بین ریاستی خبریں

 کیرالہ کے مشہور پدمنابھسوامی مندر ٹرسٹ کا آڈٹ کیا جائے گا: سپریم کورٹ

نئی دہلی ،22؍ ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے آج ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ کیرالہ کے مشہور پدمنابھسوامی مندر ٹرسٹ کا آڈٹ کیا جائے گا۔ 25 سال سے ٹرسٹ کے آڈٹ کے حکم کی پابندی والی درخواست خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ ٹرسٹ آڈٹ سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ سال 2020 کا حکم نہ صرف مندر بلکہ ٹرسٹ پر بھی نافذہوتا ہے۔
اس کے ساتھ سپریم کورٹ نے تین ماہ میں آڈٹ مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔دراصل پدمنابھا سوامی مندر کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور مندر کو دی جانے والے عطیات اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ پدمنابھسوامی مندر کی انتظامی کمیٹی نے یہ معلومات سپریم کورٹ کو دی ہے۔
انتظامی کمیٹی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ آر بسنت نے عدالت کو بتایا کہ کیرالہ کے تمام مندر بند ہیں ، جبکہ اس مندر کا ماہانہ خرچ تقریباسوا کروڑہے ، جبکہ اس وقت صرف 60-70 لاکھ روپئے ہی عطیات کے بطور مل رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مندر کو آسانی سے چلانا ممکن نہیں ہے۔
اس لیے ٹرسٹ کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ٹرسٹ کے آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے انتظامی کمیٹی نے الزام لگایا کہ ٹرسٹ آڈٹ کے لیے اپنا ریکارڈ فراہم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ٹرسٹ عدالت کے حکم پر بنایا گیا ہے۔
اس لیے اسے بھی مندر میں تعاون دینا چاہیے۔ 2013 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ٹرسٹ کے پاس 2.87 کروڑ روپئے نقد اور 1.95 کروڑ روپئے کے اثاثے ہیں ، لہٰذا فی الحال ٹرسٹ کے پاس موجود صحیح رقم کا اندازہ لگانے کے لیے آڈٹ کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button