حضرت امیر شریعت کے استعفی کے پیچھے شہریت کا سرے سے کوئی معاملہ نہیں
اسٹیٹس کسی بھی طور پر ان کی قابلیت یا بورڈ میں ان کی ذمہ داریوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔
حضرت امیر شریعت کے استعفی کے پیچھے شہریت کا سرے سے کوئی معاملہ نہیں
بنگلور( 25 نومبر 2024 )مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک اہم مسئلے پر حالیہ بے بنیاد پروپیگنڈہ اور گمراہ کن بیانات کے پس منظر میں، ہم اس معاملے کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ :
تین سال قبل، جب مسلم پرسنل لا بورڈ میں یہ رائے آئی کہ حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کو بورڈ میں شامل کیا جائے اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے تو اس وقت آپ کی شہریت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ تو اسی وقت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس مسئلے پر مکمل سنجیدگی کے ساتھ غور کیا اور ایک کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سینئر وکلا کر رہے تھے۔ اس کمیٹی نے تفصیلی جائزہ لے کر یہ فیصلہ دیا کہ حضرت کا OCI اسٹیٹس کسی بھی طور پر ان کی قابلیت یا بورڈ میں ان کی ذمہ داریوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔وكلاء كي 6 صفحات پر مبنى رپورٹ کے بعد آپ یعنی حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر ، کو ان کی قابلیت، تجربے اور قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر مسلم پرسنل لا بورڈ نے از خود رکن ، عاملہ اور پھر سکریٹری کیلئے پیش کش کی تھی اور حضرت کی رضامندی کے بعد بورڈ نے حضرت کو رکن ، عاملہ اور پھر سکریٹری بنایا تھا،جس کا اعتراف بورڈ کے موجودہ صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے بھی تحریری طور پر کیا ہے جو اُس وقت بورڈ کے جنرل سکریٹری کے فعال عہدہ پر فائز تھے۔چنانچہ 16دسمبر 2021 کو بورڈ کے موجودہ صدر محترم نے حضرت امیر شریعت سے متعلق بورڈ کے آفس سکریٹری کے نام ایک تحریری ہدایت جاری کی جس میں انہوں نے جو کچھ بھی لکھا ہے بعینهِ پورا کا پورا ملاحظہ فرمائیں ۔
"مکرمی! مولانا وقار الدین لطیفی صاحب زید مجدکم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کانپور کے اجلاس میں راقم الحروف نے ارکان کی مجوزہ فہرست میں جناب احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کا نام بھی پیش کیا تھالیکن اس پر بعض حضرات نے سوال اٹھایا کہ چوں کہ ان کی شہریت امریکہ کی ہے اس لئے وہ بورڈ کے رکن نہیں ہو سکتے ، جو قانون داں اس وقت اجلاس میں موجود تھے، وہ واضح جواب نہیں دے سکے اور طے پایا کہ اس سلسلہ میں پہلے قانونی پہلو کی تحقیق کر لی جائے ، اور اگر تحقیق میں یہ بات ثابت ہو کہ وہ ممبر بن سکتے ہیں، تب ان کو رکنیت کے سلسلہ میں خط لکھا جائے۔ راقم الحروف نے جناب یوسف حاتم مجھالہ اور جناب ایم آر شمشاد صاحب سے اس سلسلہ میں تحقیق کی گزارش کی، ان حضرات نے اپنے جواب دیئے ، جو بظاہر اطمینان بخش ہیں : اس لئے آپ رکن میقاتی اور رکن عاملہ کی حیثیت سے انتخاب کا مراسلہ ان کو بھیج دیں، اور مناسب ہوگا کہ میرا یہ خط بھی اس کے ساتھ منسلک کردیں تا کہ وہ اطلاع میں تاخیر کے بارے میں واقف ہو جا ئیں۔ والسلام”
یہ بھی واضح رہے کہ حضرت نےموجودہ حالات میں بورڈ کی اندرونی روابط، کمیونیکیشن ، فیصلہ سازی کے شفاف طریقہ کار ، بورڈ کے اہداف ، اسلاف کی فکراور امارت شرعیہ سے ہم آہنگی کے فقدان ساتھ ہی بورڈ کے صدر محترم اور جنرل سکریٹری کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی اور اعتماد پر مبنی تعلقات قائم کرنے میں درپیش چیلنجز کی بنیاد پر استعفی دیا ہے ۔ استعفی کے بعد شہریت کے مسئلہ پر جو پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے وہ تکلیف دہ ہے ، اس معاملے میں شہریت کا کوئی مسئلہ سرے سے تھا ہی نہیں۔ نہ تو اس بارے میں کوئی قانون بدلا ہے اور نہ ہی اس بورڈ کے دستور میں انڈیا کے شہری ہونے کی لازميت كى كوئى شق جوڑی گئى ہے۔ ۔ اس کے باوجود چند لوگ جھوٹے بیانات کے ذریعے ملت میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مسلمان ایک امت اور ایک جماعت ہیں۔ اتحاد اور اجتماعیت ہمارا پیغام ہے، اور امت کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ ان سازشوں کو ناکام بنانے میں مثبت کردار ادا کرے۔ ہم انتشار پھیلانے والے چند لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایسی تخریبی کوششوں سے غلط فہمی پیدا کرنے اور امت کو تقسیم کرنے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
یہ وقت ہے کہ ملت کو گمراہ کن باتوں سے بچایا جائے اور حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ ہم سب مل کر ملت کی ترقی اور اجتماعیت کے لیے کام کر سکیں۔
ساتھ ہی یہ بھی افسوسناک ہے کہ بورڈ کے اندرونی خلفشار اس حد تک پہونچ چکا ہے کہ بورڈ کے ایک سینئر رکن عاملہ اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ جناب ایم آر شمشاد صاحب نے بھی عاملہ سے استعفیٰ دے دیا ، اسی طرح کئی دہائیوں سے بورڈ کی خدمت کررہے جناب کمال فاروقی صاحب کو بھی بغیر کسی مشاورت اور کانسلنگ کے بورڈ کے عاملہ سے ہٹادیا گیا



