بصورت دیگر آہ ۔
بعض اوقات بیوی میں ایسی عادت بھی ہو تی ہے جو شوہر کے لئے پریشانی کا با عث بن جا تی ہے ، ضروری نہیں کہ پریشانی سنگین نو عیت کی ہو ، بعض پریشان کنُ عادتیں بہت دلچسپ بھی ہو تی ہیں مگر وہ کون سی عادات ہیں یہ جا ننے کے لئے ہم نے چند شوہر وں سے ایک سر وئے رپورٹ کا اہتمام کیا ہے ، آپ بھی پڑھیں ۔ ایک شوہر نے بتایا ۔ ہم جب جہاں جی چاہا شانِ بے نیازی سے اپنی کتابیں رکھتے ہیں ، ہمارے فقیرانہ مزاج کو جانتے ہو ئے بھی بیگم اپنی نفاست پسندی کے ہاتھوں مجبور ہوکر ہماری بے ترتیب کتابوں کو ترتیب سے لگا دیتی ہے اور ہمارے لئے تلاش مشکل ہو جاتی ہے۔دوسرے شوہر نے کہا : بیگم بے شمار خوبیوں کی مالک ہیں لیکن ان کا غصہ ناک پر دھرا رہتا ہے جو اُن کی ساری اچھا ئیوں پر پا نی پھیر دیتا ہے۔
ایک اور شوہر نے بتایا :۔ کسی بھی تقریب میں جانے کے لئے دیر سے تیار ہوتی ہے۔ ایک نے بتایا : کوئی بھی بُری عادت نہیں اس وجہہ سے پریشان ہوں ۔ ایک شوہر نے کہا ، ہر چیز کا ٹینسن بہت لیتی ہیں اورمجھے بار بار انھیں سمجھانا پڑتا ہے ، حد تو یہ ہے کہ اگر میں کسی مسئلے میں اُلجھا ہو ا ہو ں تو اس کا بھی ٹینشن یہی لینگی ۔ ایک اور شوہر نے کہا : بات خواہ کوئی بھی ہو اس میں جواز تلاش کر نے کی کوشش کر تی ہیں ، جو کبھی کبھی میری نظر میں غیر ضروری ہو تا ہے ، اس صورت میں پریشانی ہو تی ہے ، ایک اور صا حبِ شوہر نے بتایا کہ مجھے اپنی اہلیہ کی دو باتیں پریشان کر تی ہیں ، اولاً یہ کہ انھیں میری آواز بہت دیر میں سنائی دیتی ہے ، جب تک میں انھیں دو سے تین آوازیں نہ دے دو ، ان کے چہرے کا دیدار ہی نہیں ہو پا تا اور جب تک وہ مجھ تک پہنچتی ہیں اس وقت تک میرا پارہ چڑھ چکا ہو تا ہے ۔
میرا مو قف یہ ہے کہ اگر میں آواز دے رہا ہوں تو یقینا کوئی ضروری کام ہوگا جب کہ ان کی تو جیح یہ ہے کہ اگر میں ایک آواز میں نہیں آئی تو یقینا کسی ضروری کام میں پھنسی ہوئی ہونگی دوئم یہ کہ وہ کبھی کبھار گھریلو کاموں میں اُلجھ کر بیٹے کو نظر انداز کر جا تی ہیں اور میرا کہنا یہ ہے کہ سارے کام کے بعد میں ’’پہلے ‘‘ اسے توجہ کی ضرورت ہے ، با قی سب اللہ کا کرم ہے ۔ایک اور بیوی کے شوہر نے بتا یا کہ ہم ٹھہرے سیلانی ، گھر میں ٹکا ہی نہیں جاتا۔ آئے دن کہیں نہ کہیں جا نے کی فرمائش کر تے ہیں اور بیگم آئے دن کہیں جا نے پر را ضی نہیں ہو تیں ، ان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی یہ کیفیت ہو تو بھلی بھی لگے ، اور بیگم کی یہ عادت بہت پریشان کر تی ہے ۔
ایک اور صاحب نے بتایا کہ میرے مشورے کے بغیر میری بیگم کوئی کام نہیں کرتی حتیٰ کہ کھانا بنانا ہے تو مجھ سے پو چھا جا تا ہے ، میں چاہتا ہو ں وہ خود فیصلہ کرے ، اور جب مصروف ہوں تو یہ سوال بہت پریشان کر تا ہے ۔ ایک اور شوہر نے یہ بیان دیا کہ پہلے ہی وقت بے وقت کی بریکنگ نیوز سے عاجز ہے وہ تو ٹی وی پہ آتی ہے بیزار آکے ٹی وی بند کر دیا لیکن بیوی کا ایک بات کو چھ چھ دفعہ بیان کر نا با لکل بریکنگ نیوز کی طرح ہے اور بہت پریشان کن ہے ۔ میرے ایک دوست نے اپنی بیگم کے متعلق بتایا کہ کیا بتائوں کوئی بھی شئے استعمال کرتی ہیں تو ڈھکنا کھُلا چھوڑ دیتی ہیں خواہ وہ با ورچی خا نے میں مصا لحے کا ڈبہ ہو ، تیل کی بوتل یا واش روم میں شیمپو کی بوتل اور مجھے اس سے بہت الجھن ہوتی ہے ۔
ایک شوہر نے تو اپنی بیوی کا نام لے کر بتایا کہ وحیدہ کے غصے سے پریشان ہو جاتا ہوں ۔ جو آتا آندھی کی طرح اور جاتا طوفان کی طرح ہے ۔ میرا دل دیر تک پتے کی ما نندلز تا رہتا ہے ، بے چارہ میرا دل ۔ ایک سیاسی شوہر نے اپنی بیوی کے بارے میں یوں عرض کیا کہ میمونہ کی خوش اخلاقی اور خوش مزاجی مجھے بہت اچھی لگتی ہے ، لیکن فون پر بات کر تے ہو ئے میمونہ اتنی محو ہوجاتی ہے کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا اور گفتگو کا دو رانیہ طویل ہو جاتا ہے ، جب میں گھر پر ہو تا ہوں تو یہ طویل ٹیلیفونک گفتگو مجھے بہت کھلتی ہے ، کیونکہ اس وقت میں میمونہ کی مکمل توجہ چاہتا ہوں ۔



