بین الاقوامی خبریںسرورق

ایرانی جوہری راز چرانے کے خطرناک آپریشن میں خاتون کے مرکزی کردار کا انکشاف

اس گودام کی حفاظت پر مامور اہلکاروں نے کبھی اس خاتون پر توجہ نہیں دی۔

مقبوضہ بیت المقدس، 14مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مئی 2018ء میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنی انٹرایکٹو پریس کانفرنس میں ایک پریزنٹیشن دے کر بم دھماکہ کیا جس میں انہوں نے فارسی میں بنائے ویڈیو کلپس، تصاویر اور دستاویزات کے حصول کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ سب ایران کے جوہری پروگرام کیثبوت اور ریکارڈ کا حصہ تھیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ تمام دستاویزات ایران کے جوہری پروگرام کا پتا دیتی ہیں جن میں خفیہ جوہری سرگرمیوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ انہوں نے ان دستاویزات کے حصول کو ٰایرانی جوہری پروگرام پر ایک کاری ضرب قرار دیا۔

نیتن یاہو کے مطابق اس وقت اسرائیلی موساد کے ارکان ایرانی دارالحکومت تہران میں داخل ہوئے اور تقریباً نصف ٹن دستاویزات لے کر اسرائیل واپس چلے گئے۔اس وقت سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک سابقہ ٹویٹ کے ساتھ نیتن یاہو کے دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نیتن یاھو ایک ایسا بچہ ہے جسے جھوٹ بولنے کی عادت ہے اور وہ یہ عادت نہیں چھوڑ سکتا۔حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری دستاویزات کی چوری کے بارے میں ایک کتاب کی کہانی نے توجہ حاصل کی جسے اسرائیل پر حماس کے حملے سے دو ہفتے قبل شائع کیا گیا تھا، لیکن اس حملے کی وجہ سے اسے نمایاں جگہ نہیں مل سکی اور زیادہ توجہ اس جنگ پرمرکوزرہی ہے جو گذشتہ سال سات اکتوبر سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری ہے۔

امریکی فارسی زبان کے ریڈیو فردا نے اسرائیل میں اپنے نامہ نگار کی ایک رپورٹ نشرکی جس میں اسرائیلی مصنفین کی تیار کردہ اس کتاب کے اقتباسات کا ذکر کیا گیا۔اس کتاب کا آغاز ایک عام خاتون کے تذکرے سے ہوتا ہے جو کہ تہران کے جنوبی مضافات میں سے ایک محلے میں ہر روز چہل قدمی کرتی ہے۔ اس کی شکل و صورت اور برتاؤ عام اور معمول کے ایرانی باشندوں جیسا ہے جس کی وجہ سے ایرانی سکیورٹی اہلکار اس پر توجہ نہیں دیتے۔ اس پر کسی کو اس لیے شبہ نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ فارسی بولتی، حجاب پہنتی اور وہ اس محلے کی دوسری عورتوں کی طرح اکثر ایک محرم مرد کے ساتھ چلتی۔ وہ ایک ایسی جگہ رہتی تھی جہاں عموما غریب طبقے کے مزدور خاندان رہائش پذیرہیں۔ اس لیے قانون نافذ کرنے والوں نیاس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔

مگر بظاہرایک عام دیہاتی عورت کے روپ میں ایک خطرناک اسرائیلی جاسوس تھی جس کے ذمہ ایران کے جوہری پروگرام جیسے حساس پروجیکٹ کی دستاویزات کا پتا چلانا تھا۔کتاب کے اسرائیلی مصنفین کے مطابق محافظ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ عام خاتون اسرائیلی شہری ہے جس کے پاس انجینئرنگ کی ڈگری ہے، وہ موساد کی ایجنٹ ہے اور موساد کے لیے بوسیدہ عمارت میں موجود گودام کی معلومات اکٹھی کرنے کا ایک خطرناک ترین مشن انجام دے رہی ہے۔ اس گودام کی حفاظت پر مامور اہلکاروں نے کبھی اس خاتون پر توجہ نہیں دی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں جوہری معاہدے سے دستبرداری یا واشنگٹن کی جانب سے معاہدے میں باقی رہنے پر گرما گرم بحث عروج پر تھی جب بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیل کی ایرانی جوہری آرکائیو تک رسائی کا اعلان کیا۔اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔کتاب کے چار ابواب میں سے ایک کے مطابق اسرائیلی ایجنٹ کی تحقیقات اورشور آباد کے گودام کے بارے میں معلومات جمع کرنے سے بعد میں 24 اسرائیلی اور ایرانی ایجنٹوں کو جنوبی تہران سے جوہری ذخیرہ چرانے کے لیے بھیجنے کا منصوبہ تیار کرنے کا موقع ملا۔ وہاں سیان ایجنٹوں نے شمال مغربی ایران میں جمہوریہ آذربائیجان کے راستے تل ابیب میں موساد کا ہیڈکوارٹرتک ان دستاویزات کو ٹرکوں پر منتقل کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button