عوام اندیشوں کا شکار نہ ہوں، قاضیوں کو بہتر رہنمائی کا مشورہ
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ لڑکی کی شادی کے سلسلہ میں 21 سال کی عمر کا قانون ملک میں نافذ نہیں ہوا ہے لہذا عوام کو تشویش میں مبتلاء ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مختلف گوشوں سے مسلسل استفسارات کئے جارہے ہیں کہ آیا موجودہ قانون کے تحت 18 سال کی عمر میں لڑکی کی شادی کی جاسکتی ہے یا نہیں۔
صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ شہر اور اضلاع سے مسلسل ٹیلی فون کالس موصول ہورہے ہیں جس میں یہ استفسار کیا جارہا ہے کہ طئے شدہ شادیاں انجام دی جاسکتی ہیں یا نہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ مرکز نے لڑکیوں کی شادی کیلئے عمر کی حد کو 18سے بڑھا کر 21 سال کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا گیا جسے سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کردیا گیا۔
سلیکٹ کمیٹی میں شامل مختلف جماعتوں کے ارکان اس قانون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کو رپورٹ پیش کریں گے جس کے بعد دوبارہ یہ بل پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔
محمد سلیم نے کہا کہ بل کی عدم منظوری کے نتیجہ میں 18 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی شادی پر کوئی پابندی نہیں ہے اور اس سلسلہ میں قاضی حضرات کو بھی نکاح کے اہتمام میں کوئی رکاوٹ نہیں کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بل کی منظوری کے بعد صدر جمہوریہ کی منظوری ضروری ہے جس کے بعد گزٹ جاری کیا جاتا ہے۔
یہ تمام طویل مدتی مراحل ہیں اور پارلیمنٹ کی کسی بھی ایوان میں یہ بل منظور نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام میں غیر ضروری اندیشے پائے جاتے ہیں جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
وقف بورڈ کی جانب سے قاضیوں کو ہدایت دی جاچکی ہے کہ وہ نکاح کی انجام دہی میں کوئی دشواری ہونے نہ دیں۔ مرکز کی جانب سے جب کبھی بھی گائیڈ لائنس حاصل ہوں گی قاضیوں کو مطلع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت 18 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی شادی بلارکاوٹ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی جانب سے مرکزی حکومت کو اس مسئلہ پر مسلمانوں کے جذبات سے واقف کرایا جائے گا۔



