ہائی کورٹ میں ریاستی حکومت کی صفائی،ہم کوئی مداخلت نہیں کررہے ہیں
بنگلورو22فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اس دلیل کے بعد کہ جب سکھوں کو پگڑی اورانگریزکوصلیب کے ساتھ کلاس جانے کی اجازت ہے تو حجاب کی اجازت نہیں ہے،پرسرکارکے پاس جواب نہیں بن پارہاہے اور وہ یہ کہنے کی ہمت نہیں رکھتی کہ سکھوں کوبھی حجاب کی طرح پگڑی کے ساتھ جانا نہیں چاہیے۔
اب گومگو کرکے بات گھمائی جارہی ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ ریاست کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی مختلف عرضیوں کی سماعت کر رہا ہے۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے کہاہے کہ کیمپس میں حجاب پہننے پر کوئی پابندی نہیں، یہ صرف کلاس روم کے اندر ہے۔
سرکارنے یہ بھی نہیں بتای اکہ ڈریس کوڈ کا نفاذ اچانک بغیرنوٹس کے کیسے کرنا پڑا۔کرناٹک میں حجاب تنازعہ کو لے کر ہائی کورٹ میں روزانہ سماعت ہو رہی ہے۔
منگل کو سماعت کے دوران، ریاستی حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ جنرل نے کہاہے کہ ہمارے پاس کرناٹک تعلیمی اداروں کے طور پر ایک قانون (درجہ بندی اور رجسٹریشن قوانین) موجود ہے۔ اس اصول میں مخصوص ٹوپی یا حجاب پہننے پر پابندی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے مزید کہا کہ کیمپس میں حجاب پہننے پر کوئی پابندی نہیں، یہ صرف کلاس روم کے لیے ہے۔ مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہے۔ جہاں تک غیر امدادی نجی اقلیتی اداروں کا تعلق ہے، ہم یونیفارم کوڈ میں مداخلت نہیں کر رہے ہیں اور یہ اداروں پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ فیصلہ کریں۔
انھوں نے یہ نہیں بتایاہے کہ پھرنوٹس حکومت نے کیوں جاری کیاہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حجاب کہیں بھی ممنوع نہیں ہے۔ لیکن یہ لازمی نہیں ہو سکتا، اسے متعلقہ خواتین کی پسند پر چھوڑ دینا چاہیے۔



