ماں کی آخری رسومات کے لیے پیسے نہیں تھے،بیٹے نے ماں کی میت 4 دن تک پلنگ کے نیچے چھپا رکھی
ذرائع کے مطابق نکھل کی بیوی اور اس کا بیٹا بھی گھر میں رہتے تھے لیکن 15 دن قبل اس کی بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے میکے چلی گئی کیونکہ
گورکھپور :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اپنی 82 سالہ ماں کی موت کے بعد، ایک 45 سالہ بیٹے نے اس کی نعش کو اتر پردیش کے ضلع گورکھپور کے شیو پور شہباز گنج میں ایک پلنگ کے نیچے چھپا کر رکھ دیا۔ بدبو سے بچنے کے لیے وہ اگربتیاں جلاتا رہا۔ پڑوسیوں کی جانب سے گھر سے بدبو آنے کی شکایت پر پولیس نے نعش برآمد کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ پڑوسیوں نے منگل کو گھر سے بدبو آنے کی اطلاع پولیس کو دی جس پر پولیس نے نعش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) نارتھ، منوج کمار اوستھی نے بتایا کہ منگل کو گلریہا پولیس کو ایک خاتون کی موت کی اطلاع ملی اور موقع پر پہنچ کر پولیس کو شانتی دیوی کی نعش ملی۔
پولیس کے مطابق نعش چار سے پانچ دن پرانی بتائی جاتی ہے۔خاتون ریٹائرڈ ٹیچر تھی اور نوجوان اس کا اکلوتا بیٹا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پیسے کی کمی کی وجہ سے اس نے یہ حرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ کا بیٹا نکھل مشرا عرف ڈبو شراب کا عادی ہے اور ذہنی طور پر بھی غیر مستحکم ہے اور صحیح جواب دینے کے قابل نہیں ہے۔بیٹے نکھل کا رویہ خراب تھا، کرایہ دار گھر چھوڑ کر چلے گئے۔
پولیس افسر نے بتایا، ’’تفتیش کے دوران بیٹے نے بتایا کہ اس کی ماں کا انتقال پانچ دن پہلے ہوا تھا، لیکن آخری رسومات کے لیے پیسے نہیں تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق نکھل کی بیوی اور اس کا بیٹا بھی گھر میں رہتے تھے لیکن 15 دن قبل اس کی بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے میکے چلی گئی کیونکہ نکھل کا اس سے اکثر جھگڑا رہتا تھا۔ مکان میں کچھ کرایہ دار بھی رہتے تھے لیکن نکھل کے رویے کی وجہ سے وہ بھی ایک ماہ قبل گھر چھوڑ کر چلے گئے۔پولیس ہر زاویے سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔



