ہما میرحسین
یہ لڑکی اس وقت کہاں جارہی ہے؟ یہ جو شخص گاڑی سے اتراہے، اس کے پاس گاڑی کیسے آئی؟ ضرور دال میں کچھ کالا ہے اس کی خبر لینی چاہیے۔ یہ ہے تانک جھانک کا کاروبار… جس میں وقت کا ضیاع اور دوسروں کو ایذا دینے کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔آج کل کچھ مرد حضرات بھی زیتون خالہ بنے پھرتے ہیں۔انکے پاس کچھ کام ہوتا نہیں۔دن بھر غیبتوں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہیں۔
جب کوئی فرد اپنی منفی سوچ کے باعث دوسروں کے معاملات کو دزدیدہ نگاہوں سے دیکھے تو اس کو ’’تانک جھانک‘‘ اور دوسروں کی ٹوہ لینا کہتے ہیں۔ ایسے کئی لوگ ہمارے ارد گرد موجود ہوتے ہیں جو دوسروں کی حرکات وسکنات اوربول چال میں خواہ مخواۃ دلچسپی لیتے ہیں۔
گھریلوعورتوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں اس بات کی ہمیشہ فکرہوتی ہے کہ دوسرے کے گھر میں کیا ہورہا ہے، کس نے کیا پکایا ہے اور کس کے شوہر نے اپنی بیوی کو پیٹا۔
اسے ’’گونگی بدمعاشی‘‘ بھی کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔ آخر لوگ دوسروں کی ٹوہ کیوں لیتے ہیں؟ اگر تانک جھانک کے مرتکب فرد سے پوچھا جائے کہ اپنی فکر چھوڑ کر اسے پرائے کی فکر کیوں رہتی ہے؟ اس کے پاس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔
اسی بچکانہ اور کسی حد تک مجرمانہ حرکت کے نتیجے میں کئی ایک اندوہناک واقعات جنم لیتے ہیں۔ چند برس قبل ممبئی میں ایک نوبیاہتا جوڑےنے ایک محلے میں گھرلیا اوروہاں رہائش اختیار کی۔ ایک دن بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمیں یہاں کوئی دیکھ رہا ہے۔ شوہر نے کمرے کی دیوار کو دیکھا تو ایک جگہ اسے اینٹ تھوڑی کھسکی ہوئی دکھائی دی، یہ ایک جھڑی سی بنی ہوئی تھی۔
وہ سمجھ گیا کہ دوسرے گھر سے کوئی اس سوراخ سے تانک جھانک کرتا ہے۔ شوہر نے کہا کہ تم ایک رقعہ لکھو… اس نے لکھوایا کہ ’’رات کو میں اکیلی ہوتی ہوں تم آجانا، دستک دینا میں دروازہ کھول دوں گی‘‘ بیوی نے وہ رقعہ لکھ دیا،
شوہر نے وہ رقعہ اس سوراخ میں رکھ دیا ۔ کچھ ہی دیر بعد دوسری جانب سے کسی نے وہ اٹھالیا، اب رات کو دونوں میاں بیوی انتظار کرنے لگے۔ اتنے میں دستک ہوئی، جب دروازہ کھولا تو ایک نوجوان اندرداخل ہوا۔دروازے کے پیچھے چھپا شوہر تیار تھا۔
اس نے لڑکے کے سرپرہتھوڑے سے وار کیا اور لڑکا جان سے ہاتھ دھوبیٹھا۔ بعد ازاں دونوں میاں بیوی نے گڑھا کھود ااور اس کی لاش کو دفنا دیا۔ کچھ ہی عرصے بعد پولیس نےسراغ لگالیا اور دونوں میاں بیوی کو گرفتار کرکے ان کی نشاندہی پر لاش برآمد کر لی۔ سویہ ایک المناک انجام تھا۔
اس مذموم حرکت کا جس کا مرتکب وہ نوجوان تھا۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ گلی محلوں میں رہنے والی عورتیں جب آپس میں جھگڑا کرتی ہیں تو ایک دوسرے کے ایسے ایسے بھید طشت ازبام کرتی ہیں کہ جس کی خبر کسی کو نہیں ہوتی۔
وہ اپنی تانک جھانک کی زنبیل سے نئے نئے انکشافات نکالتی ہیں اور ایک دوسرے کے منہ پرمارتی ہیں۔ ایک فیملی میں نند بھاوج میں جھگڑا اس بات پر ہوا کہ بھابھی کے پاس اتنا مہنگا لباس کہاں سے آیا؟ کیونکہ بھائی کی اتنی تنخواہ تو ہے نہیں۔
