بین الاقوامی خبریں

یمن میں حوثیوں کے خطرناک رہنما کی گرفتاری کی تفصیلات پیش

صنعاء ، ۵؍ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یمن میں ایک فوجی ترجمان نے ایرانی افکار کا پرچار کرنے والے ایک اہم حوثی رہنما حسن علی یحییٰ العماد Houthi leader Hassan Ali Yahya Al-Emad کی گرفتاری کے حوالے سے تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ہفتے کے خبر رساں چینل کو دیئے گئے ایک بیان میں مذکورہ ترجمان نے بتایا کہ العماد کی گرفتاری ایک کامیاب انٹیلی جنس کارروائی کے ذریعے عمل میں آئی۔ یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد نے مآرب میں ایک بڑا فضائی آپریشن کیا جس کے دوران میں 170 حملے کیے گئے۔

مارب میں آپریشن میں مارے جانے والے حوثی کمانڈر ملیشیا کے سرغنے کے بہت قریبی ساتھی ہیں۔یمنی سیکورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی سیکورٹی فورسز نے گذشتہ ہفتے المہرہ صوبے کی زمینی سرحدی گزر گاہ پر حوثی ملیشیا کے اہم رہنما حسن علی یحییٰ العماد کو گرفتار کر لیا۔

ایرانی افکار و نظریات کے نمایاں ترجمان العماد کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بھیس بدل کر ایران سے واپس لوٹ رہا تھا۔العماد کو نظریاتی طور پر حوثی ملیشیا کے خطرناک ترین رہ نماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اثنا عشری عقائد کے حامل رہ نما نے ایک ایرانی خاتون سے شادی کر رکھی ہے اور اس کا تہران میں ایک گھر بھی ہے۔

اس کا باپ یحییٰ العماد ایران میں پرورش پانے والا ایک اہم مذہبی رہ نما تھا۔ وہ حوثی تحریک کا ایک اہم بانی رکن اور یمن میں ایرانی منصوبے کا خاص ترجمان شمار کیا جاتا ہے۔حسن علی اور اس کے بھائیوں نے اپنے والد کے ساتھ 1990کی دہائی میں ایران منتقل ہو کر قْم شہر میں سکونت اختیار کر لی تھی۔

حسن اور اس کے بھائیوں نے ایرانی اسکولوں اور مذہبی مراکز میں تعلیم حاصل کی۔ اس طرح وہ ایرانی مسلک کا پرچار کرنے والے مبلغ بن گئے۔العماد حوثیوں کے زیر انتظام تنظیموں اور خیراتی انجمنوں کا ایک مجموعہ بھی چلاتا تھا۔

یہ مجموعہ یمن میں ایرانی ایجنڈے پر عمل درامد کے واسطے کام کرتا ہے۔حسن 2011سے 2015 تک صنعا اور تہران کے درمیان منتقل ہوتا رہا۔ بعد ازاں 2016 میں وہ اقوام متحدہ کے ایک طیارے کے ذریعے تہران کوچ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button