محمد ذوالقرنین احمد
آج پہلی بار قلم کو جنبش دے رہا جوبنت حوا کے بارے میں ہے عورت کا نام بھی عورت اسلئے رکھا گیا ہے کہ کوئی چھپی ہوئی چیز اشارہ ہو لیکن آج کی خواتین ہیں کہ مرد کے شانہ بہ شانہ قدم بہ قدم چلنے کی بات کرتی ہیں کہ ہمیں تعلیم سے کیوں روکا جارہا ہیں اور ہمیں باہر نکلنے سے کیوں روکا جارہا ہے۔
لڑکیاں کہتی ہیں کہ ہمیں سماج میں برابری کے حقوق دیئے جائیں ، سوچنے کی بات ہے جب قرآن میں بھی یہ بات بیان کی گئی ہے وراثت میں لڑکے کو دو حصے اور لڑکی کو ایک حصہ دیا جائے لڑکی کو صنف نازک کہا گیا ہے اور اسے آدم کی ایک پسلی سے پید ا کیا گیا ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ عورتوں کو مرد کے مقابل نہیں رکھنا تھا۔
ایک دور وہ تھا کے خواتین برقعہ میں بہت ہی اہم اور ضروری کے کام کیلئے باہر نکلا کرتی تھی آج کی خواتین ہیں کے مرد کو گھر سنبھال نے کیلئے کہتی ہیں اور خود شاپنگ کیلئے جانے کو بڑی بات سمجھتی ہیں لیکن زرا سوچئے تو صحیح کہ اسلام کیا کہتا ہیں کے غیر محرم کو دیکھنا حرام ہیں اور آج بنت حوا کا حال یہ ہیں کے باہر بن سوار کے نکلنے کو ترجیح دیتی ہیں کے چوراہوں پر کھڑے رہنے والے ان کی طرف متوجہ ہوں۔
معاف کرنا میں آپ پر کوئی الزام نہیں دھر رہا ہوں ایک مسلم ہونے کی بنا پر میرا فرض بنتا ہیں کے میرے قوم کی بیٹی ملت کی بیٹی بے حیا ئی سے بچنے کی کوشش کرے ،یہ بات صحیح ہے کہ دین اسلام تعلیم حاصل کرنے کیلئے فرض قرار دیتا ہے لیکن بنت حوا کو یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کے کیا ہم نے دین اسلام کی تعلیمات کو سیکھا ہے-
کیا دین کے اصولوں پر قائم ہیں اور ہیں تو کتنے فیصد ہیں ہا ں اسلام نے ہر مسلمان مرد عورت کو تعلیم حاصل کرنا فرض کہا ہیں ہمارے نبی حضرت محمدﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کے علم حاصل کرو چاہے چین کیوں نہ جانے پڑے لیکن آج کی21ویں صدی کی لڑکیوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کے آج کا دور ماحول سازگار نہیں ہے کہ ایک وہ دور بھی گزر ا ہے کہ مکہ میں ایک عورت آرائش و زیبائش زیورات کے ساتھ داخل ہوتی ہیں اور حج کی سعادت حاصل کرکے واپس چلی جاتی تھی۔
لیکن کسی کی ہمت نہیں تھی کہ اسے نظر اٹھا کر دیکھ لے آج وہ دور نہیں ہے کہ لڑکیاں پوری آزادی اور اپنی حفاظت کے ساتھ کہیں پر بھی بے خوف آجاسکتی ہوں کیوں کہ اب ماحول سازگار نہیں ہے اسلئے اتنی تعلیم حاصل کرے کہ جہا ں پر اسلامی اصولوں کے ساتھ اور پردے کے ساتھ مناسب ہو۔
بے حیائی اتنی عام ہوچکی ہیں کے آج ایماں کی حفاظت کرنا بھی مشکل ہوگیا ہیں کے نظر اٹھے تو ایمان کا خطرہ ہیں نظر جھکے تو ایمان کا خطرہ ہے اسلئے آج بنت حوا کیلئے ضروری ہے کہ بے حیائی سے بچنے کیلئے ایک ہی راستہ ہے Islam is complete way of life ہے آج جس دور سے گزر رہے ہیں وہ یہ کہ گانا بجانا عام ہوچکا ہے اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں جس قوم میں گانا بجا نا عام ہوجاتا ہیں وہ قوم میں زنا ضرور پھیل کر رہیگا اور جس قوم میں زنا پھیل گیا اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
جیسا کہ ہم روز سن رہے اور پڑھ رہے ہیںکہ کسی لڑکی کے ساتھ زبردستی کی جارہی ہے تو کہیں زنابالجبر کیا جارہا ہے خواتین اپنی حفاظت کیلئے پردے کو لازم پکڑے اور ٹی وی کو گھروں سے نکال دے، اپنے گھروں میں نبیﷺ کی تعلیمات کو قرآن کی تعلیمات کو زندہ کرے۔
ذرا سوچئے کے قوم کی بیٹیوں ملت بیٹیوں کے اندر کتنی بے حیا ئی پھیل چکی ہے کہ ہر روز اک نئی خبر ملتی ہے کہ فلاں لڑکی کسی غیر مسلم کے ساتھ بھاگ گئی اور فلاں مرتد ہوچکی ہیں یہ اس دور کی نئی ماڈل دنیا اور convent کی تعلیمات ہیں جو بچپن سے انکے خالی ذہنوں کو لادینی کردیا جارہا ہے یعنی خدا کے تصور کو انکے خیالات اور دل و دماغ سے مٹایا دیا جارہا ہے۔
یہ سب اسی نئی تعلیم کا حاصل ہے کہ آج کی لڑکیوں کو وہ فاطمہؓ کے پاکیزہ اخلاق کا تعارف نہیں کرایا گیا بچپن سے انکے ذہنوں کوفلموں کی ہیروئن کا تعارف کرایا گیا اس میں غلطی ان خالی ذہنوں کی بھی نہیں ہے غلطی ماں باپ کی ہے کہ جب باپ نے گھر میں ٹی وی کو لایا اور ساتھ بیٹھ کر حرام سنتے رہے اور دیکھتے رہے آج کی ماؤں کی زندگیوں میں حضرت عائشہؓ کے پاکیزہ اخلاق نہیں رہے نہ دین اسلام کا پا س رہا۔
میری تمام ملت کی بیٹیوں سے پرخلوص التماس ہے کہ وہ گانے بجانے سننے سے بچیں ،بے حیائی سے بچیں ،حرام دیکھنے سے بچیں،نا محرم کی نظروں سے بچیں ، پردہ اور برقعہ کو لازم پکڑے۔