بھابھی کا کہنا تھا کہ یہ میراذاتی مسئلہ ہے، نند کیوں ٹوہ لے رہی ہے؟ ایک گھر میں کھانے کے معاملے پر جھگڑا طول پکڑ گای کہ فلاں کا شوہررات کو مچھلی لے کرآیا تھا لیکن اس نے باقی خاندان کو کیوں نہیں بتایا؟ کالج اوریونیورسٹیز میں بھی لڑکیاں ایک دوسرے کی ٹوہ میں رہتی ہیں،تانک جھانک کا مظاہرہ گرلز کا لجز اورہوسٹلز کے باہر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
جہاں کالج کی لڑکیوں کو تاڑنے کے لئے آئے ہوئے اوباش لڑکے نظر رکھتے ہیں کہ کون کس کے ساتھ جارہی ہے؟ یہاں تک کہ کالج کے گیٹ کے باہر مختلف اشیاء کے اسٹال لگانے والے مرد بھی اپنی دکانداری کے ساتھ لڑکیوں پرنظر رکھنے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو صرف کالج اورگلی محلوں میں تانک جھانک نہیں ہوتی، مختلف اداروں اور دفاتر میں بھی لوگ ایک دوسرے کی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کون کب آیا؟ کب جارہا ہے؟ خواہ افسر کو اس بات کی پرواہی نہ ہو۔ آفس میں کام کرتے ہوئے اپنے کام سے زیادہ دوسروں کے کاموں پردھیان دیاجاتا ہے۔
اگر آفس میں لڑکیاں ہوں تو مرد کولیگز اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں کہ لڑکی کے تمام کاموں پر نظررکھی جائے۔ کس کے ساتھ ہنس کر بات کررہی ہے، لنچ ٹائم کس کے ساتھ گئی ہے یا باس نے اسے کتنی باربلایا؟ بعض پڑھے لکھے مرد بھی گلی محلوں کی ٹوہ باز عورتوں سے کم نہیں ہوتے۔
دوسروں کی زندگیوں پرنظررکھنا ، کیا یہ حسد کی کیفیت ہے؟ اس حوالے سے ڈاکٹر شبانہ احمد کہتی ہیں’’کسی حد تک تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ حسد کرنے کی ہی ایک کیفیت ہے کہ دوسرے کے پاس جوہے وہ میرے پاس کیوں نہیں ہے یا دوسرے کے پاس اتنا کچھ آرہا ہے تو کیسے آرہا ہے؟
دوسروں کی زندگی کے بارے میں جاننے کے لئے بعض عورتیں اپنی زندگی مشکل میں ڈال لیتی ہیں‘‘۔ بعض افراد کے لئے کسی کی ٹوہ لینا دلچسپ مشغلہ ہوتا ہے، انہیں دوسروں کے بارے میں جاننے اور اسے بڑھ چڑھ کربیان کرنے میں بہت مزا آتا ہے۔
ایک گھریلو خاتون سے جب پوچھا گیا کہ وہ کیوں ہر وقت اپنے گھر کے دروازے پربیٹھی ہرآتے جاتے پرنظر رکھتی ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا میں کسی پرنظر نہیں رکھتی، میں تو ٹائم پاس کرنے کیلئے بیٹھ جاتی ہوں اور اس دوران محلے داروں سے گپ شپ بھی ہوجاتی ہوں۔
جبکہ باقی محلے دار اس خاتون کی ٹوہ لینے کی عادت سے بہت الجھن کا شکار رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان سے بچ کریا راستہ بدل کر گھر جاسکیں۔ کہا جاتا ہے کہ اکثر تنہائی یا احساس کمتری کا احساس بھی لوگوں کو دوسروں کی ٹوہ لینے پر مجبور کردیتا ہے۔
تانک جھانک کی عادت کو انسانی جبلت بھی کہا جاتا ہے۔ تانک جھانک کی عادت دور کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہیے کہ دوسروں کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کریں اوراپنے کام سے کام رکھیں۔ کوشش کریں کہ مصروف رہیں، جیسے اگر اپنی فٹنس کے معاملے میں سستی کررہے ہیں تو روزانہ کی بنیاد پر جم جانا شروع کردیں۔
لوگوں کے ساتھ میل جول بڑھائی، زندگی کے مثبت پہلووئوں پرنظررکھیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ اپنی بہت سی نا پسندیدہ عادتوں سے چھٹکارا حاصل کرلیں جیسے تانک جھانک کرنا اور دوسروں کو ٹوہ لینا۔



